بلوچستان کیسے مان لے حملہ "را" نے کیا تھا؟

بلوچستان کیسے مان لے حملہ
کوئٹہ شہر میں سیکیورٹی کے نام پر ہزاروں اہلکار تعینات ہیں، کم و بیش شہر کے تمام علاقوں میں کئی کئی چوکیاں لوگوں پر نظر رکھنے کے لئے قائم ہیں۔ یہاں پر کھڑے اہلکار کسی کو بھی روک کر اس کی تلاشی لیتے ہیں، اس سے سوالات پوچھتے ہیں۔ اگر کسی سرپھرے اہلکار کی وطن پرستی جاگ جائے تو یہ اہلکار کسی بھی شخص کو حراست میں لے لیتے ہیں۔کوئٹہ واقعہ سے قبل ظاہر ہے بلال کاسی نے فورسز کے چیک پوائنٹس پر رک کر اپنی پہچان بتائی ہو گی۔ اپنے مقدمات کی فائلیں بھی دکھائی ہوں گی۔ قتل ہونے کے بعد بلال کاسی کی لاش کو شعبہ حادثات اور جائے وقوعہ کے درمیان آنے والی چیک پوسٹوں پر حفاظتی انتظامات کے پیش نظر "را" کا سراغ لگانے والے اہلکاروں نے روک کر چیکنگ کے بعد شعبہ حادثات تک پہنچانے کی اجازت دی ہو گی۔ بغیر کسی روکاوٹ کے ہپتال تک پہنچنے والے حملہ آور کے حملے میں مرنے والوں کی لاشیں بھی انہیں چیک پوسٹوں پر "را" کے خطرے کے پیش نظر روک کر چیک کی گئی ہوں گی اور پھر اپنے آبائی علاقوں میں پہنچائی گئی ہوں گی۔ ان "را" زدگان میں مکران سے تعلق رکھنے والے شہدا کے ہمراہ جانے والے لوگ فورسز کی احسان مندانہ تفتیش کا کچھ زیادہ ہی شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ سی پیک کا تعلق ہی مکران کے ساحل سے ہے۔ ان جنازوں میں شرکت کرنے والے سوختہ دل و سوختہ بخت بھی اسی طرح کے "حفاظتی ظلم" کا شکار ہوئے ہوں گے کیوں کہ "را" کسی کے بھی روپ میں کہیں پر موجود ہو سکتی ہے بشرطیکہ بلکہ لازمی شرط یہ کہ سیکیورٹی ادارے خود "را" کی موجودگی سے راضی ہوں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔
حملے کے بعد فورسز نے چابکدستی سے چند لوگوں کو گرفتار کیا اور انہیں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا، پھر پلک جھپکتے ہی ذرائع ابلاغ پر انہیں "مبینہ" دہشت گرد بھی قرر دے دیا گیا۔ اب ان کے لواحقین اس مرگ ناک امید میں مبتلا ہیں کہ جانے کب کس معلوم مقام سے ان لاپتاؤں کی لاشیں ملیں گی۔ کیوں کہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ لاپتہ لوگوں کی بازیاب شدہ لاشوں کی داستان پر مشتمل ہے۔ اس داستان نے لواحقین کو اپنے پیاروں کی زندہ بازیابی کی امید سے زیادہ مسخ شدہ لاش کی شکل میں وصولی کے لیے ذہنی طور پر پہلے ہی تیار کر دیا ہے۔

بلوچستان میں ایسے واقعات روز کا معمول ہیں۔ میں خود کئی ایسے افراد کی گمشدگی کا گواہ ہوں جنہیں سیکیورٹی ادروں نے غیر قانونی حراست میں لیا ہے۔ لیکن سی پیک چونکہ تعمیر کے مراحل میں ہے اس لیے لوگ جب لاپتہ ہوجائیں تو اس کا سرکاری مطلب یہ ہے کہ لاپتہ شخص" نامی شخص" کہیں پر تھا ہی نہیں۔ اور اگر کوئی مارا جائے تو پلک جھپکتے ہی اسے سی پیک کے خلاف "را" کے ہاتھوں میں کھیلنے والا دہشت گرد قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر لاپتہ شخص کے زبان دراز رشتہ دار اپنے پیاروں کی بازیابی کے لئے آواز بلند کرنے کے لئے کچھ کرنے کی کوشش کریں تو ان کی آواز کا گلا گھونٹنے کے لیے فورسز کے پاس کئی حربے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا طریق کار یہی ہے کہ خاموش ہو جاؤ یا لاپتہ ہوجاؤ، خاموش ہو جاؤ یا خاندان کے کسی فرد کی لاش وصول کرو۔ کیوں کہ لاپتہ شخص کا وجود ایک واہمہ تھا۔ جو سالوں سے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا اور اچانک ایسے گیا کہ۔۔۔ اس کا صرف خیال ہیولہ ہی باقی رہ گیا۔

