بدبو

بدبو

اس کے بدن سے ایک ناگوار سی بدبو پھوٹتی رہتی تھی۔ ارشد کا واسطہ اس بدبو سے پہلی مرتبہ اتوار کے روز پڑا تھا۔ چھٹی کے روز آنکھ دیر سے کھلی تھی۔ وہ صبح ناشتہ کر کے لاؤنج میں بیٹھا اخبار کے مطالعے میں منہمک تھا کہ اچانک ایک بدبو کا بھبکا اس کی ناک سے ٹکرایا۔ ساتھ ہی ایک نسوانی آواز اس کے کان میں پڑی۔ اس نے ناگواری سے گردن گھمائی۔ وہ ہاتھ میں جھاڑو پکڑے کھڑی اس کی بیوی سے بات کر رہی تھی۔ اس کی قمیض پسینے سے بھیگ کر اس کی کمرسے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے سانولے ماتھے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے۔ ارشد کی طبیعت بدبو سے گھبرانے لگی اور وہ اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلا آیا۔

رات ارشد بیڈ پر لیٹا ٹی وی کا ریموٹ ہاتھ میں لیے یونہی وقت گزاری کے لیے چینل تبدیل کر رہا تھا کہ اچانک اسے دوبارہ اس کا خیال آیا اور ساتھ ہی اس کے دماغ میں وہ بدبو چکرانے لگی۔ وہ سر گھما کر ڈریسنگ ٹیبل کے آگے بال بناتی رضیہ سے مخاطب ہوا۔

تم نے پھر صفائی کے لیے کوئی نئی عورت رکھ لی ہے۔

ہاں!پہلی والی نے مزید کام کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ یہ گلی میں ایک گھر میں کام کرتی ہے۔ شکر ہے مان گئی۔ ورنہ آج کل ان کام والیوں کے بھی بہت ہی نخرے ہو گئے ہیں۔ رضیہ نے بال سلجھاتے ہوئے جواب دیا۔

مگر تم نے دیکھا اس میں سے کتنی بدبو آتی ہے۔ جس کمرے سے گزرتی ہے اس کی فضا میں بدبو رچ بس جاتی ہے۔لگتا ہے کئی کئی دن نہاتی نہیں۔

ارے بھئی ان کا کام ہی ایسا ہے۔سارا دن گرمی میں کام کرتی ہیں۔ ہماری طرح صاف ستھری تو نہییں رہ سکتی ناں۔

یہ کہتے ہوئے رضیہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔ ارشد جو اب ٹی وی آف کر کے ریموٹ رکھ چکا تھا اس موضوع پر مزید بات کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ اس نے کنکھیوں سے رضیہ کا جائزہ لیا۔ سونے کے لباس میں اس کا بھرابھرا جسم مزید پرکشش لگ رہا تھا۔ ارشد نے کروٹ لے کر اپنا بازو رضیہ کے سینے پر رکھ دیا۔ رضیہ بے حس و حرکت لیٹی رہی۔

سو جائیں ارشد۔ میں آج بہت تھکی ہوئی ہوں۔ رضیہ نے اس کا ہاتھ پرے ہٹاتے ہوئے کہا اور دوسری جانب کروٹ لے لی۔ ارشد ایک ٹھنڈی سانس بھر کرکمرے کی چھت کی جانب گھورنے لگا۔

آج ارشد کچن کے قریب سے گزرا تو اسے وہی ناگوار سی بدبو محسوس ہوئی۔ اس نے اندر جھانکا تو صفائی والی وہی عورت روٹی توے پر ڈال رہی تھی۔ ارشد بھنایا ہوا رضیہ کے پاس پہنچا۔وہ لاؤنج کے صوفے پر نیم دراز تھی۔

یہ صفائی والی عورت کچن میں کیا کر رہی ہے۔ اس نے غصے سے پوچھا۔

اوہ میں تمہیں بتانا بھول ہی گئی۔ تمہیں معلوم ہے میری طبیعت آجکل ٹھیک نہیں رہتی۔ حمیداں کو پیسوں کی ضرورت تھی۔ وہ کوئی اورکام ڈھونڈ رہی تھی۔ میں نے اسے کہا ہے کہ وہ ہمارا کھانا بنا دیا کرے۔ میں اسے کچھ اضافی رقم دے دیا کروں گی۔

تو تمہیں اس کام کے لیے کوئی اور عورت نہیں ملی تھی کیا۔ تمھیں پتہ ہے کہ وہ کتنی میلی کچیلی رہتی ہے۔ اور اس کے بدن میں سے کیسی ناقابلِ برداشت بدبو آتی ہے۔ اس کے ہاتھ کا بنا کھانا کم از کم میں تو نہیں کھا سکتا۔

یہ کہتے کہتے ارشد کی نظر دروازے کی جانب اٹھی۔ حمیداں دروازے میں کھانے کی ٹرے پکڑے کھڑی تھی۔ اس کے چہرے کی خجالت چغلی کھا رہی تھی کہ اس نے ارشد کی بات سن لی ہے۔

میں یہ کھانا دینے آئی تھی بی بی جی۔ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا۔ اور ٹرے میز پر رکھ کر واپس مڑ گئی۔ ایک لمحے کے لیے ارشد کو احساس ہوا کہ شائد اس کی بات سے اس کا دل دکھا ہے۔ مگر میں نے کون سا جھوٹ کہا ہے یہ سوچ کراس نے سر کو جھٹک دیا۔

ارشد نے اخبارکے پیچھے سے اس کا کئی مرتبہ بغور جائزہ لیا۔ اس کا بدن محنت مزدوری کرکر کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ کمر پر قمیض پسینے سے چپکی ہوئی تھی۔ قمیض کو فرش پر لگنے سے بچانے کے لیے اس نے اوپر اٹھا کر کمر کے گرد لپیٹا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بدن میں سنسنی کی ایک لہر سی دوڑتی محسوس کی۔اگلی دفعہ ارشد نے اخبار کے پیچھے سے اسے دیکھا تو اس کا رخ ارشد کی جانب تھا۔ اس کے بدن کے نشیب و فراز مزید نمایاں ہو گئے تھے۔ ارشد کو اپنا خون کنپٹیوں میں اکٹھا ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔ رضیہ بچوں سمیت کچھ دن کے لیے اپنی امی کے گھر گئی ہوئی تھی۔ حمیداں نے اچانک نظر اٹھا کر اس کی جانب دیکھا۔ ارشد کو لگا کہ اس کی چوری پکڑی گئی ہے۔ اس نے گھبرا کر نظریں پھیر لیں۔ وہ جذبات کے ہاتھوں مغلوب ہو کر کھڑا ہوا اور اس نے حمیداں کو پیچھے سے جا کر دبوچ لیا۔ اس نے کوئی مدافعت نہ کی اور اپنے آپ کو ارشد کے حوالے کر دیا۔ آج اس کے بدن سے اٹھتی بدبو بھی ارشد کو بری نہیں لگ رہی تھی۔

رضیہ واپس آ چکی تھی۔ آج اتوار کا دن تھا۔ حمیداں صفائی کر رہی تھی۔ اور ارشد انجان بنا کونے میں اخبار لیے بیٹھا تھا۔
باجی!میں کھانا بنا دوں۔ اسے حمیداں کی آواز آئی۔
نہیں تم رہنے دو۔ آج صاحب گھر ہیں۔ آج کھانا میں بناؤں گی۔ رضیہ نے جواب دیا۔

اچانک ارشد کی نظر حمیداں کی جانب اٹھ گئی۔ دونوں کی۔نظریں ملیں تو ارشد کو حمیداں کی آنکھوں میں ایک فاتحانہ چمک نظر آئی۔ اس نے گبھرا کر گردن جھکا لی۔ اسی لمحےاسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کےاس کے اندر سے بھی اچانک وہی بدبو پھوٹنے لگی ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

غلاملی

محمد عباس: وہ بلک بلک کے رونے لگا اور میں اس کی آنکھوں سے امڈتی ہوئی پدرانہ شفقت کو حیرانی سے دیکھتارہا۔اس کے ہاتھ قبر کے کتبے پہ یوں سرک رہے تھے جیسے بیٹے کے سر پہ ہاتھ پھیر کر اسے دلاسہ دینے کے بہانے خود اپنے آپ کوتسلی دے رہا ہو۔

صاحب کی نماز

میری جو شامت آئی، مجھے خداوندان ِدفتر سے ایک بار پھر حُکم ہوا کہ فلاں سرکاری ادارے کے سربراہ کے دفتر جاو اور فلاں فلاں فائل کا پیچھا کرو۔۔۔ اور کام پڑا بھی تو پولیس کے ایک بڑے عہدیدار سے

سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری - 14 دسمبر 1971- بونگلہ دیش سے پہلے۔۔۔

میں صبح وردی پہن کر باہر نکلا تو دیکھا کہ اسمبلی گراونڈ میں چھے بنگالی درختوں سے بندھے کھڑے تھے اور کوت نائیک صاحب ان سے برآمد ہونے والے اسلحے کا معائنہ کررہے تھے۔