اے دل ہے مشکل

اے دل ہے مشکل
فلم کی دنیامیں کچھ کہانیاں فرض کرکے لکھی جاتی ہیں، مگر وہ کسی حقیقت پر مبنی بھی ہوسکتی ہیں۔ نہ جانے کیوں ”اے دل ہے مشکل” دیکھ کر یہی خیال وارد ہوا۔ اس کی کہانی کامرکزی خیال، وہ دوستی ہے، جس کو عشق کی پوشاک میں لپیٹ کر دکھایاگیاہے۔ جذبوں کی سردی گرمی کے موسم، اس کہانی سے ہوکر گزرے ہیں۔ احساسات کے اتارچڑھاؤ سے کہانی کوباندھ کر اس طرح پیش کیا گیاہے کہ فلم بین بھی بندھے رہیں گے، جب تک پوری کہانی سمجھ نہ لیں گے۔

ایک انتہائی روایتی انداز میں، کمرشل مقاصد کے تحت بنائی گئی، اس فلم نے بھی دل کے تاروں کو چھیڑدیاہے، یہ کمال کی بات ہے، ظاہر ہے، کمرشل چیزیں بنانے والے لوگ بھی تو انسان ہی ہوتے ہیں، کہیں نہ کہیں ان کا اپناپن بھی توچھلک پڑتاہوگا۔ یہی وجہ ہے، فلم میں کئی جگہ بے جا مناظر اور مکالموں کے باوجود کہیں کہیں دل کٹ سا گیا، کچھ مکالمے جان لیوا ہیں۔

کیا ہی اچھا ہوتا، اس فلم کو دوملکوں کی محبت کی علامت بھی بنا دیا جاتا، مگر افسوس نفرت انڈیل کر اپنی ہی بہترین کاوش کی تاثیر کوبالی ووڈ نے زائل کر دیا۔ ان تمام نفرتوں کے باوجود فلم سے نہ تو محبت کم ہوئی اورنہ پاکستانیت، نفرت کرنے والے کیاجانیں، تاثیر کی مار کیاہوتی ہے۔ اس فلم میں یہی مار ہے، جس کی ضربیں کبھی کبھی روح پر بھی پڑیں، مکالمے حروف کی معنویت میں پگھل کر اظہار میں کیا ڈھلے، ایسا محسوس ہوتاہے، کوئی سیال مادہ روح میں اتارا جا رہا ہے، اس آتشِ خیال کے بعد کہنے کو باقی کیا رہ جاتا ہے، پھر بھی بیان کیے دیتے ہیں۔

کہانی

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔ وہ اس فلم کے ہدایت کار اور شریک فلمسازبھی ہیں۔ کہانی کے مکالمے تخلیق کرنے میں “نرانجان لینگر” نے ساتھ نبھایا اوربہت حد تک اپنی کاوش میں کامیاب رہے، البتہ فلم کی کہانی میں کرن جوہر نے ماضی کی طرح، انگریزی ادب اورفلموں سے استفادہ کرنے کی روایت بھی برقرار رکھی، حیرت انگیز طورپر اس فلم کے لیے پاکستانی شعروادب سے بھی خوب استفادہ کیا۔

فلم کی سب سے جاندار چیز اس کی کہانی ہے، جس کے مرکزی خیال کو ”کرن جوہر” نے تراشا۔

اس فلم کی کہانی میں، پروین شاکر کے شعر”یہ بازی عشق کی بازی ہے”کاعکس بھی مکالموں میں کہیں کہیں دکھائی دیا، فیض احمد فیض کی غزل “مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ” کے گہرے رنگ بھی مکالمات میں نچھاور کیے گئے۔ فیاض ہاشمی کی “آج جانے کی ضد نہ کرو” کی صدائیں بھی جگائی گئیں، فواد خان اورعمران عباس نے اپنی اداکاری سے دل کو بھی موہ لیا۔ مرکزی کرداروں میں آیان، الیزے خان، صباخان، طاہر خان، ڈاکٹر فیصل، ڈی جے علی، جیسے مانوس نام بھی کہانی کا حصہ بنے، فریدہ خانم کی گائی ہوئی مدھر غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو”عجیب مگر بے حد لطف دیا۔ بلھے شاہ کا ذکر بھی آیا، مگر افسوس، مکمل جذبات کی فلم میں کئی کریڈیٹ ادھورے رہ گئے، کسی کاتذکرہ ملا اور کسی کانہیں، محبت کے احساس پر بننے والی فلم میں کافی کچھ نفرت کی نذرکر دیا گیا۔ اس کے باجود کہانی کااثر ابھی تک باقی ہے۔

