بغیر پَیر کا پرندہ

بغیر پَیر کا پرندہ

جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں ہونی چاہیئے
کسی ٹہنی، کسی تار پہ
لمبی ۔۔۔ تھکا دینے والی مسافت کے بعد
کچھ دیر سستانے کو اگر بیٹھنا چاہے
تو کیسے بیٹھے
بس اُڑتے اُڑتے ہی تھک کر جان دے دے

تمھیں بھی بولنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیئے
کیونکہ نہ تو تمھارے پَیر ہیں
اور نہ ہی پَر
تم تو پہلے ہی زندوں میں شمار نہیں ہوتے

تمھاری آنکھیں بھی بُجھا کے رکھ دینی چاہیئیں
بلاوجہ ٹُکر، ٹُکر نہ جانے کیا دیکھتی رہتی ہیں
نہ جانے کیا سوچتی رہتی ہیں؟
کسی آزادی کے خواب دیکھتی ہیں؟
یا اڑنے کے بارے میں سوچتی ہیں شاید؟

نا سمجھ!!
جس پرندے کے پَیر نہیں ہوتے
اُسے اڑنے کی اجازت بھی نہیں دی جا سکتی

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Rizwan Ali

Rizwan Ali

ڈاکٹر رضوان علی کراچی کی ادبی سرگرمیوں میں کئی برس تک مصروف رہے۔ اب گزشتہ ۲۲ سالوں سے امریکہ کی ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں اور وہاں کی تین یونیورسٹیوں میں نفسیات کے پروفیسر ہیں۔ ادب کے ساتھ ساتھ تھیٹر اور موسیقی سے بھی خاص لگاؤ ہے۔ تقریباً ڈیڑھ سال سے ایک معتبر ادبی فورم "لٹرری فورم آف نارتھ امریکہ" کے نام سے چلا رہے ہیں۔ نظم اور غزل دونوں اصنافِ سخن کو اظہار کا ذریعہ گردانتے ہیں۔


Related Articles

گیلیلو کو سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے

ثروت زہرا: پھر سے سچ کو
منصور کی سولی کی رسیوں میں پڑی گرہیں
کھولنے کی ضرورت پڑ گئی ہے

میں خاموشی سے کیوں زندہ ہوں؟

رات بے چین پھر رہی تھی آنگن میں
اندر کمرے میں

گلِ حیاء کی ڈائری کا ایک ورق

چمن میں ڈیرے ڈالے ہیں یہ کہہ کے کچھ درندوں نے کہ ہم تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے