بندے علی

بندے علی
وہ یہاں کب سے تھے یہ نہیں بتایا جا سکتا۔ امانی اورماما حسن باندی بتاتی تھیں کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ کر ادھر آ بسے تھے۔ منہ لمبا ساتھا اور رنگ شائد آبنوسی ہی ہو گا۔ لمبے، ایک ہیولے کے جیسے، ہر وقت غیر محسوس طریقے سے گھر کے کام سنبھالے رہتے تھے۔ ہمشیر، بھائی اور میں اکٹھے سکول کے لیے نکلتے تھے، وہ اُس وقت ایک پھِرکی کے جیسے سارے گھر میں گھومتے پھِرتے۔ ہمشیر نے انڈا اُبلا ہُوا کھانا ہے، میں خاگینہ لے کر جاؤں گا، بھائی توس پر ملائی اور شہد لگائیں گے، مُجھے پانی کی جگہ ساتھ لے جانے کے لیے شربت دینا ہے سب کچھ اُنہیں ازبر تھا۔ لو بھئی سب نے کھانا کھا لیا چلو اپنے اپنے بستے لا کر دو مجھے، نا بیٹا مجھے دو، خود نہیں اُٹھانا، چار بستے کاندھوں پر لٹکائے لشٹم پشٹم وہ ہمارے پیچھے پیچھے چلتے آتے۔ہمشیر اپنے سکول کی گاڑی میں سب سے پہلے روانہ ہوتیں،پھر میں اپنے سکول، آخر میں بھائی کو چھوڑنے خود جاتے۔گھر میں کیا پکنا ہے، کتنا پکانا ہے، بی جان بالکل بے فکر ہوتی تھیں، بھائی کو چھوڑکر وہ خود قریب کے بازار سے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد سبزی پھل لاتے اور چولہے کے ہو جاتے۔ دروازے پر گھنٹی بجی، بی جان آپ رہنے دیں میں دیکھتا ہوں، دوڑے ہوئے گئے، آنے والے کو بھگتا کر ہانپتے ہوئے آئے کہ سالن کے خیال میں قدم خود بہ خود تیز ہی پڑتے تھے۔ جب تک کھانا بنا کر فارغ ہوتے تو چچا میاں کے مُلاقاتی آنے شروع ہو جاتے، اب اُن کے چاء پانی، نشست و برخواست کے مدار المہام بھی وہی ٹھہرے تو وہ اب یہاں مصروف ہو جاتے۔ وقت ضرور پوچھتے رہتے کہ بھائی کو لے کر بھی آنا ہوتا۔ ہم دونوں کو تو واپسی پہ گھر اُتارا جاتا تھا۔ مُلاقاتیوں کا زور ٹوٹتا تو ہم لوگوں کی واپسی کا وقت ہو جاتااور آتے ہی کھانا پروس دیا جاتا۔ پھر قاری چچا، پھر بھائی کے اُستاد، پھر میرے اُستاد آ جاتے اور سب مارے باندھے کھانے کی میز پر پڑھنے بیٹھے رہتے۔ وہ سب کے لیے چاء کا بندوبست کرتے، سامنے باغ میں پانی دیتے اور پودوں کی کاٹ چھانٹ میں لگے رہتے۔ مغرب کی اذان کے بعد بھائی کا کوئی دوست آتا تو اُسے ڈانٹ کر بھگا دیتے اور مُنہ بسورے بھائی روزانہ تقریباً یہی جملہ سنتے ’بی جان، صاحِبزادے کو بتا دیں کہ شریفوں کی اولاد رات میں گھر پر اچھی لگتی ہے‘۔ شام سات بجے وہ گھر کے پچھواڑے، اپنے کمرے میں چلے جاتے اور نہایت دھیمی آواز میں ریڈیو سنتے رہتے۔

معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔
معمولات سارا سال یکساں رہتے، فرق آتا تو سوگ کے مہینے میں آتا تھا۔ بندے علی چاند دیکھتے ہی کالا کُرتا پہن لیتے، ڈاڑھی بنانا چھوڑ دیتے، کھانا پکانا یا گھر کا کھانا بالکل بند ہو جاتا تھا اور جو بھی تبّرُک ملتا بس اُسی پر گزارا کرتے۔ ظہر سے لے کر رات ایک بجے تک گھر کے قریبی عزاخانے میں بیٹھے رہتے، ہر جُلوس میں بطور رضا کارساتھ رہتے، آٹھویں دن جُلوس میں ننگے پیر تپتی زمین پر نشان اُٹھائے آگے آگے ہوتے، جہاں جُلوس رکنا ہوتا وہاں نشان کا بانس پاؤں کے اوپر ٹِکا لیتے کہ نیچے زمین کو لگنے سے بے حُرمتی نہ ہو۔ واپس آ کر سبیل لگائی جاتی، دسویں دن جُلوس میں زنجیرماتم کرتے، گھر آتے تو زخموں پر راکھ اور تیل کا لیپ ہوتا، دو روز اوندھے لیٹے رہتے، سوئم امام سے پھر حاضریاں شروع ہو جاتیں، ہاں، کالا کُرتا سوئم کے بعد اُتار دیتے تھے۔ چہلم تک اُن کے زخم جو ابھی ٹھیک سے بھرے بھی نہ ہوتے دوبارہ زنجیرماتم سے خراب ہو جاتے ۔ بی جان نے کئی بار ہمیں اُن کے کمرے میں بھیجا کہ اُن کا ماتمی سامان ڈھونڈ کر چُھپا دیں لیکن وہ شاید باہر کسی کے ہاں رکھ کر ہی آتے تھے۔ داجان کئی بار اُن سے بحث کرتے لیکن وہ ہر بار جھلّاکر یہی جواب دیتے کہ بھائی جان، قیامت کے دن مولا کو اپنا مُنہ دکھاؤں گا یا مُلّا کا فتوی، کہ زنجیرماتم کے بجائے خون عطیہ کر دو، بھلا بتائیں، مولا کو یہ کہوں گاکہ امّاں، باوا کا دین مولویوں کے کہے سے بدل دیا؟

داجان نے ایک دن بندے علی کی کہانی سنائی تھی، لیکن اس شرط پر کہ ہم اُن سے کبھی اس بارے میں کوئی سوال نہیں کریں گے۔ نواب زمان حیدر خان اپنے وقتوں کے بڑے پرگنہ داروں میں شمار ہوتے تھے۔ تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔ کئی بار لڑائی جھگڑا سر پھٹول کی، ما ں باپ کے کہے میں نہ آتے تھے، رنگا رنگ اسلحہ جمع کیا ہوا تھا لیکن لڑائیاں ہمیشہ خالی ہاتھ لڑے۔ پڑھائی کے بعد باپ کو ایک ہی راستہ نظر آیا اُنہیں سُدھارنے کا، کہ فوج میں بھرتی کروا دیا جائے۔ ماں باپ کے بارہا سمجھانے کے باوجود وہ جانا نہیں چاہتے تھے کیوں کہ اُن کی نظر میں زمان حیدرکی سات نسلوں کو نوکری کی ضرورت نہیں تھی۔ ایک دن ماں نے انہیں اپنی قسمیں دے کر راضی کر لیا۔

وہ فوج میں گئے لیکن نواب زمان حیدرسے اکلوتے بیٹے کا جانا برداشت نہ ہوا اور اگلے ہی مہینے دِل کے معمولی دورے کے بعد بخار میں انتقال فرما گئے۔ اب اِن کی والدہ نے جانے کیامصلحت سمجھی کہ اِنہیں باپ کے مرنے کی اطلاع نہ دی (شاید یہ سوچا ہو کہ نوکری چھوڑ چھاڑ کر آ جائیں گے اور پہلے سے زیادہ بگڑ جائیں گے)، بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر بڑی بہن نے چالیسویں پر خط لکھ مارا جو اُنہیں ایک ہفتے بعد ملا۔ طیش میں آکر اُنہوں نے قسم کھائی کہ جس ماں نے انہیں مرے باپ کا چہرہ نہیں دیکھنے بلایا اس کا مُنہ اُن کے مرنے کے بعد بھی نہیں دیکھیں گے۔ آٹھ دس سال اُنہوں نے فوج میں گُزارے لیکن گھر کا کبھی قصد نہ کیا، بہنیں آتیں، ماں جائے کو مل کر آنکھیں ٹھنڈی کر لیتیں اور پلٹ جاتیں۔

