اے میرے سوچنے والے بیٹے

اے میرے سوچنے والے بیٹے
اے میرے سوچنے والے بیٹے
وہ دانش کو پاؤں تلے روندیں گے
سوال پر گولی چلائیں گے
منطق پر پتھر اور لاٹھیاں برسائیں گے
وہ انسانیت کو لہولہان کر کے
اساطیر کی زمینوں پر انسان ذبح کریں گے
وہ قاتلوں کے قصیدے پڑھ کر
قتل کے حمایتیوں پر گل پاشی کریں گے
وہ انسان کو نجس قرار دے کر
اجتماعی خوں ریزی کو مقدس ٹھہرائیں گے۔ ۔ ۔
وہ یہ سب تمہاری آنکھوں کے سامنے کریں گے
تم نے پھر بھی مشتعل نہیں ہونا !

وہ نفاست سے ان کتابوں کی شیرازہ بندی کریں گے
جن میں زندہ بدن اُدھیڑنے کے مفصل نسخے درج ہیں
وہ تمہارے سامنے نفرت کا پورا ماسٹر پلان رکھ دیں گے
یاد رکھو !
تم نے پھر بھی اپنی سوچ کو مشتعل نہیں ہونے دینا
اگر تم نے جواب میں کچھ کہا یا سوال اٹھایا
تو وہ تمہارے ہی لفظوں کی مہریں
تمہارے قتل نامے پہ ثبت کریں گے
( اُنہیں یہ گُر صدیوں سے آتا ہے )
پھر وہ ہجوم در ہجوم آئیں گے
اور تمہارے جسم کی روئی دھنک کے رکھ دیں گے
اگر تم انسان کے شرف کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہوئے
تو وہ تمہیں نیچے کھینچ کر قتل کردیں گے

سو میرے سوچنے والے بیٹے !
تم نے خاموش رہنا ہے
تمہاری خاموشی میں تمہاری زندگی ہے
اور زندگی ہر چیز سے مقدم ہے میرے بیٹے
لیکن افسوس ! وہ لوگ یہ بات نہیں جانتے
وہ صرف موت کو مانتے ہیں

Image: Sabir Nazar

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

مردود

علی زریون: اپنی نظموں کے یہ "کھوٹے سکّے" اُٹھا
اپنے جیسوں میں جا
اور یہاں سے نکل

واپس دو

جمیل الرحمان: میں تم سے آج اپنا آپ واپس مانگتا ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو

مستنصر حسین تارڑ سے ایک شکوہ

محمد سعید اللہ قریشی:
یہ وہ دور ہے
صبح دم جس میں بچوں کی خاطر
کوئی چاچا تارڑ ابھی ہست کے باغ میں سانس لیتے ہوئے بھی چہکتا نہیں