کردار

کمرشل اداکاروں میں، رنبیرکپور مکمل اداکار ہے، نہ جانے ایک گلوکار کے کردار میں یہ کیوں اتنا جچتا ہے، اس طرح کے کردار وہ اپنے فلمی کیرئیر میں پہلے بھی ادا کر چکا ہے۔ اس سے قبل فلم “راک اسٹار” میں رنبیر نے 'جے جے' کے کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کامظاہرہ کیا۔ حسب توقع فلم کی کہانی میں جس قدر ٹوٹ کر جذبات کابیان چاہیے تھا، اس کو وہ ہی ادا کر سکتا تھا، اس کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

رنبیر کی اداکاری میں تصنع نہیں، اس کے اداکیے ہوئے مکالموں پریقین کرنے کو دل کرتا ہے۔

انوشکا شرما کی اداکاری ایک خاص بناوٹی انداز کی ہے، اس کی پہلی فلم”رب نے بنادی جوڑی”سے لے کر آج تک اس میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی، مگر نہ جانے کہانی کا اثر تھا، جو اس فلم میں کہیں کہیں جذبات اس کی بناوٹ پر غالب آ گئے۔ حیرت انگیز طور پر ایشوریہ رائے نے اچھی اداکاری کامظاہرہ کیا، فلمی دنیا میں طویل عرصے بعد واپسی کا کرشمہ بھی ہے، اس نے اپنے تئیں کردار کو خوب نبھایا۔ فواد خان نے بھی اپنے مختصر لیکن مرکزی کردار میں اپنی اداکارانہ صلاحیتوں کابھرپور مظاہرہ کیا۔ مہمان اداکاروں میں شاہ رخ خان، عمران عباس، لیزاہیڈون، عالیہ بھٹ نے بھی اپنے کردار بخوبی نبھائے۔

رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے

رنبیر اور ایشوریہ نے اپنے کردار بخوبی نبھائے

فلمسازی و ہدایت کاری

فلم سازی کے شعبے میں تین پروڈیوسروں، اپرووا مہتا، ہیرویش جوہر اور کرن جوہر نے مل کر یہ فلم بنائی، سوکروڑ کے بجٹ میں تین بڑے شہروں، ویانا، پیرس اور لندن میں اس کی عکس بندی کی۔ تمام لوکیشن کرن جوہر کی دیگر فلموں کی طرح خوبصورت اور رومانوی تھیں۔ فلم کی ہدایت کاری میں کہیں کہیں جھول دکھائی دیئے، جیسے فلم کی ہیروئن کاتعلق لکھنو کے ایک مسلمان خاندان سے دکھایا گیاہے، مگر فلم میں اس کے کردار میں نہ تو مسلم ثقافت کا کوئی شائبہ محسوس ہوا اور نہ ہی وہ لکھنو والی کوئی بات دکھائی دی۔ ہدایت کاروں کے ذہن سے ـ”رب نے بنادی جوڑی“والی انوشکاشرما نکل نہیں رہی۔ اس لیے وہی اکھڑا اور دوٹوک انداز باربار دہرایا جاتا ہے۔

موسیقی

فلم کے موسیقار “پریتم”ہیں، جن کی صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا تو ناانصافی ہوگی، لیکن اس موسیقار کے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ یہ دوسرے لوگوں کی چیزوں پر ہاتھ صاف کرنے کے بھی ماہر ہیں، بغیر کریڈٹ کے کافی کچھ اپنے نام سے بالی ووڈ میں جعلی نوٹ کی طرح بغیر بتائے چلا دیتے ہیں، جس طرح اس فلم میں انہوں نے ایک معروف پاکستانی غزل ”آج جانے کی ضد نہ کرو” کے ساتھ کیا۔ فلم کی تشہیر میں اس گیت کا کہیں تذکرہ ہی نہیں، بس اس کو ذرا ری میکس کر کے اپنے کھاتے میں ڈال لیا، یہ کوئی اچھی بات نہیں، جبکہ اس فلم کے دیگر گیت اچھے ہیں، البتہ کسی کا کریڈٹ ہے، تو وہ دینے میں بخل سے کام نہیں لینا چاہے، نہ جانے پریتم یہ ہنر کب سیکھ پائیں گے۔

