بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

بلوچستان پاکستان کا حصہ کیسے بنا؟

ادارتی نوٹ: یوگینا وینا سیاسی حمکت عملی کی طالبہ ہیں اور مروجہ بیانیے سے انحراف کی قائل ہیں۔ ان کا یہ مضمون انگریزی اخبار دی نیشن کی ویب سائٹ پر 5 دسمبر کو شائع کیا گیا جسے اردو میں ترجمہ کر کے لالٹین پر پیش کیا جا رہا ہے۔

بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے پر مشتمل صوبہ ہے جس کی سرحد مغرب میں افغانستان اور ایران سے ملتی ہے اور جنوب میں بحیرہ عرب سے۔ رقبے کے اعتبار سے یہ پاکستان کے تقریباً پچاس فی صد کے برابر ہے جہاں پاکستان کی آبادی کا محض 3.6 فی صد حصہ مقیم ہے۔ بلوچستان تیل، گیس، تانبے اور سونے سمیت قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ پاکستان کا غریب ترین صوبہ ہے جہاں پینے کے پانی اور بجلی جیسی سہولیات بھی میسر نہیں۔

تقسیم پاک و ہند سے قبل، برطانوی راج میں بلوچستان چار شاہی ریاستوں قلات، لسبیلہ، خاران اور مکران پر مشتمل تھا۔ان ریاستوں میں سے دو ریاستیں لسبیلہ اور خاران، برطانوی راج کی طرف سے خان آف قلات کو جاگیر کے طور پر اجارے پر عنایت کی گئی تھیں، اسی طرح مکران بھی اس زمانے میں قلات کا ہی حصہ تھا۔ جناح نے برطانوی راج سے قلات کے زیر انتظام بلوچستان کی آزادی کے معاملے پر قیام پاکستان سے تین ماہ قبل مذاکرات کا آغاز کیا تھا۔ ریاست قلات اور اس کے پاکستان سے تعلقات پر بات چیت کے آغاز سےتاج برطانیہ کی طرف سے وائسرائے ہند، والی قلات اور جناح کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں 11 اگست 1947 کو ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس کے مطابق:

الف۔ پاکستانی حکومت قلات کو برطانیہ کے ساتھ معاہدوں کے تناظر میں، برطانیہ کے زیرانتظام علاقوں سے منفرد حیثیت میں ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔
ب۔ قلات کو برطانیہ سے( اجارے پر ملی جاگیرات کے )موجودہ( معاہدوں کی پاکستان کے ساتھ تجدید یا تنسیخ سے متعلق قانونی مشاورت کی جائے گی۔
ج۔ حتمی فیصلے تک پاکستان اور قلات کے مابین معاملات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا معاہدہ کیا گیا ہے۔
د۔ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات سے متعلق امور پر فیصلوں کے لیے پاکستان اور قلات کے مابین کراچی میں مذاکرات کیے حائیں گے۔

خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔
گریفٹی- سمتھ کے 17 اکتوبر، 1947 کوبھیجے گئے ایک تار میں پاک- قلات مذاکرات سے متعلق ایک یادداشت کے مطابق جناح قلات کو آزاد اور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے حوالے سے دو دلی کا شکار تھے، اور اب پاکستان میں شامل ہونے والی دیگر ریاستوں کی طرح قلات کا پاکستان سے الحاق چاہتے تھے۔ اسی یادداشت میں قلات کی دو جاگیروں لسبیلہ اور خاران کے پاکستان سے الحاق کی صورت میں پیدا ہونے والی دلچسپ صورتحال کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
اکتوبر 1947 تک قائداعظم محمد علی جناح قلات کو ایک "آزاد اور خودمختار ریاست" کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق اپنا ارادہ بدل چکے تھے اور اب دیگر ریاستوں کی طرح خان آف قلات کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کے خواہاں تھے۔ خان آف قلات اپنی برائے نام آزادی سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھے تاہم وہ دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملات پر پاکستان کی بالادستی قبول کرنے کو تیار تھے۔ لیکن وہ جاگیر کے طور پر ملے علاقوں پر اطمینان بخش معاہدہ ہو جانے تک الحاق یا اتصال کی کسی دستاویز پر دستخط کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس حوالے سے خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا تھا کہ پاکستانی حکام لسبیلہ اور خاران کی ریاستوں سے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کے معاملات طے کر سکتے ہیں۔

