تاریخ، فرد اور تاریخی مادیت

تاریخ، فرد اور تاریخی مادیت
تاریخ کون بناتا ہے؟ تاریخ کیسے اور کیوں کر آگے بڑھتی ہے؟ تاریخ کے واقعات کیسے رونما ہوتے ہیں؟ یہ سوالات اہم ہیں، کیونکہ اِنہی سوالات کے جواب مرد و زن کے تحرک کے لیے اسباب و بنیادیں فراہم کریں گے۔ فرد کا تاریخ کے صفحات پہ کیا کردار ہے؟ فرد کے اختیار میں کیا ہے؟ فرد کا شعور تاریخ کے دھارے پہ کیونکر اثرانداز ہوتا ہے اور آخر اِن اثرات کی حدود کیا ہیں؟ اِن سوالات کے جوابات فرد کی نظریہ سازی اور حیات کے مصرف کا تعین کرتے ہیں۔

تاریخ کون بناتا ہے؟ تاریخ کیسے اور کیوں کر آگے بڑھتی ہے؟ تاریخ کے واقعات کیسے رونما ہوتے ہیں؟ یہ سوالات اہم ہیں، کیونکہ اِنہی سوالات کے جواب مرد و زن کے تحرک کے لیے اسباب و بنیادیں فراہم کریں گے۔
کیا ہم محض اداکار ہیں؟ ایک بہت بلند و بالا اور بہت طاقتور ہستی نے یہ سٹیج بنایا ہے؟ اُس طاقت نے اِس تماشے کا اسکرپٹ لکھ ڈالا ہے؟ کیونکہ وہ ہستی انسانی فہم و شعور و ادراک کی حدود سے ماوراء ہے، لہذا ہم بےاختیار بندے اُس خداوند کی طرف سے لوحِ ازل کے لکھے کے مطابق سٹیج پہ ایک بنا بنایا کردار ادا کرکے گم ہو جاتے ہیں۔ یہ شروع سے ہو رہا ہے، ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا، یہاں تک کہ مخصوص وقت اور مدت اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے؟

کیا تاریخ کچھ عظیم افراد کی باندی ہے جو بےپناہ طاقت کا محور ہوتے ہیں؟ یہ لوگ اپنے فیصلے لیتے ہیں۔ یہ بادشاہ ہوتے ہیں، بادشاہ گر ہوتے ہیں، یا فوجی سالار ہوتے ہیں، بہت بڑے جنگجو ہوتے ہیں؟ یہ انقلابی ہوتے ہیں، اِن کے پاس تبدیلی کے پروگرام ہوتے ہیں؟ یہ بہت بڑے عالم فلسفی اور سائنس دان ہوتے ہیں؟ یہ بڑے بڑے کاروباری اداروں کے مالک اور کثیرالملکی سرمائے کی بدولت تاریخ بدلنے کا کام سرانجام دیتے ہیں؟

کیا تاریخ کا دھارا خودبخود اپنے اندر موجود واقعات اور حالات کے طاقتور تھپیڑوں کی رَو میں بہتا رہتا ہے؟ یعنی جو واقعہ ہوتا ہے وہ گذشتہ اور سابقہ واقعات کا تسلسل ہوتا ہے۔ یعنی ایک تاریخی عمل کا جواز اپنے سے پہلے والے عمل کے اندر ہوتا ہے اور افراد ناگزیر نہیں ہوتے؟ تاریخ کا دھارا افراد کے اعمال و شعور کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک واقعہ دوسرے واقعے کو جنم دیتا ہے، تاریخ کا ایک قدم اپنے سے پہلے والے تاریخی قدم میں پیوست ہوتا ہے، اور اپنے سے آگے آنے والے قدم کا سبب بھی بنتا ہے۔ اِس دوران جو افراد جو کچھ اعمال کر رہے ہوتے ہیں اُن اعمال کا تعین وہی تاریخی واقعات کر رہے ہوتے ہیں؟

تاریخ، تاریخی واقعات، انقلابات اور تغیر کے حوالے سے متعدد توجیہات رائج ہیں لیکن میری ذاتی رائے میں افراد اور تاریخ کے عمل کو تحریک دینے والی عظیم قوتوں کے باہمی تعلق کا جدلیاتی تجزیہ کیا جانا چاہیئے۔ میں اُس سوچ کے خلاف ہوں کہ عوام خواص یعنی بادشاہ، ملکہ، سیاست دان، سرمایہ دار وغیرہ کی نسبت تاریخ کی تشکیل میں بہت معمولی کردار یا بالکل ہی کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔

میں افراد کے تاریخی کردار کو رد نہیں کرتا، مگر افراد کے کردار کو تاریخ کے سیاق و سباق اور تناظر میں پرکھتا ہوں۔
میں افراد کے تاریخی کردار کو رد نہیں کرتا، مگر افراد کے کردار کو تاریخ کے سیاق و سباق اور تناظر میں پرکھتا ہوں۔ عموماً ایک فرد چاہے کتنا ہی باصلاحیت (TALENTED) کیوں نہ ہوں تاریخ کی بڑھوتری میں معروضی محرکات کو پچھاڑ نہیں سکتا، لیکن کبھی کبھار نازک حالات میں افراد کا کردار بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ تاریخ میں افراد نے ضروری کردار ادا کیا تھا مگر ایسا مخصوص سماجی حالات کے تحت ہی ممکن ہوا، روس کے بالشویک انقلاب میں لینن کا کردار اہم ترین اور فیصلہ کن ضرور تھا مگر مخصوص سماجی حالات کا کردار بھی اہم تھا، ایسے ہی فرانسیسی انقلاب میں سماجی حالات کا کردار فیصلہ کن تھا مگر معروف افراد نے بھی کردار ادا کیا۔

افراد اپنی فطرت کی قطعی خصلتوں اور اپنی پراثر صلاحیتوں کی وجہ سے معاشرے کی قسمت پر اثر انداز کر ہوتے ہیں۔ اُن کا اثر بعض اوقات بہت شدید بھی ہوتا ہے لیکن اِس بات کے امکان بہرحال موجود ہیں کہ معاشرے کی تنظیم اور اُس کا ڈھانچہ پھر بھی اُن افراد کے کردار پہ اثرانداز ہو رہا ہوتا ہے۔ ایک فرد کا کردار سماجی بڑھوتری اور ارتقاء میں اہم عنصر ہوتا ہے، مگر جب، جہاں اور جس حد تک معروض اجازت دیتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، افراد کا کردار ہوتا تو ہے مگر حدود میں مقید کردار ہوتا ہے۔

کوئی عظیم یا ارفع انسان تاریخ پہ مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ معروضی اسباب تاریخ کے ارتقاء میں اصل قوت ہوتے ہیں۔
کوئی عظیم یا ارفع انسان تاریخ پہ مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ معروضی اسباب تاریخ کے ارتقاء میں اصل قوت ہوتے ہیں۔ تاریخ میں معروضی اسباب اور افراد کے کردار کے مابین فرق کو مطلق بیان نہیں کیا جا سکتا۔ آخری تجزیے میں کسی بھی تاریخی عہد کا معاشی ڈھانچہ اُس عہد کے افراد کے شعور کا تعین کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن اگر تبدیلی کی خواہاں طاقتیں افراد کی ذہن سازی کریں تو عوام خواص کے شعوری قید خانے کی سلاخیں توڑنے کی طاقت رکھتے ہیں، لیکن یہاں بھی معروضی اسباب کا ہونا بہت ضروری ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ ہٹلر، سٹالن، ماؤ، مسولینی، کینیڈی، گورباچوف اور تھیچر نہ ہوتے تو گزشتہ صدی کی شکل ایسی نہ ہوتی لیکن ہم یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اِن رہنماؤں کے فیصلے اور اعمال اپنے عہد کے معروضی اسباب سے بالا اور علیحدہ تھے؟ کیا اُن کے افعال سماجی اور معروضی پابندیوں سے آذاد تھے؟ یقیناً نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ تاریخی شخصیات اپنا وہ کردار صرف اس لیے ادا کر پائیں کیوں کہ معروضی حالات نے ہی وہ عوامل مہیا کیے جو انہیں تاریخ کے ایک نازک موڑ پر فیصلہ کن کرادار ادا کرنے کے قابل بنانے کا باعث بنے۔

Image: David Alfaro Siqueiros


Related Articles

پاکستانی طلبہ کے نام ایک خط

تصنیف حیدر: کبھی آپ کے ٹیچر، کبھی آپ کے مدرسہ کے معلم، کبھی آپ کے بزرگ آپ کو یہ بات کیوں نہیں بتاتے کہ جن ملکوں میں کھانے کے پیسے نہیں، وہاں اتنی بندوقیں، اتنے بھاری اسلحے، اس مقدار میں دوسرے ہتھیار کہاں سے آجاتے ہیں۔

مذہبی آزادی مگر اپنے رِسک پر

11 اگست 1947 کی تقریر میں قائد اعظم محمد علی جناح کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر کوئی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لیے آزاد ہوگامگر بد قسمتی سے جناح صاحب ایک اضافی جملہ کہنا بھول گئے "اپنے رِسک پر"۔

بھولی بھالی گائے، فسادات اور ہندوانتہا پسند

بھارت میں بعض انتہا پسند ہندو جنہیں مسلمانوں سے اورخاص کر پاکستانی مسلمانوں سے خدا نام کا بیر ہے کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