تاریک مادہ کیا ہو سکتاہے؟

تاریک مادہ کیا ہو سکتاہے؟
مصنف: Laura Dattaro
مترجم: فصی ملک

تقریباً ایک صدی گزر چکی ہے جب کسی فلکیات دان نے 1930 میں تاریک مادہ کا لفظ استعمال کیا تھا۔۔۔۔۔وہ عنصر جس کی توضیح ابھی تک نہیں ہو پائی۔طبیعیات دان اس کے اثرات کہکشاؤں اور دوسرے فلکی اجسام پر دیکھ سکتے ہیں۔لیکن یہ کس چیز کا بنا ہوا ہے یہ ایک معمہ ہی رہاہے۔

اس کو سلجھانے کے لیے سائنسدانوں نے بہت ساری ممکنات اور پھر ہر ایک کو دھونڈنے کا ایک خاص طریقہ بھی سامنے لائے ہیں۔تاریک مادوی ذرات کے کچھ تصورات طبیعیات میں دوسرے مشکلوں کو حل کرنے کی کوشش میں ظہور پذیر ہوئے ہیں۔

نیو یارک یونیورسٹی کے طبیعیات کے پروفیسر نیل وائینر کا کہنا ہے کہ آپ نہیں جانتے کون سا تجربہ اسے ثابت کرنے والا ہے۔ اگر آپ صحیح تجربے کا نہیں سوچ سکتے تو ممکن ہے آپ اس (ذرات) کو نہ دھونڈ سکیں۔ چونکہ یہ تاریک مادہ ہے اس لیے یہ آپ کے چہرے سے نہیں ٹکرانے والا۔

نحیف تعاملی کمیتی ذرات(WIMPs):

ٹرم WIMPs بہت سارے تاریک مادوی ذرات کا احاطہ کرتی ہے۔ جن میں کچھ کو یہاں زیرِ بحث لایا گیا ہے۔

WIMPs جو کہ نحیف تعاملی کمیتی ذرات کا مخفف ہے، اولیے(proton) سے ایک سے لے کر ہزار گنا تک بھاری ہو سکتے ہیں۔اور یہ ایک دوسرے سے صرف نحیف قوت سے تعامل کرتے ہیں۔ وہ قوت جو تاب کارانہ انحطاط کی موجب ہے۔

اگر تاریک مادہ pop star ہوتا تو WIMPs Beyonce ہوتے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا ارون کے پروفیسر منوج کپلنگھٹ کا کہنا ہے کہ WIMPs قانونی امیدوار ہیں۔

لیکن ڈیٹا میں حالیہ زیادتی نے ان پر شک کا سایہ ڈالا ہے۔ اس کے برعکس سائنسدان ان کو عظیم ثقیلہ تصادم گر (LHC)سمیت زمین اور فضا میں تلاش کر رہے ہیں۔ لیکن WIMPs کو ابھی اپنا اظہار کرنا ہے۔ جس سے ان کی کمیت، تعاملی قوت اور دوسری خصوصیات پر پابندیاں اور سخت ہو گئی ہیں۔

اگر WIMPs کا ظہور نہیں ہوتا تو یہ تاریک مادوی معمہ کے نئے حل کی طرف ایک دھکا ہو گا، جس میں بالآخر دی گئی ممکنات سے باہر جانے کا مکان بھی ہے۔

پرنسٹن یونیورسٹی کی میری انجیلہ لِسانتی کا کہنا ہے کہ اگر ہم انہیں نہیں دیکھ پاتے تو یہ ایک ایسے غالب پیراڈائم کے باب کا اختتام ہو گا جو کئی سالوں تک اس میدان میں ایک رہنما تھا۔

بانجھ تعدیل نما(sterile Neutrinos):

تعدیل نما تقریباً بے کمیت ذرات ہیں جو اپنی ہیت ایک سے دوسری قسم میں بدلتے رہتے ہیں اور بنا کسی شئے سے ٹکرائے سارے سیارے کے آرپار گزر جاتے ہیں۔عجیب تو یہ ہے ہی لیکن ممکن ہے ان کا ایک مزید عجیب ہمزاد بھی ہو جو بانجھ تعدیل نما کہلاتا ہے۔یہ گریزاں ذرات اپنے ارد گرد سے اتنے بے اعتناء ہوتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کو مادہ کے کسی ایک ذرے سے تعامل کرنے کے لیے کائنات کی پوری عمر جتنا وقت درکار ہے۔

