بہتی آنکھوں کا خواب

بہتی آنکھوں کا خواب

میں خواب دیکھتی ہوں
یہ ست رنگی صبح کا خواب نہیں
کچھ ستے ہوئے سے چہرے ہیں
کھائیوں سے ابھرتی
دکھ کی گہری پرچھائیاں ہیں
بہت سی آنکھیں
چھم چھم نیر بہاتی ہیں
بارش بہتی رہتی ہے
کوئی دیکھتا نہیں
گائے کو سر پر بٹھائے وہ
مدقوق انسانوں کی بلی دیتے ہیں
ماں میرے چہرے پر
گائے کا مکھوٹا چڑھا دیتی ہے
شائد میں بچ جاؤں
ریپ ہونے سے
مگر میرے بھائی کے ادھ کٹے
گلے سے بہتے لہو نے
میرا راز کھول دیا ہے
بھاگتے ہوئے بند گلی میں جا نکلی
جج کی کرسی پر
انسانی کھال کے جوتے پہنے
پتھر کے قلم سے کوئی
انصاف لکھتا ہے
مگر کسی کو نظر نہیں آتا
ہجوم میرے تعاقب میں ہے
اندھے راستہ میں
نیم کے درخت پر سوئی
امن کی فاختہ
پیشاب کی بو سے گھبرا کر
اڑ گئی ہے
درخت کی چھال سے
بدن رگڑتے ہجوم نے
بیت الخلا سمجھ کر
اپنے بلیڈر ہلکے کئے
مجھے ریشمی رومال کی
گانٹھ میں بندھا
تھوڑا سا وقت مل گیا ہے
مگر
انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
میں نے گھبرا کر
آنکھیں کھولنی چاہیں پر
یہ خواب نہیں تھا

Image: Shazia sikandar

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salma Jilani

Salma Jilani

Salma Jilani is originally from Karachi, Pakistan, she worked as a lecturer for eight years in Govt Commerce College Karachi. In 2001 she moved to New Zealand with her family and completed M.Business from Auckland University. She has been teaching in different international tertiary institutes on and off basis. Writing short stories in Urdu is her passion which have been published in renowned quarterly and monthly Urdu literary magazine such as Funoon, Shayer, Adab e Latif, Salis , Sangat and Penslips magazine and in children’s magazines as she writes stories for children as well. She also translates several poems of contemporary poets from all over the world into Urdu and vice versa, since she considers translations work as a bridge among different cultures which bring them closer and remove stereotyping.


Related Articles

نارسائی کی دسترس

زمین سے آسمان تک کی مسافتوں کی کسے خبر ہے؟
رسائی ہو جائے تو غنیمت
نہ ہو سکے تو
یہ نارسائی بھی اپنی نظروں میں معتبر ہے

خواہش کی ٹافی

سرمد بٹ: جادو ہے
خواہش کی ٹافی
ایک مسلسل جادو
اب چوسو یا چباؤ
مرضی تمہاری ہے

ہجو

میرا دل چاہتا ہے
گالیوں کی ایک قمیص تیار کروں
اور ان جذامی مجسموں کو پہنا دوں
جو ہمارے دارلحکومتوں کے قلب میں نصب کر دیے گئے ہیں