بائیسویں صدی کا آدمی اور دوسری کہانیاں

بائیسویں صدی کا آدمی اور دوسری کہانیاں
مزید مائیکرو فکشن پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ﺣﺪِ ﺯﻣﺎﮞ

ﻣﯿﺮﺍ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﺟﺲ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪﻭﺩ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺗﯿﺮﺍ ﻭﺟﻮﺩ ﻻ ﯾﻌﻨﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ
ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺑﺎً ﻭﻗﺖ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﻧﻈﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺒﮭﯽ ﻻ ﯾﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﮐﺒﮭﯽ ﻻﯾﻌﻨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ
ﺍﺱ ﭘﻞ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﺍ ﻃﻤﻄﺮﺍﻕ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺑﺎﺭ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻭﻗﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﯾﮧ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﮑﻼ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔۔۔۔۔۔۔۔
تب ﻣﯿﮟ حالتِ ﻧﺰﺍﻉ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﻭﺭ ﻭﻗﺖ ﺧﺎﻣﻮش

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ابھی کچھ کام باقی تھے"

موبائل کی بیل بجی تو اس نے کال ریسیو کی اور فون کان سے لگا لیا ساتھ ہی باپ کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی
"بیٹا میری دوا کی پرچی اٹھا لی؟"
"جی ابا جی" اس نے باپ کو جواب دیا بیگم کا بیگ سنبھالا اور کال پر موجود دوست سے اگلے دن کراچی نکلنے کا پروگرام سیٹ کرتے ہوئے گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر آکر بیٹھ گیا بیوی بچے پہلے ہی کار میں اسکے منتظر تھے-
جب وہ پارک پہنچے تو پارک میں کافی گہماگہمی تھی انہوں نے ایک طرف چادر بچھائی اور بیٹھ گئے اس نے بچوں سے پوچھا کیا کھانا ہے اور اس وقت ایک زوردار آواز نے اس کے کان بند کر دیے پھر کان میں سیٹی بجنے کا احساس پیدا ہوا اور پھر اسے ایسا لگا جیسے اس کی کمر کسی نے تیز دھار خنجر سے چھید ڈالی ہے سیٹی کی آواز بے ہنگم شور شرابے میں بدل چکی تھی تب اسے احساس ہوا کے وہ گھاس پر اوندھے منہ پڑا ہے لہو اس کے سر سے بہہ کر اس کے کان کے پیچھے سے ہوتا ہوا اس کے گال اور منہ تک آ چکا ہے جب آنکھوں کے آگے اندھیرا بڑھنے لگا تو اسے بیوی بچوں کا خیال آیا پھر اسے دوست کے ساتھ اگلے دن کراچی جانے کا خیال آیا اور اگلے ہی لمحے اسے باپ کی دوا کا خیال آیا ایک زوردار ہچکی کے ساتھ اس کے بدن سے روح اور آنکھ سے ایک آنسو نکلا اور ہری گھاس میں جذب ہو گیا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بائیسویں صدی کا آدمی

مجھ سے کب پوچھا مجھے کس گھرانے میں پیدا کرے مجھے تو میرے ماں باپ نے بتایا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے خدا ہم سب کو پیدا کرتا ہے اور مقدس روح ہماری حفاظت کرتی ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ اجداد کے بنائے گئے مذہب۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوہ معذرت۔۔۔۔۔
اجداد کے بتائے گئے مذہب پر عمل کروں چرچ جاؤں بائبل پڑھوں گناہ کروں تو چرچ جاؤں گناہ کا اعتراف کروں اور گناہ سے نجات پاؤں جنت میں جاؤں۔۔۔۔۔۔۔
مگر کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
یہاں تو کچھ بھی میرا اختیار کردہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور جب کچھ بھی میرا اختیار کردہ نہیں تو سزا جزا کیسی؟؟
اور سزا جزا رکھتا ہے تو پھر پہلے دے مجھے اختیار اپنی مرضی سے پیدا ہونے کا ماں باپ چننے کا مذہب اپنانے کا اور اپنی مرضی سے مرنے کا بھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اگر نہیں دے سکتا یہ اختیار مجھے تو پھر میں باغی ہوں تیرا نائب بننے سے۔۔۔۔۔۔
ابھی یہ سوچ میرے دماغ میں پیدا ہی ہوئی تھی کہ میرا پاؤں کسی پتھر سے ٹکرایا اور میں منہ کے بل سڑک پر جا گرا جب آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا چھٹا تو مجھے احساس ہوا کہ میرے سامنے کے دو دانت ٹوٹ کر میرے ہونٹ میں پیوست ہو گئے ہیں
بس اگلے ہی لمحے میرے دماغ میں اس سوال نے شدت اختیار کر لی
کہ تجھ سے میری بغاوت ایک پل برداشت نہیں
اور میں تیرا جبر تا عمر جھیلوں۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اور اس پل میرے اندر سے آواز آئی
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Image: Daniel Arsham


Related Articles

چریا ملک

ملک محمد حاکم بیساکھی پر قصبے کی دکانوں کا پھیرا لگا کر شبیر کے ہوٹل پہنچا۔ اس کی مختصر گٹھڑی میں سے پتی کی پڑیاں اور چاول نظر آرہے تھے۔ ا

کن فیکون

اس نے وجدان کے کسی لمحے میں عالم برزخ کا تمام روحانی گردا فلکیاتی تمباکومیں مسلا اور کائناتی رذلے میں بھر کر ایک الہامی کش لیا ۔۔۔۔ دھواں ارض و سما کی شکل میں مجسم ہو گیا۔

آخری سچ

رُکے ہوئےزمانوں کا ذکر ہے جب لوگ تجسس سے گریز کرتے تھے۔ آبادی سے دور جنگل کے خاتمے پر جوپہاڑ تھے ان میں سے کسی کی غار میں ایک گُرو اور اس کے فرمابردار شاگرد کا ٹھکانا تھا۔