بھینسے کا خدا

بھینسے کا خدا
بھینسے کا خدا
حمد اس کی جو روند دیتا ہے
مٹی، ریت، خاردار میدان
دہلا دیتا ہے ٹیلوں کے دل
قوی سُموں کی دھمک سے
پھاڑ دیتا ہے رقیب کی پیشانی
اپنی عظیم ٹکر سے
جس کے سینگ شش جہت میں پھیلے ہیں
چمکیلی انیوں میں
ایسے رحمِ مادر پروئے
جن میں رقیب کا جنین پل سکتا
آفاق کی سرخی سے لبریز
اس کی آنکھ
ماداوٗں کی پُشتیں گھیرے رہتی ہے
مکھیاں گھس آتی ہیں
ہر سوراخ میں
ان کا کاٹا اپنی موٹی کھال پہ لکھتا ہوں
مگر خداوند
ان کی بھن بھن میری حمد کو چھلنی کر دیتی ہے

Image: Vasko Taškovski

Hussain Abid

Hussain Abid

Poet and Musician Hussain Abid, was born in Lahore and is currently living in Germany. His poetry collections; "Utri Konjain", "Dhundla'ay din ki Hidat" and Behtay Aks ka Bulawa" have been praised by the general audience and the critics alike. Hussain Abid collaborated with Masood Qamar to produce "Kaghaz pe Bani Dhoop" and "Qehqaha Isnan ne Ejad kia". Abid's musical group "Saranga" is the first ever musical assemble to perform in Urdu and German together.


Related Articles

میں کیا اوڑھوں؟

عارفہ شہزاد: اردگرد کی دیواروں کا
اندازہ نہیں کیا جا سکتا
جب تک ان کے درمیان کے راستے پر
بار بار پاوں نہ دھرے جائیں

ہاں یہ اعلان ۔۔ انساں کی تاریخ کا شاہی فرمان ہے

اس طرح دیکھتے کیا ہو؟
یہ جان لو
آج میں ہوں اگر زد پہ ان کی تو کل تم بھی آجاؤ گے
چپ رہو گے اگر اِن کے پنجوں سے تم بھی نہ بچ پاؤ گے

دنیا آب و گِل کے ذخیروں میں بٹی ہوئی ہے

نصیر احمد ناصر: سرحد کے اُس پار سے آنے والے
بادلوں کی کلانچیں
اور بارش کے چھینٹے بتا رہے ہیں
کہ دشمن نے پانیوں کی جنگ جیت لی ہے