بلوچستان میں ایسی ہزاروں داستانیں موجود ہیں جنہیں سننے کے لئے حساس دل چاہیے۔ بات حساس ذہنوں کی ہوتی ہے تو بلوچستان کے وکلاء ظاہر ہے باقی تمام طبقات سے زیادہ حساس ہیں۔ حساس اداروں کی حساسیت سے بھی زیادہ حساس۔ اتنے حساس کہ انہیں موت ہی بے حس کرے تو کرے۔ لیکن یہ سوال کسی غریب الحس شخص کو جھنجوڑ نے کے لئے بھی کافی ہے کہ ایک بارود بردار شخص کوئٹہ کی ہر گلی کے شروع، درمیان اور آخر میں تعینات "را" پر نگاہ رکھنے والی عقابی نظروں سے بچ کر کیسے سول ہسپتال تک پہنچ گیا؟ ایک ایسی جگہ جہاں تک پہنچنے میں چیک پوسٹوں میں اپنی شناخت کراتے کراتے کئی ملازموں کی ڈیوٹیاں قضا ہو جاتی ہیں وہاں تک خود کش حملہ آور کیسے پہنچ گیا۔ میں بلوچستان سے دو سال قبل ہی نکل چکا ہوں لیکن میرا خیال اُدھر ہی ہے۔ روز معلوم کرتا ہوں، اور روز یہ سنتا ہوں کہ سیکیورٹی اہلکاروں اور چوکیوں کی تعداد بڑھ رہی ہیں۔ اس کے باوجود وہاں تک "را" کا پہنچ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایسے واقعات کی وجہ سے ہی بلوچستان میں یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ یہ حملہ ریاستی اداروں کی مرضی سے ہوا ہے۔

ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔
یہ سوال میں خود سے کرتا ہوں کہ ایک کتاب رکھنے والا نوجوان فورسز کی پہلی چیک پوسٹ پر ہی گرفتار ہو جاتا ہے لیکن ہزاروں میل دور سے ہدایات لینے والا ایک ایجنٹ کیسے اطمینان سے اتنی منصوبہ بندی کرسکتا ہے، اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے؟ بدقسمتی سے یا خوش قسمتی سے بلوچستان میں "را" اب کسی بیرونی خفیہ ایجنسی کا نام نہیں بلکہ سوال کرنے والے لوگوں کی پہچان بن چکا ہے۔ بلوچستان یونیورسٹی سے کئی ایسے "را ایجنٹ" اسلامی قلعہ کے محافظوں کے ہاتھوں قلی کیمپ منتقل ہو چکے ہیں، اور وہاں سے مسخ شدہ لاش کی شکل میں کسی گلی یا ویران علاقے سے دریافت کیے جا چکے ہیں۔

ہماری روایت ہے کسی گھر میں کوئی واقعہ ہوجائے تو سارا محلہ اس کی دلجوئی کے لیے اکٹھا ہو جاتا ہے اور اس گھر میں آنے والے مہمانوں کے کھانے پینے کا بندوبست ہمسایے کرتے ہیں۔ کسی مقتول کے گھر ایسی باتیں نہیں کی جاتیں جن سے لواحقین کی دل آزاری ہو۔ لیکن چونکہ راحیل ہوں کہ نواز، ہمارے لئے دونوں شریف یکساں ہیں اس لئے ہمارے معاشرے کے روشن دماغوں پر حملہ کرکے اسے سی پیک پر حملہ قرار دیتے ہیں۔ پشتونوں کو بخوبی اندازہ ہو جانا چاہیے کہ ہمری ریاست کے لیے اس راہداری کی اہمیت ہماری جانوں سے زیادہ ہے۔ ہمارے روشن مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ایک پوری نسل بھلےموت کے منہ میں چلی جائے لیکن چین سے آنے والی یہ سڑک محفوظ رہنی چاہیئے۔ چیف آف "شریف" صاحب اسے کسی سڑک یا کاروباری کمپنی پر حملہ قرار دے سکتے ہیں، ان کے ساتھ یہ گردان دہرانے کے لیے کئی کاکڑ ، مالک اور سرفراز بگٹی بھی ان کی تان میں تان ملا سکتے ہیں لیکن جن خاندانوں نے اپنے بچے کھوئے ہیں انہیں اس کے بدلے کچھ بھی دیا جائے وہ اپنے بچھڑے ہوؤں کو ہی روئیں گے۔