فروری 1948 تک حکومت پاکستان اور قلات کے درمیان بات چیت کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائی۔ قائداعظم نے خان آف قلات کو لکھا: "مرا مشورہ ہے کہ آپ بلاتاخیر پاکستان سے الحاق کر لیں۔۔۔۔۔میں وعدے کے مطابق آپ کے جواب کا انتظار کروں گا جو آپ نے کراچی میں میرے ساتھ قیام اور الحاق کے تمام پہلووں پر بات چیت کے بعد کیا تھا۔" 15 فوری، 1948 کو جناح نے سبی دورے کے دوران شاہی دربار سے خطاب کیا، جس کے دوران انہوں نے اعلان کیا کہ دو سال تک جب تک کہ پاکستان کا آئین تیار نہیں ہو جاتا، بلوچستان کی حکومت وہ اپنی نامزد کردہ ایک مشاورتی کونسل کی مدد سے خود چلائیں گے۔ تاہم اس دورے کا اصل مقصد خان آف قلات کو پاکستان کے الحاق پر آمادہ کرنا تھا۔ خان آف قلات نے ناسازی طبع کے باعث جناح سےحتمی ملاقات سے معذوری ظاہر کی۔ جناح کے نام اپنے خط میں والی قلات نے لکھا کہ انہوں نے پاکستان سے تعلقات پر ریاستی دارالعوام اور دارالامراء کی رائے جاننے کے لیے اجلاس طلب کیا ہے، اور اس ماہ کے اختتام تک وہ دونوں ایوانوں کی رائے سے جناح کو آگاہ کر دیں گے۔

اکیس فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔
21 فروری 1948 کو دارالعوام کے اراکین نے اجلاس کے دوران پاکستان سے الحاق کرنے کی بجائے قلات کے پاکستان سے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کے لیے ایک معاہدے پر مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا۔ 9 مارچ 1948 کو خان آف قلات کو جناح صاحب کا پیغام ملا کہ قلات کے ساتھ وہ ذاتی حیثیت میں مذاکرات نہیں کریں گے بلکہ اس حوالے سے تمام معاملات حکومتِ پاکستان کے ساتھ طے کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس وقت تک )جناح کے ساتھ ( باقاعدہ مذاکرات کا آغاز تک نہیں ہوا تھا بلکہ جناح نے سبی میں خان آف قلات سے )الحاق کی ( محض ایک غیر رسمی درخواست کی تھی۔

پاکستان میں امریکی سفیر کے 23 مارچ 1948کو بھیجے گئے ایک مراسلے سے پتہ چلتا ہے کہ 18 مارچ کو،"ریاست قلات کو اجارے پر ملی خاران، لسبیلہ اور مکران کی ریاستوں نے" پاکستان سے الحاق کر لیا ہے۔ خان آف قلات نے اس الحاق کی مخالفت کی اور اسے قلات اور پاکستان کے درمیان معاملات جوں کے توں رکھنے کے معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاران اور لسبیلہ کی ریاستیں انہیں اجارے پر دی گئی ہیں جبکہ مکران قلات کا ایک ضلع ہے۔ تقسیم سے پہلے جولائی 1947 میں خاران اور لسبیلہ کے خارجہ امور قلات کے سپرد کر دیئے تھے۔

26 مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی (باقاعدہ) چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔ ساحلی علاقوں میں پاکستانی فوج کے داخل ہونےکے بعد قلات نے 27 مارچ کو ہتھیار ڈال دیئے جبکہ کراچی میں یہ اعلان کیا گیا کہ خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ جناح نے بھی بندوقوں کے سائے میں اس الحاق کو تسلیم کر لیا۔ یہ یاد رکھا جانا ضروری ہے کہ بلوچستان اسمبلی نے کسی بھی صورت میں بلوچستان کی آزادی کے خاتمے کی کوئی بھی تجویز قبول کرنے کا امکان رد کر دیا تھا۔ بلوچستان کی پارلیمان کی جانب سےالحاق مسترد کیے جانے کے باعث بندوق کی نوک پر خان آف قلات سے لیے گئے دستخط بھی قابل اطلاق نہیں تھے۔ ہندوستان کی آزادی سے قبل بلوچستان کے معاملات خان آف قلات کے سپرد کرتے ہوئے برطانیہ نے الحاق کا اختیار )قلات کی ریاست( کو نہیں دیا تھا۔ خود مختار بلچ ریاست برطانوی راج کے خاتمے کے بعد صرف 227 روز قائم رہی۔ اس دوران بلوچستان کا جھنڈا پاکستان میں بلوچ سفارت خانے پر لہراتا رہا۔

