بڑھاپا جاگ جاتا ہے

بڑھاپا جاگ جاتا ہے
بڑھاپا جاگ جاتا ہے
شاعر: ٹیڈ ہیوز
مترجم: یاسر چٹھہ

 

اپنی راکھ، چنگاریوں اور جلی ہوئی لکڑیوں کو ہِلاتے جُلاتے

 

ایک غازہ مَلی ہوئی آنکھ، ایک بار آدھی پگھلی، بعدازاں جم گئی ہوئی
سوچتے بچارتے
ان خیالات کے متعلق، جو چکنا چور ہو جاتے ہیں
توجہ کی نظر کے پہلی ہی بار مٓس کرنے سے

 

کھڑکی پہ پڑنے والی روشنی، کتنی مربع شکل اور عین پہلے ہی جیسی
بالکل ہمیشہ جیسی، پوری طرح توانا، اور اس کھڑکی کا قالب
خلا میں باندھی ایک مچان جوکہ آنکھوں کے اوپر جھکنے کے واسطے ہے

 

جسم کے آسرے کے واسطے، اپنے پرانے کام کرنے کی شکل میں ڈھلے
سُرمئی ہوا میں چھوٹی چھوٹی مسافتیں کرتے
سُن شُدہ اس دھندلائے سے حادثے سے
اس مہلک، حقیقی گھاؤ کی کیفیت کے اندر سے گذر آنے کے
نِسیان کی لاچاری کے زیرِ اثر

 

کوئی چیز اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں گرداں رہتی ہے، کھوجتی ہے
اپنے حق میں دلیلیں، لیکن لفظ پھسل جاتے ہیں
مکھیوں کی مانند، اپنے ہی مطالب نکالتے

 

بڑھاپا آہستگی سے ملبوس ہو جاتا ہے
موت رات کی بھاری خوراکِ دوا پر
بستر کے ایک کونے پہ بیٹھتی ہے

 

اپنا ریزہ ریزہ چُن کے اکٹھا کرتی ہے
اور اپنی قمیص میں ٹانک لیتی ہے۔

Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

موضوع کی تلاش میں ایک ہیرو سوچ

خیال آسمانی جانور ہے
مگر ہمیشہ ایسا لگتا ہے کہ
کسی نالی میں تیرتا ہوا کیڑا ہے
جسے دیکھ کر گھر والوں کا

وارث شاہ کی ہیر کی کھونٹی

ثروت زہرا: وارث شاہ کی
ہیر کی کھونٹی تو نے میرے
دل کے لبادے کس لمحے میں مانگ لیے ہیں

مردود

علی زریون: اپنی نظموں کے یہ "کھوٹے سکّے" اُٹھا
اپنے جیسوں میں جا
اور یہاں سے نکل