بلوچستان در حقیقت ایک جنگ زدہ خطہ ہے جہاں کے لوگ پاکستان سے بیزار ہوتے جا رہے ہیں، لیکن پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بلوچستان کے لوگوں کو یوں دکھایا جاتا ہے گویا اگر وہ کسی دن کے شدت سے منتظر ہیں تو وہ 23مارچ اور 14اگست ہیں۔ حالانکہ اگر کوئی بلوچستان کے زمینی حقائق سے واقف ہے تو اسے پاکستان کے جھنڈے اور تقریبات صرف وہاں نظر آئیں گے جہاں نقاب پوش مسلح اہلکار موجود ہوں۔ کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔ ان چیک پوسٹوں پر تضحیک کے لیے گالیاں اور دھمکانے کے لئے ہتھیار بھی موجود ہوتے ہیں ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ایک طرف عام لوگ روزانہ سی پیک کے محافظوں کے ہاتھوں تلاشی کے عمل سے گزرتے ہیں مگر دوسری طرف مذہبی شدت پسندوں کی ایک پوری فوج جس علاقے میں چاہے اپنا کیمپ قائم کرسکتی ہے۔ پاکستان کی نظر میں “را” کے نشانے پر موجود پسنی اور گوادر کے ساحل جیسے "حساس" علاقے میں بھی ملا میران اپنے گروہ کے ساتھ بلوچوں کو قتل کرکے غزوہ ہند شروع کرنے کی بات کرتے ہیں۔

کوئی شخص ایک دن میں ایک چیک پوسٹ سے جتنی مرتبہ بھی گزرے، اسے یہ بتانا پڑتا ہے کہ وہ کون ہے، کہاں گیا، کہاں جا رہا ہے، واپس کب آئے گا۔
پسنی کے ساحل میں لشکر خراسان کے امیر اپنے کئی مجاہدوں کے ساتھ سمندر میں مستیاں کرتے ہوئے ایک ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس حساس علاقے میں یا حساس ادارے جا سکتے ہیں، یا انہیں حساس اداروں کے لشکر خراسان جیسے مردم کُش اور بے حس ہرکارے۔ یہ لوگ ایک جانب گوادر میں سی پیک کا دفاع کرنے اور بلوچوں کو قتل کرنے میں فورسز کے ہم کار ہیں اور دوسری جانب بقول شریف اور زہری صاحب ایسے لوگ ہی سی پیک پر حملہ بھی کر رہے ہیں۔ اس سفید جھوٹ اور عجلت میں دیے گئے بیان کو فرض کرنا بھی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن پاکستانی تجزیہ کاروں نے اسی بیان کی بنیاد پر فتویٰ بازی کی دوڑ میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کی۔ اس بات کو بلوچستان میں بسنے والوں کا ذہن کبھی تسلیم نہیں کرسکتا کہ مذہبی شدت پسندوں اور پاکستانی فوج کے نکتہ نگاہ میں کہیں کوئی فرق موجود ہے۔خواہ وہ سی پیک کا معاملہ ہو، بلوچستان کی تحریک کو ختم کرنے کا معاملہ یا پھر افغانستان پر پھر قبضے کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کی لاحاصل کوشش۔۔۔۔ طالبان اور ہمارے عسکری اداروں کی سوچ ایک ہی ہے۔ اگر سادہ لفظوں اور آسان لفظوں میں کوئٹہ واقعے کو بیان کیا جائے تو یہ بلوچستان کے بلوچ اور افغانوں کے دماغ پر پاکستان کا حملہ تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ بلوچستان میں پاکستان کے شریفوں کو صرف سی پیک ہی نظر آتی ہے۔ ان کا تکیہ کلام ہی سی پیک بنا ہوا ہے۔اس سڑک کی تعمیر سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنے اقتدار کی مضبوطی اور کاروبار کی توسیع کے لئے استعمال کرنے کے لالچ میں پاکستانی فوج بلوچ سرزمین کو بلوچوں کے لہو سے ہی سرخ کر رہی ہے۔ بلوچستا ن میں جہاں جہاں سے اس سی پیک کو گزرنا ہے ان علاقوں میں تو اب کوئی بلوچ بھولے سے بھی نہیں جا سکتا۔پنجاب کی ممکنہ خوشحالی کی قیمت لاکھوں بلوچ خاندانوں نے نکل مکانی، قتل عام اور اغواء کی صورت میں پہلے سے ہی ادا کرنا شروع کر دی ہے۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔ میرے خاندان کا شماربھی انہی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سی پیک کے "تقدس" کا خیال کرتے ہوئے اپنے گھر بار چھوڑ دئیے۔ کئی ایسے خاندان جو اس مقدس سی پیک کی حفاظت کی شرائط پر پورا نہ اتر سکے زندہ لاپتہ ہوکر مسخ چہروں کے ساتھ واپس آئے۔ کولواہ ایسے کئی مجرموں کا گواہ ہے جنہوں نے اپنے گھروں سے نکلنے میں دیر کرنے کی جرم کی اور سزا کے طور پر نشانِ عبرت بنا دئیے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی حفاظتی دہشتگردی کے لاکھوں چشم دید گواہ کیسے "شریف" صاحب کی اس بات کا یقین کرسکتے ہیں کہ کوئٹہ میں ہونے والا حملہ سی پیک پر حملہ تھا۔ وہ جانتے ہیں کہ کوئٹہ کا حملہ در اصل اُس کتاب پر حملہ تھا جو جائے واقعہ پر کسی عاشق کے خون سے سرخ و سفید ہوکر ایک خاموش پیغام دے رہی تھی۔

