بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے

بے حس سیلفی، بھوکا چور اور دیگر عشرے
ع / جیل سے ویدا موحد کا تہران کی لڑکیوں کے نام خط

اے مرے شہر کی مظلوم لڑکیو ، سن لو!

تم اپنے سر پہ جو عزت کا تاج چاہتی ہو
وہ سر چھپانے سے حاصل تمہیں نہیں ہو گا

نہ اس گھٹن سے جسے نام تم تقدس دو
نہ اس حیا سے جو ہنسنے میں بھی رکاوٹ ہے

تمہیں وہ تاج ملے علم کی فضیلت سے
تمہیں وہ تاج ملے کھیل میں سیاست میں

اب اپنے حق کے لئے مل کے سب بنو آواز !

یہاں یہ عزت و پندار وہ سیاہی ہے
جسے مٹانا فقط اک دیے کا کام نہیں

ع/ محبت، آزاد پنچھی ہے

محبت نسل پرستی سے بغاوت ہمیں سکھاتی ہے

محبت نام و نسب قوم قبیلے سے الگ
اپنی بنیاد مساوات پہ اٹھاتی ہے

اس کی بنیاد میں مسلک کی لڑائی
نہ عقیدے کی گھٹن

یہ کسی ملک کی سرحد کو کہاں مانتی ہے

یہ تو آزاد پرندہ ہے جہاں بھی جائے

کوئی مندر ہو کہ مسجد کہ کلیسا کچھ ہو
یا کوئی دشت ہو محراب کہ صحرا کچھ کو

جہاں بھی پیار ملے گھونسلا بناتی ہے

ع/ بے حس سیلفی، بھوکا چور

اک نیا زخم میری لوح پر لگا اس وقت
میں سر جھکائے جو بازار سے گزار رہا تھا

کسی کی چیخ مرے کان میں سنائی دی

سہم کے رک سا گیا، دیکھنے لگا مڑ کر
ہجوم پیٹ رہا تھا کسی سبک سر کو

بس اس کا جرم یہ تھا بھوک سے بلکتے ہوئے

کسی دکان سے روٹی کوئی چرا لی تھی

اور اس سے بڑھ کے اذیت کی بات کیا ہو گی

تڑپ کے مرتے ہوئے بے قصور شخص کے ساتھ

کہ منہ پھولا کے سبھی سلفیاں بنا رہے تھے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

عشرہ/ جنگ کی خوشگوار صبح

ادریس بابر: پراٹھا جانے کب سے یخ ٹھنڈا ہو رہا
چائے پکنے میں ابھی کتنی دیر اور ہے
ویسے اسے کوئی ایسی خاص بھی بھوک نہیں

عشرہ/ آرمی سے لڑتے ہو؟

ہمایوں خان: آرمی سے لڑتے ہو؟ ۔۔ آرمی تو تم بھی ہو، آرمی تو ہم بھی ہیں

عشرہ / سترہ سے سترہ تک

ادریس بابر: ظلم کے زور پہ کھینچی گئی لائن
خلق کے خون سے سینچی گئی لائن
اس خونی ریکھا کی رکھشا
اب تک کس کھاتے میں قرض ہے