اگر بانجھ تعدیل نما مادے کے ذرات ہیں تو ان کے تعامل کی مزاحمت ان طبیعیات دانوں پر ناامیدی پھینکتی ہے جو ان کی تلاش میں ہیں۔لیکن ایک شاعرانہ ٹوسٹ میں ممکن ہے وہ کسی ایسی شئے میں انحطاط کر جائیں جس کو ہم آسانی سے تلاش کر سکتے ہوں۔جیسا کہ ضیائیے یا پھر روشنی کے ذرات۔

گزشتہ برس کہکشاؤں کے جھرمٹ سے آتا ہوا ایک اشارہ دریافت کیا گیا جس کی توانائی بانجھ تعدیل نما کی توانائی کے برابر تھی۔لیکن اشارہ ایک مختلف منبع سے بھی خارج ہو تا ہے جیسا کی پوٹاشیم آئن سے۔ایک نئی جاپانی دوربین Astro-H کی تحلیلیت (resolution) بہت زیادہ ہے اور ممکن ہے یہ اس بحث کو ختم کردے۔

نیوٹرالینو (Neutralinos):

WIMPs کی قانونی مثال نیوٹرالینو ہیں۔ یہ بالا یا سپرتشاکلی نظریے(super symmetric theory) سے جنم لیتے ہیں۔سپر تشاکل یہ کہتا ہے کہ ہر ذرے کا ایک سپر ساتھی بھی ہے۔ اور یہ نظریہ میعاری نمونےمیں کچھ خامیاں ختم کرنے میں مدد دیتا ہے۔لیکن اس کے ذرات مشاہد ےکی زد میں آنے سے انکاری ہیں۔

ان میں سے کچھ، جیسا کہ ضیایئہ اور ز۔بوزان (z boson)،کی خصوصیات تاریک مادے جیسی ہیں۔ تاریک مادہ ان سپر تشاکلی ذرات کا آمیزہ ہو سکتا ہے۔ اور ایک جس کے مشاہدے میں آنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں، نیوٹرالینو ہے۔

نیوٹرالینو کی دریافت فزکس میں دو مسائل حل کرنے میں مدد دے گی، یہ ہمیں تاریک مادے کی شناخت بتائے گی اور سپر تشاکل کے وجود کا ثبوت دے گی۔تاہم اس سے باقی تمام نا معلوم سپر تشاکلی ذرات طبیعیات دانوں کے لیے ایک پہیلی رہ جائیں گے۔

اگر تاریک مادہ نیوٹرالینو ہے تو یہ لازمی طور پر ہمیں بتا رہا ہے کہ باہر نئے مواد کا ایک پورا خاندان موجود ہے جو دریافت ہونے کا منتظر ہے۔لسانتی کا کہنا ہے کہ یہ ایک انتہائی شاندار اور دلچسپ کام، جس کو مکمل کیے جانے کی ضرورت ہے، کا دروازہ کھولتا ہے۔

عدم تشاکلی تاریک مادہ:

کائنات کے آغاز میں مادہ اور ضد مادہ آپس میں بہت شدت سے ٹکرائے اور ایک دوسرے کو اس وقت تک معدوم کرتے رہے جب تک کسی طرح صرف مادہ باقی رہ گیا۔ لیکن میعاری نمونے میں ایسا کچھ موجود نہیں جو یہ کہے کہ لازمی طور پر ایسا ہی ہونا چاہیے۔مادہ اور ضد مادہ کو برابر مقدار میں موجود ہونا چاہیے تھا جو کہ ایک دوسرے کا ملیا میٹ کر کے ایک تہی کائنات باقی چھوڑتے۔

واضح طور پر ایسا نہیں ہے اور طبیعیات دان بھی نہیں جانتے کہ کیوں۔ممکن ہے بالکل ایسا ہی اصول تاریک مادہ پر بھی لاگو ہوتا ہو۔میعاری نیوٹرالینو نظریے میں ایک ٹوسٹ، جو اس خوبی کا شمول کرتا ہے کہ نیوٹرالینو اپنے ضد ذرات بھی ہیں، ایک تصور جو کہ عدم تشاکلی تاریک مادہ کہلاتا ہے، یہ کہتا ہے کہ ضد تاریک مادوی ذرات اپنے نصف ثانوی تاریک مادوی ذرات کی وجہ سے ختم ہو گئے، جس کی وجہ سے پیچھے وہ تاریک مادہ بچا جس کو آج ہم دیکھتے ہیں۔
عدم تشاکلی تاریک مادے کے ملنے سے نہ صرف اس سوال کا جواب ملے گا کہ تاریک مادہ کیا ہے بلکہ یہ بھی کہ ہم اسے دیکھنے کے لیے یہاں کیوں موجود ہیں۔