تین بہنوں کے بعد بڑی منّتوں مُرادوں سے بندے علی پیدا ہوئے، پوتڑوں کے رئیس تھے، لاڈ پیار اتنا اُٹھایا گیا کہ نہایت خود سر ہو گئے۔
بعد میں بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی۔ ایک روز داجان ماما حسن باندی، بی جان اورہمشیر کو لے کر ساحلِ سمندر جا رہے تھے کہ بہت بھیانک طریقے سے اُن کی گاڑی کو ایک بس نے ٹکر مار دی، سب لوگ کافی زخمی ہوئے لیکن داجان اور ماما حسن باندی تو بے ہوش ہو چکے تھے۔ ہمشیرکے بازو پر آج بھی وہ زخم کا نشان نظر آتا ہے، خیر، جو لوگ مدد کو دوڑے آئے اُن میں بندے علی سب سے آگے تھے کہ اُدھر ہی آس پاس ہوٹل تھا اور بس کے انتظار میں کھڑے تھے۔ ہمشیر کو گود میں اُٹھا کر اُنہوں نے ایمبولینس بُلوائی اور سب کو بھاگم بھاگ اسپتال داخل کرایا۔ تین دن تک کسی کی حالت ایسی نہ تھی کہ ہمشیر کو سنبھالتا، یہ بے چارے وہیں داجان کی پائنتی سے لگے بیٹھے رہتے اور اِس ننھی بچی کو بھی سنبھالتے۔ امانی بی جان کے پاس ہوتی تھیں۔ داجان کے گھر آنے پر یہ اُن کے ساتھ ہی گھر آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ایک بار اُن کی بڑی بہن ملنے بھی آئیں، بہت واسطے دئیے کہ یہ جا کر علاقہ سنبھال لیں مگر وہ بندے علی ہی کیا جو ہٹ کے پکے نہ رہیں۔ ماں کی وفات ہوئی تو بھی یہ چہلم کو دو دن کے لیے گئے اور اپنی ضد نِبھائی۔

تب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ کیا تھے اور کیا ہو گئے۔

بھائی کی اُن سے بالکل نہ بنتی تھی کہ وہ عمر کے اُس حصے میں تھے جہاں ماں باپ کی لگائی پابندیاں برداشت نہیں ہوتیں کُجا کوئی اور روک ٹوک کرے۔ بندے علی کھیل کودسے کبھی نہیں روکتے تھے بلکہ خود بھی قومی کھیل کے بہت اچھے کھلاڑی رہ چکے تھے اور اُن دِنوں بطور فیصلہ کُنندہ مُلکی سطح کے مُقابلوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن کی روک ٹوک ہوتی کہ فلاں لڑکا تمباکو پیتے دیکھا تھا میں نے، تم اُس سے کیوں مل رہے ہو، بے وقت کہاں جا رہے ہو، گرمیوں میں دوپہر کو آرام کیا کرو وغیرہ وغیرہ۔ بھائی کبھی کبھی اُن سے نظر بچا کر نکل بھی جاتے لیکن وہ پھر بی جان اور داجان کے پیچھے پڑ جاتے کہ آپ لڑکے کو بگاڑ کر ہی دم لیں گے اور بھائی کے آنے کے بعد اُن سے بھی دِنوں ناراض رہتے، بھائی، تم روٹھے ہم چھوٹے کے مصداق اِتنے دِن اور آزادی مناتے۔ آخر ایک دِن بندے علی خود ہی بداؤں کے پیڑے لے آتے جو بھائی کو بہت پسند تھے اور تھوڑا بہت ڈانٹ کر اُنہیں پاس بُلاکر گلے سے لگا لیتے اور کہتے’ارے ماٹی مِلو، تمہی سب نے ہمیں گڑھے میں اُتارنا ہے، چار کندھے بھی پرائے ہوں تو کیا میّت کیا جنازہ‘۔

