اے میری سہیلی

اے میری سہیلی
مائی ڈیر سہیلی!
ارے میں نے سنا ہے تم شادی کرنے جا رہی ہو؟ مبارک ہو بہت۔ تمہارا فیصلہ ہے تو کچھ سوچ کر ہی کیا ہوگا تم نے۔ لیکن میری مانو تو ایک بار پھر سوچ لو کیونکہ شادی کے بعد یہ آزادیاں نصیب نہ ہوں گی۔ ابھی تو اماں باوا کی راج دلاری ہو، ہل کر پانی نہیں پینا پڑتا لیکن شادی کے بعد یہ چونچلے نہیں چلتے۔ چلو چھوڑو اب تم نے فیصلہ کر ہی لیا تو کیا تمہارا دل برا کرنا۔ اور سناؤ کب ہو رہی ہے شادی؟ کیسی تیاریاں ہیں؟ ارے بھئی پارلر کی بکنگ تو تین سے چار ماہ پہلے ہی کروانی ہوتی ہے ورنہ اچھے پارلر میں تو جگہ نہیں ملتی بہت رش ہوتا ہے نا۔ فوٹوگرافر کو بھی ابھی ہی بُک کر لو وہ جو بڑا مشہور ہے نا اس سے ہی بات کرنا کوئی شادی روز روز تھوڑی ہوتی ہے۔ اور شادی میں اس سب کے علاوہ اور رکھا ہی کیا ہے، کپڑے ، جوتی، تیاریاں، ڈھول ڈھمکا، ہلا گلا۔۔۔ اس کے بعد تو بس۔۔۔

میں تو شادی میں شریک نہیں ہو سکوں گی، ان کو چھٹیاں نہیں مل سکتیں اور میں انہیں ساس نندوں کے ساتھ اکیلا چھوڑ نہیں سکتی، کلموہیاں کان بھرنے لگتی ہیں میرے خلاف۔ بچوں کے اسکول اور آئے دن کے ٹیسٹ نظرانداز بھی کر دوں پر ساس کے طعنے تشنے، نہ بابا نہ! اچھا سنو تمھاری کوئی ساس تو نہیں ہیں؟ یا غیر شادی شدہ نندیں؟ میری تو دعا ہے اللہ کرے ساس نہ ہو اور اگر ہے بھی تو تمہارے جانے سے پہلے ہی۔۔۔ پتا نہیں یہ ساسیں کیوں ہوتی ہیں۔ ویسے تو نندیں بھی نہیں ہونی چاہئیں پر چلو کبھی نہ کبھی وہ شادی کر کے جان چھوڑ ہی دیتی ہیں۔

سچ مانو تو مجھے تم سے اس بےوقوفی کی توقع ہرگز نہیں تھی (حالانکہ میں خود یہ بےوقوفی کر چکی ہوں) اس لیے اپنے تجربے کی بنیاد پر بتا رہی ہوں کہ شادی کا تو بس نام ہی سہانا ہے ورنہ حقیقت تو یہی ہے کہ شادی چار دن کی چاندنی ہے۔ چار دن توجہ ملے گی، نئی نئی بیوی کے ناز نخرے ہوں گے اور پھر اس کے بعد گھور سیاہ اندھیری رات۔شادی زندگی کی وہ شروعات ہے جس کی عمر انتہائی مختصر ہوتی ہے، بس ہنی مون سے واپس آتے ہی زندگی کی سہانی صبح ختم اور حقیقت کی تلخ دوپہر شروع۔ شادی کے بعد تو نہ دن اپنا نہ رات، نہ اپنی خوشی نہ اپنی ہنسی، نہ مرضی کے پہناوے نہ مرضی کے کھانے، نہ موج مستی نہ ہلا گلا۔ ماں باپ کی لاڈلی جس کے ایک اشارے پر بستر پر سب لوازمات موجود ہوتے اور ایک یہ دن گھر بھر کی باندی۔ کسی کو چائے دینی ہے کسی کو پانی، درجن بھر روٹیاں بھی پکانی ہیں اور چار چار کلو آٹا بھی گوندھنا ہے۔ آئے دن سسرالیوں کی دعوتیں اور سارے مسالے ہاتھ سے ہی پیسنا، برتنوں کے انبار دھونا اور ڈھیروں ڈھیر کپڑے دھونا۔ اور ان سب خدمتوں پر بھی ساس نندیں نالاں اور شوہر بے زار۔ سارا دن کام میں لگی رہتی ہوں نہ بننے سنورنے کا وقت ملتا ہے نہ خود پر توجہ دینے کا۔ شوہر کو شادی سے پہلے والی سجی سنوری ریشمی سلکی بیوی چاہیے تو ساس کو اسی روپ سے نفرت۔ ساس کو بس شیشے سا چمکتا گھر چاہیے اور اس کے لیے وہ اپنی جوانی کے مبالغہ آمیز قصیدے سناتی نہیں تھکتیں ( حالانکہ سبھی کہتے ہیں میرے آنے سے پہلے اس گھر میں گدھے لوٹتے تھے)۔ ساس کو مسالے تمام گھر کے اورہاون دستےپر پسے ہوئے چاہئیں، کوفتے کباب سل بٹے پر پسے ہوئے کہ مشین سے ریشہ نہیں آتا، اور شوہر صاحب کو انھی لہسن ادرک کی بو سے چڑ اور کھردرے ہاتھ پیروں سے بیر۔ میرے پاس خود پر توجہ دینے، اپنے وزن کو کم کرنے اسکن کو چمکانے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ ایک بار موئے کھیرے کاٹتے دو کھیروں کے ٹکڑے چھپالیے۔ کمرے میں سب سے چھپ کر ان کاکچومر بنا کر ماسک لگایا، لیکن پتا نہیں کیسے ان کو خبر لگ گئی کہ آج تک ساس سے اس کے طعنے سنتی ہوں۔ نندوں کو سے بآواز بلند کہہ کر خاص مجھے سنوایا جاتا ہے کہ ان چلتروں سے میں نے میاں کو قابو کر رکھا ہے۔ اور میاں جی ہیں کہ شادی بیاہ تقریبات میں دوسروں کی بیویوں کو چوری چوری تکتے اور نوجوان لڑکیوں کو چھپ چھپ کر دیکھتے پائے جاتے ہیں موصوف۔ کبھی میں جو کسی تقریب میں اچھا سا تیار ہوجاؤں تو ان کو لگتا ہے کونین کی گولی گھل گئی ہے منھ میں ۔ فوراً جل جاتے ہیں اور جو پوچھ بیٹھوں کیسی لگ رہی ہوں توایسی اذیت بھری تعریف کرتے ہیں کہ جان جل جاتی ہے۔ ہائے! میری قربانیوں کی تو کوئی قدر نہیں۔