چھبیس مارچ 1948 کو پاکستانی فوج کو بلوچستان کے ساحلی علاقوں پسنی، جیوانی اور تُربت میں داخل ہونے کا حکم دے دیا گیا۔ یہ پیش قدمی یکم اپریل 1948 کو قلات پر پاکستانی فوج کی چڑھائی سے قبل پہلی جارحیت تھی۔
یہ کہنا کہ بلوچوں کی زمین پر غیر قانونی اور زبردستی کیے گئے قبضے کے بعد سے پاکستانی حکومتوں اور عسکری قیادت نے بلوچوں کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا زیادتی ہے۔ بلوچوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک کے باعث یہاں علیحدگی پسند تحریکیں چلتی رہی ہیں، جن میں سے سب سے بڑی 2006 میں پاکستانی فوج کے ہاتھوں سردار اکبر بگٹی اور اس کے 26 قبائلی حواریوں کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی۔ 2006 میں کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان نے اپنی رپورٹ میں بلاجواز گرفتاریوں، حبس بے جامیں رکھنے، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، حراست کے دوران پولیس، خفیہ اداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے بے جااور بلاتفریق تشدد کا سامنا کرنے والوں کے اعدادوشمار پیش کیے۔ ان اعدادوشمار کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی کی ہے۔ بلوچستان اسمبلی کے سابق رہنمائے حزب اختلاف کچکول علی بلوچ کے مطابق جبری گمشدگان یا عدالت میں پیش کیے بغیر حراست میں رکھے گئے افراد کی تعداد 4000 ہے۔ لاپتہ افراد میں ایک ہزار کے قریب طالب علم اور سیاسی کارکن شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا اپنا بیٹا چودہ ماہ غیرقانونی حراست میں رکھے جانے کے بعد رہا کیا گیا ہے۔ بلوچ نینشنلسٹ پارٹی کے رہنما سردار اختر مینگل بھی ان افراد میں شامل ہیں جن پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات قائم کیے گئے۔ درحقیقت وہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف ایک لانگ مارچ نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہیں 2008 میں رہا کیا گیا تھا۔ موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے پنجاب میں "استحکامِ بلوچستان-مسائل اور امکانات" نامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح طور پرکہا ہے کہ اگر بلوچستان کے وسائل پر بلوچوں کا اختیارتسلیم نہ کیا گیا تو ہم ایک اور مسلح مزاحمت دیکھیں گے جس پر کوئی بھی قابو نہیں پا سکے گا۔

پاکستانی عوام کے سامنے کبھی بھی بلوچستان کی اصل کہانی پیش نہیں کی گئی اور نہ ہی کبھی اس پر بات کی گئی ہے۔ ہماری درسی کتب اور ذرائع ابلاغ حقیقت سے دور ایک جھوٹے بیانیے کے ابلاغ میں مشغول ہیں۔ یہ دانشوروں اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسخ شدہ حقائق سے واقفیت حاصل کریں اور لوگوں تک پہنچائیں۔

Related Articles

ٹی ایس ایلیٹ کا خط جارج آرویل کے نام

میرے خیال میں میری اپنی تسلی اس اخلاقی تمثیل سے اس وجہ سے نہیں ہو پا رہی کہ اس کا تاثر سیدھے سیدھے رد کر دینے کی نفسیات سے عبارت ہے۔

میں پھر اٹھوں گی

میں تاریخ کے شرمناک گھروندوں سے نکلتی ہوں
اُس ماضی میں سے سفر شروع کرتی ہوں
جس کی جڑیں دُکھ، درد اور تکلیف میں دبی ہوئی ہیں
میں اُچھلتا، ٹھاٹھیں مارتا ہُوا، وسیع و عریض ایک تاریک سمندر ہوں
جو اپنی لہروں میں بہتا جا رہا ہے

تقدیر

میخائل شولوخوف: یہ بوڑھے لوگ جن کے سَر جنگ کے کٹھن سالوں نے سفید کر دئیے ہیں، صرف راتوں کو نیند میں ہی نہیں روتے بلکہ دن کی بیداریوں میں بھی روتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ آدمی بر وقت مُنہ ایک طرف پھیر لینے کے قابل ہو۔ اور بڑی بات یہ ہے کہ ایک بچے کا دل نہ دُکھنے دیا جائے! اُسے وہ بے اختیار آنسُو نظر نہ آنے دیا جائے جو کہ ایک مرد کے رُخساروں کو بھی جلا دیتا ہے!!!