بھوک کی قاتلانہ سازش

بھوک کی قاتلانہ سازش

کوڑا چننے والا لڑکا
روٹی کے ٹکڑے کی تلاش میں
کتنی دیر سے کھڑکی کے سامنے پڑے
کوڑے کے ڈھیر کو
الٹ پلٹ رہا ہے
میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے
مگر میں اس کی مدد سے قاصر ہوں
سوچتی ہوں
اگر ایک کو کھانے کو دے دیا تو
اس جیسے دس اور آ جائیں گے
اور اس طرح ملٹی پلائی ہوتے
ان کوڑا چننے والوں کو کھانا کھلاتے
ساری روٹی ختم ہو جائے گی
پھر میں کیا کھاؤں گی
کھا بھی لوں تو
ان سب کا پیٹ کیسے بھر پاؤں گی
جو میری کھڑکی کے نیچے
لائن بنائے کھڑے ہیں
اس آسرے پر
بچی کچی روٹی کے کچھ ٹکڑے
اور رات کا سالن لے کر اپنے گھر کو جائیں گے
اپنے بھوکے بچوں کو کھلائیں گے
مگر مجھے خوف ہے
ان میں کوئی لٹیرا
چھپ کر مجھ پر وار نہ کر دے
یہی سوچ کر
اپنے بستر میں چھپ کر بیٹھ گئی ہوں
لیکن بھوک کی قاتلانہ سازش
پھر بھی جاری ہے
روٹی صرف ایک ہے
لڑکا اب بھی کوڑے کو پلٹ رہا ہے
میں دکھ سے اسے دیکھتی ہوں
پلیٹ خالی ہے
میں نے ساری روٹی خود ہی کھالی ہے

Image: Kae Ashtin

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

مجھے اپنے خدا کے خواب سننا ہیں

ثاقب ندیم: میں اب ایک خدا خریدوں گا
جو خود خواب دیکھتا ہو
ایسے خواب جن میں
صرف شانتی ہو اور محبت
اور وہ روزانہ مجھے اپنے خواب سنائے
کیونکہ مجھے اپنے بھیجے کا بم نہیں بنانا

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

رستے میں کھو جانے والا اعتبار

ثاقب ندیم: چشمِ دشت میں وحشت دیکھ کر بھی
وہ ڈرتا نہیں
کہ دشت اور شہر ترازو میں
ہم وزن ہو چکے ہیں