اے میرے دوست

اے میرے دوست
اے میرے دوست، میرے قابل رشک ساتھی!
چند دن بعد چونکہ تم قابل رشک نہ رہو گے لہذا تمھیں " سابقہ قابل رشک" ساتھی پکاروں، سمجھ نہیں آتا کہ تمھیں کیسے سمجھاؤں۔ جب سے تمھارے بارے میں یہ خبر ملی ہے، یقین جانو، میرے قدموں تلے زمین کھسک گئی، آنکھوں کے آگے وہ اندھیرا چھا گیا جس نے مستقبل قریب میں تمھیں اپنی لپیٹ میں لے لینا ہے۔ پہلے تو مجھے گمان ہوا کہ میری سماعتوں کا فتور ہے، کہاں تم اور کہاں یہ کام۔۔۔ الامان والحفیظ۔ ہائے کیا زمانہ آ گیا ہے، جن پر تکیہ رکھا ہم نے ہائے انہی پتوں نے ہوا دے دی۔ یہ آلام روزگار، یہ گردش زمانہ، یہ وقت کا پھیر ہائے یہ کہاں چین لینے دیتا ہے پر تم، تم تو مشعل راہ تھے ہمارے لیے، ایک لائق تقلید روشن استعارہ جس کی مثالیں دیتے نہ تھکتے تھے ہم۔ تم کو دیکھ کر تو جیسے دل کو ٹھنڈک و سکون و طمانیت کا احساس ہوتا تھا، ایک فرحت بخش خوشی محسوس ہوتی تھی کہ کوئی تو ہے اس جہاں میں جو۔۔۔

ہاں میں بہت گھبرا چکا ہوں، میرے ہاتھ پیر جواب دے رہے ہیں۔ ابھی اگر مجھےتم چھو کر دیکھو تو میرے ماتھے پر پسینے کی نمی اور ٹھنڈی ہتھیلیاں تمھیں بتا دیں گی کہ وفور جذبات سے میں کیسا بےحال ہوں۔ لیکن میرا مصمم ارادہ ہے کہ میں تمھیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کروں گا۔ گواہ رہنا میں نے تمھیں اس آتش و نار سے بچانے کی پوری پوری کوشش کی تھی۔ میرے اس نامے کو سنبھال رکھنا تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ تمھیں اس اقدام عبرت نشان کے عوامل و عواقب سے آگاہ کرنا میرا فرض ہے اور میری محبت و عقیدت اس بات کی متقاضی ہے کہ میں تم کو اس گڑھے میں گرنے سے بچانے کی سعیِ لاحاصل انجام دوں۔ تم جو تمام مردوں کے لیے مایہ افتخار ہو یوں تمھارا دامن شرف و عزت پامال و تار تار ہوتے ہم کیونکر دیکھ پائیں گے۔

ہاں یہ جو شادی کا لڈو تم کھانے چلے ہو، باز آجاؤ میرے بھائی! ہم یہ لڈو کھا چکے ہیں اور اب اپنی پور پور میں بسی کڑواہٹ کو باہر نکالنے سے قاصر ہیں۔ تم معطر ٹھنڈی چھاؤں جو ہماری تپتی روح کا سائبان تھے اب تم خود شادی کرنے جارہے ہو، ہائے یہ کیا کرنے جا رہے ہو۔ رک جاؤ خدارا رک جاؤ ، نہ مارو اس کلہاڑی پر پیر، جو تمھیں نہ صرف ٹکڑے کر دے گی بلکہ تمھاری تکہ بوٹی کر کے مصالحے میں ڈبو کر شریکوں کو پیش کر دے گی۔