ایگزیان (Axions):

WIMPs کی تلاش جیسے جیسے چیلنجز کا سامنا کرتی ہے، ایک نیا ذرہ جو ایگزیان کہلاتا ہے، نیا جوش پیدا کر رہا ہے۔

ایگزیان بذاتِ خود نیا نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے 1980 میں طبیعیات دان ہیلن کون اور رابڑٹو پیچائی کے شائع کردہ ایک پرچے، جس میں قوی نیوکلیائی قوت کے ایک مسلے کو حل کیا گیا تھا، میں اس کے وجود کا گمان کیا۔بے شک یہ دہائیوں سے تاریک مادہ کے امیدوار کے طور پر سلگ رہا ہے۔تاہم تجربہ دان ابھی تک اس کا کھوج لگانے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔

کاولی انسٹیٹیوٹ کے ریزا ویشلر کا کہنا ہے ہم بس ابھی تجربات کے اس مقام پر پہنچنے والے ہیں جہاں اس خطہ میں جھانکا جا سکتا ہے جہاں ایگزیان کے پائے جانے کے امکان ہیں۔

یونیورسٹی آف واشنگٹن کا ایگزیان تاریک مادوی تجربہ (ADMX) ایگزیان کی تلاش میں ہے۔ اس میں ایک قوی مقناطیسی میدان کی مدد سے ایگزیان کو ایک شناشندہ ضیایئے میں تبدیل کیا جائے گا۔اسی ساعت نظریات دانوں نے نئے ایگزیانوں کو تصور کرنا اور ان کو دھونڈنے کے نئے طریقوں پر سوچنا شروع کر دیا ہے۔

یو سی ایل کے نظری طبیعیات دان جو ناتھن فینگ کا کہنا ہے کہ ایگزیانی نظریے میں ایک نشاۃ ثانیہ آیا ہے جس کی وجہ سے ایگزیانی تجربوں میں ایک نیا ولولہ عود کر آیا ہے۔

آئینہ دیناوی تاریک مادہ ( Mirror world dark matter):

بالکل ایسے جیسے ایلس گھورتے شیشے کے آر پار(Alice through looking glass) کے پار عجیب اجسام اور مخلوقات کا بسیرہ تھا، تاریک مادہ بھی ایک بالکل مختلف دنیا میں وجود رکھ سکتا ہے۔جس میں اس کے بنیادی ذرات کے اپنے خاندان ہوں گے۔یہ تاریک ضیایئے اور تعدیلیے ہم سے تجاذب کے سوا کبھی تعامل نہیں کریں گے۔یہ اور کوئی نشان چھوڑے بنا ہماری دنیا کے مادے پر قوت لگاتے ہیں۔فینگ کا کہنا ہے کہ یہ وہ واحد وجہ ہے جس سے ہم جانتے ہیں کہ تاریک مادہ موجود ہے۔

خوبصورت تو یہ ہے مگر یہ تاریک مادے کی دریافت کی بہت کم امید فراہم کرتا ہے۔لیکن اس چیز کے اشارے موجود ہیں کہ تاریک ضیائیے عام ضیائیوں میں بدل جائیں، بالکل ایسے جیسے نیوٹرینو ایک دوسرے مین تبدیل ہوتے ہیں۔

زائد جہتی تاریک مادہ:

اگر تاریک مادہ مکمل طور پر کسی دوسری دنیا میں وجود نہیں رکھتا تو ممکن ہے یہ ہماری نظروں اور تجربات سے اوجھل چوتھی مکانی جہت میں موجود ہو۔ ایسی جہت ذرات کی حرکات کو دیکھنے کے لیے ہمارے لیے بہت چھوٹی ہو گی۔اس کی بجائے ہم 1920 میں پیش کردہ کیلوزہ اور کلائن کے تصور کے مطابق ایک ہی بار مگر مختلف کمیتوں کے بہت سارے ذرات کو دیکھیں گے۔ان میں سے ایک ذرہ تاریک مادے کا ذرہ ہو سکتا ہے۔یہ ایک جدید تصور ہے جو کیلوزہ کلائن تاریک مادہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ ذرات چمکتے یا روشنی کو منعکس نہیں کرتے ہیں۔جو اس بات کی توضیح کرتے ہیں کہ کیوں تاریک مادہ ہماری سہ ابعادی دنیا میں کسی کو نطر نہیں آتا۔