میری بہن! ساس نندوں پر تو کیا موقوف یہ شوہر ہی کیا کم ہوتے ہیں ستانے، جلانے، تڑپانے ، کلیجہ سلگانےاور آگ لگانے کو۔ شوہر سے بے مروت تو کیا کوئی مخلوق دیکھی ہوگی کسی نے۔ شوہر کے گھر میں سب کچھ اس کا اپنا ہے، گھر بھر کا سارا سازوسامان، بال بچے سب اس کی ملکیت اس کی آنکھ کا تارا اور بیوی آنکھ کا شہتیر۔ وہ تو مشہور محاورہ ہے نا کہ بچے اپنے اور بیوی غیر کی پیاری، تو بس یہی حال ہے۔ دوسروں کی بیویوں سے بات کے بہانے ڈھونڈنا، سامنا ہوجائے تو ہنس ہنس کر باتیں کرنا۔ مجھ سے تو کبھی نہیں کرتے ایسے پیار محبت سے بات چیت، بس اپنے مطلب کے لیے ہی آتے ہیں اور مطلب پورا ہو کر تو کون تو میں کون۔ ایسی گونگی خاموشی کی مار مارتے ہیں کہ بیوی تڑپتی رہے اور فریاد بھی نہ کر سکے۔
تمھیں تو یاد ہے نا کیسی دبلی پتلی حسین و جمیل ہوتی تھی میں ( تم سے بھی زیادہ) اور اب جو یہ موٹی تازی عورت کا روپ ہے یہ بھی مانو شادی کی ہی دین ہے۔ شادی کے بعد لگاتار چار بچوں نے ساری دلکشی ہی چھین لی۔ ایک تو موٹاپا اس پر سارے گھر کے کام کاج۔ شوہر کو کبھی احساس ہی نہیں ہوتا کیسی گڑیا سی لڑکی بیاہ کر لائے تھے چھوئی موئی سی اور اب کیا حال کر دیا ہے میرا۔ ذرا ذرا سی چیز کے لیے ان کی رائے کی منتظر، ان کی ایک پیار بھری نگاہ کے لیے ترستی میں، وہ چاہیں تو مشرق، نہ چاہیں تو مغرب، صبح ان کی شام ان کی میرا کیا! کہاں جانا ہے، کیوں جانا ہے، کیسے جانا ہے، خرچ کتنا ہوجائے گا، ہر بات میں ان کی ہزار جرح اور ردوقدح۔ سہیلیوں سے ملنا، لائبریری جانا، کتابیں پڑھنا، سنیما جانا چھوٹا، وہ ادبی شامیں، موسیقی کے کانسرٹ، لان کاٹن کھدر کی ایگزیبیشنز ہائے سب خواب و خیال ہوگئے۔ اب تو بس دن رات کے جھمیلے ہیں۔ ساس نندوں کی پھاپھا کٹنی چالوں سے بچنے اور اپنے گھر والوں کی قدرومنزلت بڑھانے کے حربے سوچتے شب و روز گزرتے ہیں۔

میری عزیز از جان میں تو تمھارے مستقبل کے لیے ابھی سے پریشان ہوگئی ہوںمیری مانو تو اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لو۔ کیونکہ شادی نہ کرنے پر جو کچھ بھی معاشرے سے سننے کو ملتا ہے وہ اس سب کے آگے کچھ نہیں ہے جو شادی کے بعد سننے کو ملتا ہے۔ آگے تمہاری مرضی ہے میں تمھاری خوشی میں خوش ہوں۔

فقط تمھاری دوست
جو کبھی ایک خوش باش لڑکی تھی۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Humaira Ashraf

Humaira Ashraf

Humaira Ashraf, an unknown soul in search of her real identity, is an editor and lexicographer by profession. She believes in humanity & love that transcend all barriers of country, creed and colour.


Related Articles

زہریہ ٹاون

جعفر حسین: دس منٹ بعد ملک صاحب تشریف لائے۔ ان کے چہرے پر "نور" معمول سے کچھ زیادہ تھا۔ انہوں نے چارپائی پر نیم دراز ہوتے ہوئے سگریٹ سلگایا تو چرس کی مسحور کن خوشبو پوری بیٹھک میں پھیل گئی۔

اندرونیت کو انصاف کب ملے گا؟

گیارہ سالہ اندر ونیت کا جرم یہ ہے کہ وہ ہندو ہے، اس لیے اسے انصاف فراہم کرنا ضروری نہیں۔

آشیانہ میرا خواب نمانہ

بچپن سے آج تک میں نے ہر پریشانی کو کسی نہ کسی طرح حل کیا ہے لیکن ایک سیدھی سی بات میرے لیے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے۔