بازیابی

بازیابی

اب ہم اُن لوگوں کو
جو خواب دیکھتے ہیں
اور خواب بیچتے ہیں
مارتے نہیں
بہت مصیبت ہو جاتی ہے
ان کی لاشیں دفنانی پڑ جاتی ہیں
ورنہ بہت تعفن پھیلتا ہے
اور سب کو پتہ بھی چل جاتا ہے

ہم نے ایک مشین ایجاد کر لی ہے
اب ہم انھیں پکڑتے ہیں
اور ان کی آنکھوں میں
ایسی برقی رو دوڑاتے ہیں
کہ وہ ہمیشہ کے لیے خواب دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں
پھر ہم انھیں واپس چھوڑ دیتے ہیں

زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

Image: Karen Wippich

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

ایک پاگل شہر میں ہذیانی بڑبڑاہٹ

وہ زمین سے کچھ انگلیاں ادھار مانگ رہا ہے
مگر زمین کو اپنی کوکھ کے ستر کی فکر ہے
وہ اُسے اپنی کوئی انگلی قرض نہیں دے گی

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں

کیلکولیٹر کے ہِندسوں میں چُھپی نظم

یہ گِنتی کی ایجاد سے قبل
حرفوں کی اَبجد کا ایقان ہی تھا
جو روحوں کی تقسیم کو جانتا تھ