بندے علی فوج کی نوکری چھوڑکر یہاں آگئے۔ بندرگاہ کے قریب ایک ہوٹل میں نوکری کر لی اور جیسے تیسے گُزارہ کرنے لگے۔ داجان کا دفتر اُن کے ہوٹل کے قریب تھا، یہ اکثر وہاں جاتے تو بندے علی سے بھی سرِ راہ ملاقات ہو جاتی
اُنہوں نے شادی بھی اِسی لیے نہیں کی کہ آزاد منش اور تھوڑے سنکی تھے اور اپنی طبیعت سے واقف بھی تھے۔ کئی بار بی جان نے کہا، بہنوں نے بھی زور دیا لیکن زیادہ کہنے پر ناراض ہو جاتے اور چپ کر کے باہر نکل جاتے۔ گلی کے بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، نامعلوم کس بچے نے اُن کی چھیڑ ماضی میں ہوٹلوں پر کام کرنے کی وجہ سے ’انڈاگریوی‘ رکھ دی، اب یہ نکلتے اور کوئی بچہ باہر ہوتا تو آواز لگا کر غائب ہو جاتا اور یہ بے چارے دیر تک چِڑے رہتے اور غصے میں گھومتے رہتے۔

اِس بار بھی سوگ کے مہینے میں وہ اپنے معمول کے مطابق نکل پڑے، مجلس، جلوس، تعزیئے، سبیلیں، بندے علی نے پورے جی جان سے ساری عزاداری کی، دسویں کو رات جب گھر آئے تو طبیعت بہت خراب تھی، ماتم سے خون کی کمی اور کمزوری کافی تھی۔ داجان بھاگم بھاگ اسپتال لے گئے، وہاں معلوم ہوا کہ اِن کی کمرکئی بار زخمی ہونے کی وجہ سے ناقابلِ علاج ہے تو مرہم پٹی کروا کے گھر لے آئے۔ بی جان نے بہت ڈانٹا، منع کیا کہ آج کے بعد آپ سب کچھ کریں گے زنجیرماتم نہیں، یہ بھی سر جھکائے سنتے رہے، کمرے میں گئے، تمباکوپیا، اوندھے لیٹے رہے، سو گئے۔ بھائی نے بھی بستر اُٹھایا، خاموشی سے جا کر اُن کے کمرے میں زمین پر بچھا دیا اور لیٹ گئے۔رات کو خون زیادہ بہہ جانے سے دل کا دورہ پڑا، بھائی اور داجان اسپتال لے کر دوڑے، وہاں اُن کی حالت سنبھل گئی اور صبح اُنہیں لے کر آگئے۔ اب اُن کے نکلنے پر پابندی تھی، بھائی بھی چار پانچ دن ڈبڈبائی آنکھیں لیے ان کے آس پاس گھومتے رہے، پھر کالج کُھلے تو بھی آنے کے بعد اُن کے پاس چلے جاتے اور زیادہ وقت وہیں گُزارتے۔ وہ چہلم سے دو دن پہلے نکلے، بازار جا کر ٹرنک کال بُک کرائی، بہنوں کو فون کیا، گھر واپس آتے ہوئے ہم سب کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے لائے (باوجود اِس کے کہ سوگ کے مہینے میں کبھی نئی چیز نہیں خریدتے تھے)، بی جان کے پاس گئے اور ایسے لہجے میں چہلم کے جُلوس میں جانے کی اجازت مانگی کہ اُنہیں دیتے ہی بنی لیکن زنجیر ماتم سے اُنہیں سختی سے منع کیا۔ یہ بھی وعدہ کر کے چلے گئے۔ چہلم کے روز عصر کا وقت تھا، قریبی عزاخانے سے فون آیا اور اِطلاع دی گئی کہ بندے علی کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، داجان اور بھائی فوراً دوڑے لیکن بندے علی اُن کے پہنچنے سے پہلے ہی جا چُکے تھے۔ جو لوگ ان کے ساتھ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ بار بار یہی کہہ رہے تھے 'بی جان کو مت بتانا، بی جان کو مت بتانا'۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پارس

کیمیا گر نے مجھے امانتا ً ایک سیاہ ملحوف پتھر دیا اور اُسے سنبھالنے کی تاکید کی .

حکایات جنوں

خدا کے ترازو کے آس پاس داڑھیوں، مسواکوں، تسبیحوں، مصلوں، برقعوں،صحیفوں، کھجوروں، تلواروں، ٹخنے سے اونچی اور ٹخنے سے نیچی شلواروں اور لوٹوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا ، خدا نے انسانوں کی صرف روحیں تولنے کا حکم دے دیا تھا۔

سمندر منتھن

جس طرح دہی بلونے سے مکھن نکلتا ہے اسی طرح سمندر متھنے سے چودہ انمول رتن نکلیں گے، جن میں امرت بھی ہوگا۔ وہ امرت ہم سب مل کر پئیں گے۔