بے گناہ

بے گناہ
خاموش
خاموش
خاموش
سنو وہ دور دھواں سرسراتا ہے
بے کفن لاشوں پر سے چنگاریاں اٹھتی ہیں
کہیں تو ہوگی کوئی آہٹ اب کے اب
کہیں تو ہوگا کوئی ذی روح
سنو
سنو
سنو، کان دھنک ڈالو
وہ دور لپکتی ہیں بجلیاں سی لیکن
کہاں ہے دھم دھوم، برہم گاج باج
کیوں خاموشی سے برستی ہے موت اس بستی میں
کیوں باقی نہیں کوئی تار، تگ و تاز اب ہستی میں
کہاں ہیں میرے بھائی، بیٹے، کہاں بہنیں میری
کیسے باپ جدا ہوا، کیسے بچھڑی اماں میری
خاموش رہو
خاموش
خاموش
چپ چاپ آنکھوں پہ باندھ لو بازو
مت حرکت کو، جنبش کو، پاس آنے دو
سانس حلق میں گھونٹ گھونٹ پیو
آنسو آنکھوں میں چھلنی کر کر چھید لو
پھر سنو
سنو
سنو
اتنی خاموشی ہے
اتنی خاموشی
کہ خدا کے پیروں تلے
چرمراتے سے پتے، کنکر، ریت کی لہریں
بوندیں بارش کی
سب آوازیں اب غائب سی
مخملیں سی جلد پہ اس کے کانوں میں
سر الفت، سر اسرار، آثار نمو سے ڈھلتی
کہکشاؤں کے افسوں میں بندھی
سر بسجود ہیں، سرنگوں ہیں
سرنگوں ہیں
سرنگوں ہیں
_______________
ان کے نام جو غیر جانبداری میں قتل کر دیے گئے
ان کے نام جو مذہب کی دھاک بٹھانے کی خاطر مار ڈالے گئے
ان کے نام جو مظلومیت میں قتل ہوے
ان کے نام جنھیں سب بھول جاتے ہیں
ان کے نام جو ہم سے دوری کے عوض اپنی زندگی ہار گئے
ان کے نام ہم سے، آپ سے، ملتے تھے
سبھی کے، ہاں ان کے چہرے بھی ہم سے تھے
ان کے نام جن سے ہمیں اپنا نام سیکھنا ہے
اپنی ہستی کی پہچان کرنی ہے
ان کے نام جو اب خاموشیوں میں جا بسے ہیں

Related Articles

قبریں

نصیر احمد ناصر:
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہیں

ایک آدمی پتھروں سے باتیں کرتے ہوئے

زندگی بھائی
ایک ہی لمحہ ہے
جسے ہم نے سو سو کر گزارا ہے
یہ دن، سال اور صدیاں

قہقہہ

علی ساحل: میں جب مشینوں سے بیزار ہوتا ہوں
تو میرا جی چاہتا ہے
میں اپنے گاؤں چلا جاؤں