ہائے! آج سے عرصہ 6 سال پہلے میں بھی ایک بے فکرا، کھلنڈرا، ہنس مکھ اور جہاں بھر کی آنکھ کا تارا نوجوان ہوا کرتا تھا۔ ہوائیں میرے سنگ اڑا کرتی تھیں اور بہاریں میرے قدموں کے سنگ مسکاتی تھیں۔ محفلوں پر میرا راج تھا، اور میرے خم ابرو پر کیسی کیسی نوجوان حسینائیں مچل جایا کرتی تھیں۔ آج جو تمھیں ایک نیم گنجا، ڈھلکے جسم اور پریشان چہرے والا بےزار مرد نظر آتا ہے، واللہ ایسا نہ تھا ہرگز ایسا نہ تھا۔ یہ آتش تو ایسا جوان تھا کہ میرے جلووں کی چمک راجا اندر کی نگاہ خیرہ کرتی جب جدید پارلرز کی شاہکار اپسرائیں میرا طواف کرتیں۔ کرشن جی سانولیا تو میرے نام سے جل کر اور سنولا جاتے جب شوخ الھڑ گوپیاں میرے نام پہ آہیں بھرتیں۔ اور ایک یہ آج کا دن ہے جب میری بیوی میرے ہی بچوں سے ان حسیناؤں کو پھوپھو کہلواتی ہے، آہ! آرے چل جاتے ہیں جگر پر۔ تمھیں بتاؤں کیسے یہ بیگم نام کی خاتون تمام حسیناؤں کو شوہر کی بہن بنانے پر تلی رہتی ہے۔ ظالم! کبھی ذرا جو اس مظلوم شوہر کے جذبات کا خیال کر لے۔ جہاں آنکھ کسی جلوے کی جانب اٹھے وہیں ایک شکاری کی چوکس نظر تمام حرکات و سکنات کو کڑے تیوروں سے گھور رہی ہوتی ہے۔ اسے مسکرا کر کیوں دیکھا؟ فلاں کے بچے کو پیار کیوں کیا؟ دیوار کی طرف منھ کر کے کیوں نہیں بیٹھے؟ غرضیکہ آزادی کی ایک ایک سانس کو ترس جاؤ گے میرے پیارے! باز آجاؤ۔

شادی کے پہلے دن ہی یہ زلفوں کا جال ریشمی محسوس ہوتا ہے لیکن اس کے بعد سے بتدریج یہ نائلون کا مضبوط جال بن کر الجھتا جاتا ہے جو سانس محال کر دیتا ہے۔ یہ میک اپ زدہ حسن جب اپنی ہی جیب پر بھاری پڑتا ہے تو ہی دن میں تارے دکھائی پڑتے ہیں۔ میرا تو کئی بار دل رک سا گیا جب جب بیگم میک اپ کر کے سامنے آئی۔ شادی کے ایک سال بعد جب بیوی میک اپ کر کے سامنے آتی ہے تو خوف کے مارے دھڑکن رک سی جاتی ہے، حواس مختل ہو جاتے ہیں، یوں سمجھو یہ وہ چڑیل ہے جو کسی آیت، کلمے، پیاز لہسن ٹونے ٹوٹکے سے نہیں بھاگتی بلکہ اپنے سرخ سرخ ہونٹوں اور لپلپاتی لہراتی زبان سے حکمیہ پوچھتی ہے"کیسی لگ رہی ہوں"۔ یقین جانو آنکھیں سختی سے میچ کر بدقت تمام تعریفی کلمات ادا کرنے پڑتے ہیں کیونکہ اگر تعریف نہیں کی تو یہ خون آشام درندی کھڑے کھڑے جسم کا تمام خون خشک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

میرے عزیز! یہ چار دن کی ایسی چاندنی ہے کہ اس کے بعد اماوس کے گھور اندھیارے ہی نصیب بن جاتے ہیں۔ ابھی جو شیرینی بکھیرتی آواز ہے، جو حیا آمیز جھکی نظر ہے، جو تسلیم و رضا کی ادائیں ہیں؛ سب مہیب جال ہے۔ بچ جاؤ اس اس ادا سے، یہ سب دکھاوا ہے۔ شادی کے بعد ہی یہ جھکی ہوئی نگاہ اٹھتی ہے اور ایسی شعلہ بار ہوتی ہے کہ اس کی چنگاریاں خرمن دل کو خاکستر کر دیتی ہیں۔ یہ شیریں سخنی، کم آمیزی، شوخی و شرارت، ناز و عشوے کب بدمزاجی، کرختگی، ہٹ دھرمی، سفاکی میں بدل جاتے ہیں پتا بھی نہیں لگتا اور آزاد پنچھی کے پر کترے جاتے ہیں۔

