بھائی صاحب کا مذہب

بھائی صاحب کا مذہب

تصنیف کے لیے اکثر لوگ مجھ سے کہا کرتے ہیں کہ یہ شخص مذہب کے تعلق سے جیسی باتیں کرتا ہے ا س سے سوائے غیر ضروری جھگڑوں ، لڑائیوں اور تنازعات کے اور کچھ حاصل نہیں۔ کبھی بھی کچھ بھی کہہ دیتا ہے، مذہب کو گالی دیتا ہے اور ننگی ننگی عورتوں کی تصویروں کو پوجتا ہے۔ایک روز ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ معاف کیجیے گا ، بھلے سے وہ آپ کا بھائی ہے ، لیکن جس دن وہ میرے ہاتھ لگا میں اس کی گردن مار دوں گا۔ ایسی باتیں میں تصنیف کے تعلق سے اکثر سنتا رہتا ہوں ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میرے تعلقات مذہبی لوگوں سے ذرا زیادہ ہیں ۔ میں تصنیف کو کبھی ان باتوں کے متعلق کچھ نہیں بتاتا ، نہ اس سے اس بات کی تلقین کرتا ہوں کہ تم اپنے خیالات بدل لو کیوں کہ دنیا والے تمہیں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ میں کہوں بھی تو کس منہ سے کیوں کہ میں تصنیف اور اس کے اطراف میں بسی اپنی دنیا کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں ، مذہب کے منہ لگے اور اس سے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے والوں کے اعمال سے بھی واقف ہوں اور تصنیف کی زندگی کےبدلتے ہوئے رنگوں سے بھی۔ آج سے تقریبا ً سولہ ، سترہ برس قبل کی بات ہے کہ رمضان کے مہینے میں میں ایک روزاپنے ایک دوست کے گھر مغرب کی اذان سے کچھ پہلے پہنچا چونکہ میں روزوں کے معاملے میں شروعات سے بڑا بے نیاز واقع ہوا ہوں اس لیے بڑے دھڑلے سے اس سے پانی مانگ بیٹھا اس نے مجھے دو چارموٹی موٹی گالیاں دی اور کہا ابے تنو تجھ سے کہیں زیادہ کمزور ہے پھر بھی پورے روزے رکھتا ہے اور ایک تو ہے کہ ایک دن بھی کھائے پیئے بنا نہیں رہ سکتا۔ کیا تجھے اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟ اس نے مجھے پانی دینے کے بجائے اللہ سے ڈرانا شروع کردیا، مگر میں نے اس دوران کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا کہ کیا اللہ سے ڈرنا چاہیے ؟ کیا روزے رکھنا واقعی میں فرض ہیں ؟ فرض ؟ تصنیف رکھتا تھا روزے ، پورے تیس ، میں تو آج بھی اس کے اس جذبے کے بارے میں سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں ۔ کیا تصنیف کو اللہ سے ڈر لگتا تھا؟ بچپن میں تصنیف نے اللہ کو جیسے اپنی زندگی کا محور بنا رکھا تھا، یہ وہ ہی شخص سے جس کی ایک وقت کی نماز قضا نہیں ہوتی تھی ، نہ فجر نہ عصر نہ عشا ۔ دنیا جہان کے وظیفے ، اللہ ہو کی صدائیں ، تسبیح کے دانوں پر آیت کریمہ کا ورد ، درود تاج ، دعائےگنج العرش، سور یسین ، صوفیہ کے قصے ، تاریخ اسلام اور اقبال کی شاعری ، بس یہ ہی سب تو ہمارا معمول تھا، میرا سب سے بڑا بھائی ساحل جو ہمیشہ سے ایک متوسط ذہن کا شخص رہا ہے اس نے ہمیں اللہ کے قریب ہونے کی طرح طرح کی ہدایات کیں ، اسی نے ہمیں ، قوالیوں سے محظوظ ہونا سکھایا اور اسی نے ہمیں غوث اعظم اور خواجہ اجمیری کے مراتب کا احساس دلایا ، وہ تصنیف کا مذہبی معاملات میں پیر ومرشد تھا۔ اب تو ان باتوں پر ہم چاروں پانچوں بھائی بہن ایک کمرے میں بند ہو کر ہنستے ہیں ، پر ہماری ہنسی کمرے سے باہر آتے آتے ختم ہو جاتی ہے ، پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ سارے واقعات تصنیف کے دل میں ناسور بن کے پکنے لگے ۔ اس کا اللہ سے رسول سے قرآن اور مذہب سے گیتا اور بائبل سے سارے معتقدات پر سے یقین ہی اٹھ گیا۔ ہم نے تو بچپن میں ساتھ پرورش پائی ، ساتھ ہنسے کھیلے ، ساتھ مذہب سیکھا، ساتھ دہرئیے بنے ، مگر اللہ کا انکار کرنے اور اسلام کو گالی دینے میں تو تصنیف ہم سے کہیں زیادہ آگے نکل گیا جس کو ہم لوگ ہمیشہ گھر کا سب سے ذہین اور سمجھدار ، سیدھا اور شریف لڑکا کہتے تھے۔ اسکول ، گھر، محلے ، پڑوس میں اگر کبھی مجھے کوئی برا بھلا کہتا تو میرے بھائی کی مثال دیتا۔ تصنیف پڑھائی میں اتنا اچھا اور اس کو دیکھو ، نرا گاودی ، نہ ہندی آئے نہ مراٹھی نہ انگریزی اور نہ اردو ۔ وہ تو نماز روزہ بھی کرتا ہے اور محلے کے گھروں میں گھوم گھوم کر میلا د شریف بھی پڑھتا ہے ۔ ایک بار ایک عورت نے تصنیف کے میلاد پڑھنے پر یہ اعتراض گڑھ دیا تھا کہ یہ میلاد اکبر کی تما م حمدیں ، نعتیں ، منقبتیں اور مناجاتیں ایک ہی انداز میں پڑھتا ہے ۔ تصنیف کو اس میں بڑا مزا آتا تھا، قصص الانبیا پڑھنا ، عیسی ، موسی کے واقعات سنانا، انیس کے مراثی پڑھنا ، اعلی حضرت کا سلام گنگنانا اور مولی علی کے خطبے ابا کی کتابوں والی الماری سے چھپ چھپ کے نکال کر پڑھنا ۔ میں جو ہمیشہ سے گھر میں دوسرے درجے کی اولاد رہا اس کو تصنیف کی مذہبیت نے بڑا نقصان پہنچا یا ، ذلیل کیا اور کسی کی آنکھوں کا تارا نہیں بننے دیا۔ باپ نے اس کی ادب فہمی پر اسے گلے سے لگایا ماں نے اس کی مذہب پرستی اور صوفیہ شناسی کی وجہ سے ۔ خانقاہ قادریہ کے سالم میاں کا ہمارے گھر میں بڑا اثر تھا ، کبھی وہ سلمہ منزل آتے تو اپنے پورے لاو لشکر کو پہلی منزل پر حسین بھائی کے گھر چھوڑ کے دو پانچ منٹ کے لیے ضرور ہمارے چھوٹے سے گھر میں براجتے ، سب کو شفقت بھری نگاہوں سے دیکھتے اور بچوں کے سروں پر پیار سے ہاتھ پھیر کر انہیں دعائیں دیتے۔ ان کی دعائیں تصنیف کے لیے کچھ تو معنی رکھتی ہوں گی اسی لیے تو اس نے سالم میاں کی شان میں آٹھ ، دس برس کی عمر میں ہی ایک عدد قصیدہ رقم کر دیا تھا ۔ میں نے تصنیف کو مذہبی دنیا میں نورانی اور چمکتی ہوئی آنکھوں سے گردش کرتے دیکھا ہے ، ادب سے تو اس کا تعلق بعد میں مستحکم ہوا اولیت تو اس کے یہاں مذہب کو ہی حاصل تھی ۔ ایک مولوی کی طرح وہ اپنے پورے خاندان کے سامنے کھڑا ہو کر تقریر کرتا تھا ، کربلا کے واقعات کو رو رو کر بیان کرتا تھا ، عزیز میاں کی قوالیوں پر جھومتا تھا ، یہ تصنیف ہی تھا کہ اس نے اپنی بمبئی کی پوری اٹھارہ سالہ زندگی میں کبھی مذہب کے تعلق سے کوئی الٹی سیدھی بات نہیں کی ۔ پھر وہ آج مجھ سے بات کرتے ہوئے امام اعظم کو جاہل کیسے کہہ سکتا ہے ، قرآن میں غلطیاں کیسے نکال سکتا ہے ، رسول کی احادیث کا مذاق کیسے اڑا سکتا ہے ۔ لوگ صرف ایک حقیقت جانتے ہیں اور اس حقیقت کو سچ کے ترازو میں تو ل کر اپنا فیصلہ سنا دیتے ہیں ۔ تصنیف کی تخریب کا حال اتنا زیادہ پیچیدہ ہے کہ اس کو مذہبی جذبات سے جڑا سیدھا سادہ اور ذہن کو ذرا بھی تحریک نہ دینے والا شخص کبھی سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ جو سچ کی تلاش کرتا ہے وہ افکار میں الجھتا ہے ، عقل کے پتھریلے راستوں سے گزرنے کی سعی کرتا اوراپنے اندر کانٹوں بھرے جنگلا ت کی سیر کر نے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے ۔ ایسا عمل کرنے والا لہو لوہان بھی ہوتا ہے ، منہ کے بل بھی گرتا ہے اور اصل راستے سے کبھی کبھی بہت دور بھی نکل جاتا ہے ۔ تصنیف نے مذہب کو گالی دینا مذہب کوماننے کے بعد شروع کیا ہے ، اس لیے اس کے مذہب پہ وہ شخص سوال قائم کرنے کا اہل نہیں جو لکیر کا فقیر ہو جو مذہب کی دنیا میں ایک عقیدے سے جڑ کر اس کے ساتھ پوری زندگی گزار کر جنت حاصل کرنا چاہتا ہو۔ مذہبی فرقہ پرستی میں الجھنے والے اس سفرکے صرف ایک پہلو سے واقف ہیں ، اسلام کے ماننے والوں کی ایک بڑی جماعت ایسے فرقہ پرستوں سے بھری پڑی ہے ، اہل حدیث،کچڑیلوی ، دیوبندی ، سنی ، معتزلی، ماتریدی ، حنفی ، شافعی، مالکی ، حنبلی یہ سب انہیں بھٹکی ہوئی دنیاوں کے ناکام مسافر ہیں ۔ کوئی ائمہ کی تفریق میں پھنسے تو اس کا مذہب جس طرح ایک دائرہ اعتقاد میں مشکوک ہوجاتا ہے یا جو فقہا اور صوفیہ کے جھگڑوں میں دائرہ مذہب سے باہر ہو جاتا ہے ، تصنیف بھی اسی طرح مذہب کی دنیا سے دور ہوا ہے ۔ تصنیف کا مذہب ایک طویل مسافت کے بعد غیر مذہبی دنیا تک پہنچا ہے ۔ آج جب اس کی لا مذہبیت پہ لوگوں کے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور اس کے خیالات سے ان کو اپنا مذہب خطرے میں نظر آتا ہے تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ اس پورے سفر سے لاعلم مذہب کو ماننے والے یہ آنکھوں پر پٹی باندھے لوگ کتنے معصوم ہیں کہ انہیں کسی شخص کے نفسیاتی سفر سے کچھ علاقہ ہی نہیں ہوتا۔ مجھے تصنیف سے اختلاف ہوتا ہے ، میں اس کو مذہب سے انحراف پر کبھی کبھی ٹوکتا بھی ہوں ، اس سے بحث بھی کرتا ہوں ، مگر اس کے اس سفر کو کبھی فراموش نہیں کرتا جو مسنون دعاوں سے شروع کر ، پنچ سورہ، تہجد کی نماز ، نوافل ، فرائض ، روزہ، زکوۃ اور بہجت الا سرار جیسی موٹی موٹی مذہبی کتابوں کا سفر کرتے ہوئے اوشو کی نیم مذہبی دنیا تک پہنچا ہے اور رسوم و رواج کے جنگلات سے گزر کر بے یقینی کی مسحور کن وادیوں تک آیا ہے۔ محرم کے تازیوں ، شعبان کے حلووں ، رجب کی نیازوں اور گیارویں کی دیگوں تک جن کا مذہب قید ہوتا ہے وہ اس سفر کی ذہنی معراج کے بارے میں کیا خاک تصور کریں گے ۔ تصنیف کا مذہب اور اس کا جنون اللہ سے صرف اقبال جیسے جرات رندانہ کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے یا اس کا مذہب لوگوں کی چیخوں میں چھپی خدا کی مجبوریوں پر سوال قائم نہیں کرتا اس کا عقیدہ عقیدت کی دنیاوں سے حقیقت کا مطالبہ کرتا ہے۔تصنیف کا مذہب صرف عقل پرست نہیں حسن پرست بھی ہے اور ہر وہ تصور اس کے مذہب میں حرام ہے جو حسن پرستی کی ممانعت کرتا ہے۔ میں تصنیف کے مذہب کو اس کی مجبوریوں کا حاصل نہیں سمجھتا اس کی فکری بلندیوں کا مصداق تصور کرتا ہوں جس میں کہنے سے نا چوکنے کا حوصلہ ہے ، جس میں سچ کی کڑواہٹ کا مزا چکھنے کی جرات ہے اور جس میں دوسروں سے عقیدے کی جذباتی دنیا سے اوپر اٹھ کر مکمل آزادی کی فضا میں آنکھ ملا کر بات کرنے کی قوت ہے۔ میں تصنیف کو مذہب کی دنیا سے آزاد نہیں سمجھتا ،لیکن اس کو دنیا کے مذہب سے بالا تر جانتا ہوں کیوں کہ میں نے اس جیسا اڑیل انسان اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا جو اپنے موقف سے پوری طرح واقف ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کی کوئی بھی دلیل اس کو اپنے مذہب سے منحرف نہیں کر سکتی اور نہ ہی اس کے پائے استقال میں جنبش پیدا کر سکتی ہے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

سادگی فن کی انتہا ہوتی ہے

قدرت نے اگر آپ کے ہاتھ میں قلم تھما ہی دیا ہے تو اس کا حق ادا کیجیے۔ لغت ہائے حجازی کا قارون بننے کی بجائے آسان الفاظ میں ابلاغ کیجیے۔

Re-thinking Our Borders

Saood Qaseem Imagine the idea of the European Union taking root in the Indian Subcontinent - a place where people

سوختہ درختوں کی خاموش سسکیاں

سورج آج کل کے دنوں سے پہلے بھی لوہاروں کے گھر سے نکلتا تھا۔ لیکن فرق یہ تھا کہ کچھ غمگسار تھے جو اس کی تمازت کو اپنے سر لے کر انسانوں کو ٹھنڈک دے دیتے تھے۔ اب وہ کم ہو گئے ہیں۔