اس چیز کی شہادت ملنا کہ تاریک مادی کسی اور جہت میں وجود رکھتا ہے، سٹرنگ نظریے کے لیے بہت مددگار ہو گا،جسے زائد ابعاد کے موجود ہونے کی اشد ضرورت ہے۔

قوی تعاملاتی کمیتی ذرات(Strongly interacting massive particles):

بے شک سائنسدانوں نے کبھی بھی تاریک مادے کو شناس(detect) نہیں کیا،لیکن انہیں کہکشاؤں کے مشاہدے سے اچھی طرح معلوم ہے کہ اس کا کتنا وجود ہے۔لیکن کہکشاؤں کے اندرونی حصوں کا مشاہدہ تاریک مادے کی کچھ کمپیوٹر نقالوں(computer simulations) کے موافق نہیں ہے۔یہ ایک ایسی پہیلی ہے جس کو حل کرنے کے لیے طبیعیات اور ہیت دان ابھی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ نقالیں یہ مانتی ہیں کہ تاریک مادہ اپنے ساتھ تعامل نہیں کرتا۔لیکن یہ یقین کرنے کی کہ ایسا ہی ہو کوئی معقول وجہ موجود نہیں ہے۔یہ احساس قوی تعاملی کمیتی ذرات (SIMPs) کے تصور کی طرف لے گیا ہے۔ SIMPs جو کہ تاریک مادوی ذرات ہونے کے امیدوار ہیں، ایک نئی انٹری ہے۔وہ نقالیں جو SIMPs پر کام کرتی ہیں،دوسرے ماڈلز میں موجود خامیوں کو دور کرتی ہیں۔اور کہکشاؤں کے جھرمٹ سے خارج ہونے والے قوی ضیائی اشارے(strong photonic signal) کی توضیح کرتی ہیں۔

مخلوط تاریک مادہ:

تاریک مادہ ان تمام ممکنات میں سے کوئی بھی نہیں ہو سکتا یا پھر یہ ایک سے زیادہ ہو سکتا ہے۔

کپلنگھٹ کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی وجہ نہیں ہے کہ تاریک مادہ ایک ہی ذرہ ہو، ہم صرف آسانی(simplicity) کے لیے ایسا فرض کرتے ہیں۔

جب مرئی مادہ ذرات کے گروہوں سے مل کر بنا ہوا ہے جن میں سے ہر ایک کی اپنی اپنی خصوصیات ہیں اور ہر ایک دوسروں سے ان گنت طریقوں سے بندھن بنا سکتا ہے تو پھر تاریک مادہ کیوں کر مختلف ہو؟

تاریک مادہ کے کوارکس(quarks) اور گلوآنز(gluons) کے اپنے مماثل ہو سکتے ہیں جو کہ تعامل کر کے تاریک بیریانز (Baryons)اور دوسرے ذرات بناتے ہوں۔تاریک جوہر بھی ہو سکتے ہیں جو کہ مختلف ذرات کے باہم ملنے سے بنے ہوں۔

جو بھی ہو، ممکنہ طور پر تاریک مادہ دہائیوں تک طبیعیات دانوں کو کائنات کی گہرائیوں کی جانچ میں مصروف رکھے گا۔جس میں نئے رازوں کا انکشاف ہو گا چاہے پرانے حل ہو بھی جائیں۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

کوانٹم میکانیات کے مسائل

سٹیون وائن برگ: کوانٹم میکانیات میں کسی نظام کی حالت کلاسیکی طبیعیات کی طرح ہر ذرے کا مقام اور رفتار اور مختلف میدانوں کی تبدیلی کی شرح کی قیمتیں دے کر بیان نہیں کی جاتی۔

ایک دوسرا عہد

ہم کسی بھی مفرور کی مانند ہیں
بہت سے پھولوں کی طرح جنہیں گننا محال ہو
اور بہت سے جانوروں کی طرح جنہیں یاد رکھنا ضروری نا ہو
یہ آج ہی ہے جس میں ہم حیات ہیں

غیر معمولی عورت

میں ایک ایسی عورت ہوں
جو غیر معمولی حد تک مختلف ہے
وہ غیر معمولی عورت _____
_____میں ہی ہوں!