گلوکاروں اورگیت نگاروں نے اپناکام بخوبی اداکیاہے، گلوکاروں میں ارجیت سنگھ امیت مشرا، شلپا راؤ، جونیتا گاندھی، بادشاہ، نقش عزیز، پردیپ سنگھ سرن، ایش کنگ اورششویت سنگھ نے اپنی آوازوں سے گیتوں کو سجایااورگیت نگاروں میں بالخصوص مرکزی گیت ”اے دل ہے مشکل” کے گیت نگار ”امیتابھ بھٹاچاریہ” نے خوب لکھااوردوسرے گیت ”بلھیا” کی گیت نگاری اوردھن نے دل کو چھو لیا۔ ان تمام گیتوں کی دھنوں سے لے کر عکس بندی تک سب اچھا کی رپورٹ ہے۔

رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں

رنبیر ایک گلوکار کا کردار بخوبی نبھاتے ہیں

حرف آخر
فلم نے ریلیز سے پہلے ہی مقبولیت حاصل کر لی تھی، کیونکہ رواں برس پاکستان اور انڈیا کے مابین تلخیوں نے زور پکڑا، توساران زلہ پاکستانی فنکاروں پر اترا، جس میں سرفہرست، یہ فلم متاثر ہوئی۔ کرن جوہرنے بڑی منتوں سماجتوں کے بعد، انڈیامیں سیاسی پنڈتوں سے اس فلم کو ریلیز کرنے کی اجازت لی، اس طرح یہ فلم ریلیز ہوئی اورباکس آفس پر اپنی کامیابی کے جھنڈے گھاڑ دیے۔ لکھنوکے علاوہ، لندن، پیرس اورویانامیں فلمائی جانے والی فلم کے پس منظر بھی انتہائی حسین اور کہانی کے لحاظ سے رومانوی تھے، جنہوں نے کہانی کا حسن مزید نکھار دیا۔ فلمی ناقدین نے یہ بھی کہا، یہ فلم کرن جوہر کی گزشتہ دو فلموں “کل ہو نہ ہو”اور”کبھی الوداع نہ کہنا”کا سیکوئل محسوس ہوئی۔ میرے خیال میں کرن جوہر اپنی ہر فلم ایک احساس سے دوسرا احساس تراش کربناتے ہیں، اس لیے ان کی فلموں مسابقت محسوس ہوتی ہے۔

اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔

آپ نے زندگی میں کوئی ایسا دوست بنایا ہے، جو کسی محبوب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہو اور پھر اسے کئی بار کھویا اور پایا بھی ہو، خاص طور پر وہ آپ کی بے وقوفیوں کا ہم راز ہو، دیوانگی کے احساس سے بھی واقف ہو، مگر آپ کی سمت آنے کی بجائے، مخالف سمت کی طرف چلا جائے، تو سمجھ لیں، یہ فلم آپ کے دیکھنے کی ہے، اس فلم کو دیکھتے ہوئے دماغ کی بتی بند اور دل کاجگنو ٹمٹماتا رہے گا توفلم اورلطف دے گی، اس بات کی ضمانت ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khurram Sohail

Khurram Sohail

Khurram sohail is a journalist and researcher. He regularly writes on performing arts and literature for various magazines, newspapers and websites. Several books containing his writings on music, art and literature have been published. Readers can contact him at: khurram.sohail99@gmail.com


Related Articles

جالب کی برسی یا سیاسی جلسہ

تیرہ مارچ کو حبیب جالب کی برسی تھی، ایک ایسے شاعر کی برسی جو صحیح معنوں میں عوامی شاعر تھا جس کے بارے میں سید سبطِ حسن نے لکھا تھا کہ نظیر اکبر آبادی کے بعد کوئی عوامی شاعر تھا تو جالب ہی تھا۔

"مولے نو مولا نا مارے تے مولا نہیں مر سکدا"

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے حامد میر کے کو ایک ٹی وی انٹرویو دیا جس میں اپنی سیکیورٹی کے سوال پر انہوں نے کہا،"مولے نوں مولا نہ مارے تے مولا نہیں مر سکدا"۔

کھیتران کی ثقافت کا تصویری تعارف

کھیتران ایک بلوچ قبیلہ ہے جو بلوچستان کے ضلع بارکھان اور پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں صدیوں سے مقیم ہے۔