۔ آواران سے لے کر گوادر تک سی پیک کے راستے میں کئی ایسے خاموش دیہات موجود ہیں جہاں یا جھلسے مکانات کے کھنڈرات بچے ہیں یا صرف قبرستان۔
پاکستان آرمی کی نظر میں ہر کتابی مشکوک ہوتا ہے اور اگر یہ کوئی بلوچ نوجوان ہوتو اس کا قتل عین وطن پرستی ہے۔ اندرونِ بلوچستان سیکیورٹی چوکیوں پر ایسے لوگوں کی تفتیش کچھ زیادہ ہی کی جاتی ہے جنہوں نے جیب میں قلم یا ہاتھوں میں کتاب اٹھارکھی ہو۔ میرے والد صاحب مجھے اکثر کہا کرتے تھے کہ ہم نے آپ کو پڑھایا کہ آپ ہمارے لئے کچھ اچھا کرسکیں لیکن آپ کی وجہ سے ہم بے گھر ہو رہے ہیں (میری تعلیم بھی میٹرک تک ہے)۔ ظاہر ہے کوئٹہ کے وہ وکیل جو کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں مجھ سے کئی گنا زیادہ علم رکھتے ہیں۔ یہ ان کی بدقسمتی ہے کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں عِلم رکھتے ہیں جہاں پورا معاشرہ قاتلوں کا علمبردار ہے۔انہیں اس معاشرے میں جینے کا کوئی حق نہیں۔

کتابوں کے عاشق ہی معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کو قریب لاتے ہیں اور اعتماد اور برداشت کی فضاء قائم کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ کتابوں کے عاشق اگر وکیل ہوں تو ظاہر ہے کہ ان کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق معاشرے کے تمام طبقات سے ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی بلوچستان میں وکیل ہو تو یقینی طور پر "را" کو ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ اس کی جانب سے اغواء کیے گئے کسی مغوی کے مقدمے کو یہی وکیل نہ لڑیں اس لئے کہیں سے کوئی خودکش بمبار خاردار تاروں، ریاستی خفیہ ایجنسیوں، ہزاروں چوکیوں اور چیک پوسٹوں سے بچتا بچاتا ایک وکیل کو قتل کرتا ہے۔ اور پھر یہی شخص اس انتظار میں دام بچھاتا ہے کہ باقی وکیل اس کی لاش لینے آئیں گے تو سب کو خود سمیت ہلاک، شہیداور جاں بحق کردے۔ بلوچستان میں "را" کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے، کیوں کہ یہ سہولت صرف ان کے لئے ہے جو کبھی وجود رکھتے تھے بقول سرکار، لاپتہ لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں۔ اگر کہیں کسی نے غلطی یا مجبوری کے تحت کوئی ایف آر درج کرائی ہو تو ہر روز کوئی نہ کوئی "را" والا اس خاندان کے سربراہ کو شفیقانہ انداز میں مرنے اور لاپتہ ہونے کے لئے تیار رہنے یا ایف آئی آر واپس لینے میں سے کسی ایک کے انتخاب کی تجویز دیتا ہے۔