جب بیوی زندگی میں آتی ہے تو سمجھو "مرد" کی مرضی کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ مرد کا پہناوا، اس کے انداز، چال ڈھال، ہیئر اسٹائل، داڑھی مونچھ سب بدل جاتے ہیں۔ دوست احباب، رشتے دار، تعلقات سب کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ نہ مرضی سے کھا سکتے ، نہ پی سکتے، نہ سو سکتے، نہ جاگ سکتے، نہ کہیں جاسکتے، نہ کسی سے بات کرسکتے، سب پکنک پارٹیز خواب ہوجاتی ہیں۔ شادی کے بعد روز نہانے پر پابندی، برش کرنے پر کڑی نگاہ، والٹ اور موبائل کی بلاناغہ تلاشی، لباس پر نادیدہ بال تلاشنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ازلی دشمن" ساس" کو امی کہنا ان کی خوشامدیں کرنا فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔ اپنے گھر، تنخواہ، موٹر سائیکل، کار پر سالے کا بلاشرکت غیرے حق تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اور تو اور حسین طرح دار سالیوں کے منھ سے "بھائی جان" کی کڑوی گولی نگلنا کیا کچھ آسان کام ہے؟

شادی کے فوراً بعد جو یہ نازک اندام محترمہ پھولنا شروع ہوتی ہیں تو لاکھ روکتے جاؤ لیکن یہ نہیں رکتیں (بےشک اس موٹاپے کا ثمرہ اولاد بھی ملتی ہے لیکن۔۔۔)۔ ان لڑکیوں کا ٹارگٹ ہم تم جیسے لڑکوں کو پھانس کر بےبس کرنا ہوتا ہے اس کے بعد یہ دن میں چار بار منھ دھونے والی صبح اٹھ کر بھی منھ نہیں دھوتی۔ لہسن ادرک اور عجیب عجیب مسالوں کی بو ان کے پاس سے آتی ہے۔ کھردرے ہاتھ، بے رونق بال، ملگجے کپڑے، بکھرا کمرہ اور کوڑے سے بھرا ڈسٹ بن۔ اتوار کے اتوار برش کرتی ہیں اور شادی و تقریبات میں آرائش وہ بھی یوں جیسے غبارے پر مختلف رنگ پوت دیے گئے ہوں۔ کھانے کے نام پر عجیب و غریب لوازمات کھانا اور پھر مسکرانا بھی ضروری۔ لاکھ منھ میں کڑواہٹ گھلی ہو لیکن داد بھی لازمی دینی ہے۔ اپنے والدین بہن بھائیوں سے اجنبی بھی ہونا ہے۔ اور گھر میں داخل ہوتے ہی سب کی شکایتیں بھی سننا ہیں اور ان شکایتوں کے ردعمل میں خاموش بھی نہیں رہنا بلکہ اپنی محدود آمدن کے باوجود کرائے کا گھر لے کر والدین کو چھوڑنا بھی ضروری ہے۔ گلے شکوے بھی سننے ہیں اور مہنگے تحفے بھی دینے ہیں۔

میرے دوست اس تھوڑے کو بہت جانو اور باز آجاؤ۔ اپنی جوانی کو یوں نہ ماچس دکھاؤ۔

فقط تمھارا دوست!
جو کبھی ایک زندہ دل لڑکا تھا۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Humaira Ashraf

Humaira Ashraf

Humaira Ashraf, an unknown soul in search of her real identity, is an editor and lexicographer by profession. She believes in humanity & love that transcend all barriers of country, creed and colour.


Related Articles

Need for Issue Based TV Programming in Pakistan

In Pakistan, issue based TV programming ought to be used for promoting peace, advocating tolerance, resolving conflicts and encouraging gender

Pakistan and Heroes

When I heard Malala Yousafzai was going to be a guest on The Daily Show I was nervous. I love The Daily Show, I’m a fan of Jon Stewart and I think he’s a genius,

مرد عورتوں کے بارے میں کیا باتیں کرتے ہیں

ملیحہ سرور: یہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ ہی نہیں جو اپنی نجی محافل میں عورتوں کو پکڑنے، چھونے، بوس و کنار کرنے اور ان کے ساتھ من چاہا سلوک کرنے کی خواہشوں کا اظہار کرتے ہیں، بدقسمتی سے مردانہ گفتگو میں عورتوں کا تذکرہ انہی معنوں میں اکثر جگہ ہوتا ہے۔