بلوچستان میں "را" کی ایک اور کوشش یہ بھی ہے کہ جب کہیں سے کوئی شخص لاپتہ کیا جائے تو اس کے خلاف کسی تھانے میں ایف آر درج نہ کی جائے
"را" نے جو کرنا تھا اس نے کیا۔ ایک پورے معاشرے کو ماتم پر بٹھانے کے بعد شریف صاحب فرما رہے تھے کہ کومبنگ آپریشن کیا جائے۔ یعنی کہ یہ ماتمی تھوڑے کم ہیں، اس موقع کو غنیمت جان کر سی پیک مخالفین کو ختم کیا جائے۔ اس سی پیک کے مخالفین بھی عجیب ہیں، مرتے رہتے ہیں لیکن مخالفت نہیں چھوڑتے، ان چرواہوں کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اپنے وطن سے زیادہ کسی دوسرے ملک کی سڑک کو اہمیت کیوں کر دی جاسکتی ہے۔ انہیں نہ لڑاکا طیارے سمجھانے میں کامیا ب ہوئے ہیں، نہ مسخ شدہ لاشیں اور نہ ہی طارق جمیل کا نظریہ جنت۔۔۔۔ اب جب کومبنگ آپریشن ہوگا تو ظاہر ہے اس کا رخ سی پیک کے مخالفین کی جانب ہوگا کیوں کہ کوئٹہ کا حملہ سی پیک پر جو تھا۔ ایک مرتبہ پھر اعلان کیا جارہا ہے کہ "را" کو سبق سکھایا جائے گا۔ بقول شخصے پاکستان تو ہمیشہ سے "را" کو ہی سبق سکھاتا آرہا ہے خود کچھ نہیں سیکھتا۔ بہرحال بلوچستان اس اعلان کے بعد منتظر ہے پہلے سے جاری آپریشن میں آنے والی شدت کا، لاپتہ افراد کے لواحقین بھی منتظر ہیں کہ کب کسی جعلی مقابلے میں ان کا سالوں سے لاپتہ لخت جگر مارا جائے۔لیکن اس لختِ جگر کو اب کون یہ سمجھائے کہ "را" سے تمہارا تعلق کسی دفتر میں جوڑ دیا گیا ہے، اب تمہاری قتل سے کسی فوجی کے رینک میں اضافہ ہوگا، حب الوطنی میں وہ اپنے جونیئرز سے ایک نمبر آگے ہوگا۔ ظاہر ہے اتنے بلند و بالا مرتبے کے لئے کسی خاندان کے پیارے کا چھن جانا کوئی "گھاٹے" کا سودا نہیں۔

کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے

کوئٹہ پر حملہ کتاب پر حملہ ہے

مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ کوئٹہ جیسے بڑے شہر میں کوئی طالب علم ایک کتاب لے کر کسی چوکی سے نہیں گزر سکتا، ہر شخص اپنے گھر جاتے ہوئے دسیوں بار یہ سوال روزانہ سنتا ہے کہ کہاں جا رہے ہو؟ ان سب کے باوجود اس شہر میں ایک منصوبہ بند قتل کیسے کامیا بی سے سرانجام پا سکتا ہے؟جواب نہایت سادہ ہے، یہ ریاست کی جانب سے بلوچ اور افغان معاشرے کی دماغ پر حملہ ہے۔ یہ اِن معاشروں کے مستقبل پر ضربِ کاری کی کوشش ہے۔ بزرگ بلوچ کا یہ مقولہ بالکل سچ ثابت ہورہا ہے کہ "غلامی کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے، اتنی زیادہ نقصان اُٹھاؤ گے"۔
Latif Johar Baloch

Latif Johar Baloch

Latif Johar is a Baloch nationalist leader, poet, writer and a member of Baloch Students Organization's central committee. Recently he was on a hunger strike for 46 days on the issue of Baloch missing persons.


Related Articles

راولپنڈی اسلام آباد میٹروبس منصوبہ

میٹروبس کا منصوبہ جو ترکی کے تعاون سے شروع کیا گیا تھا ، اس حوالے سے اسلام آباد راولپنڈی میٹروبس منصوبے کو شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ۔

Legitimacy of 2013 General Elections

Pakistan is faced with many problems today and there is no doubt that terrorism is the biggest one of them.

جوہری معاہدہ، گیس پائپ لائن اور بلوچستان

معاشی پابندیوں میں گھرا ایران بالآخر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کے بھنور سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