تبدیلی مذہب کا متنازع واقعہ، چترال کا امن متاثر ہونے کا خدشہ

تبدیلی مذہب کا متنازع واقعہ، چترال کا امن متاثر ہونے کا خدشہ

ادارتی نوٹ: یہ خبر چترال میں مقیم مقامی کارکنان اور صحافیوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کی بناء پر شائع کی گئی ہے، ان صحافیوں اور کارکنان کو درپیش خطرات کے باعث ان کی خواہش پر ان کے نام شائع نہیں کیے جا رہے۔

چترال خیبرپختونخوا کے علاقے بمبوریت میں ایک نابالغ لڑکی کے قبول اسلام کے بعد کیلاشی مذہب کی طرف مراجعت کا واقعہ تنازعے کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ مشتعل مقامی مسلمانوں کی جانب سے کیلاش آبادی کے مکانات پر حملے کے دوران اور پتھراو کیا گیا ہے جس کے باعث حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ انسانی حقوق کے مقامی کارکنان کے مطابق نہم جماعت کی طالبہ چودہ سالہ رینا نے 'غلطی سے اسلام قبول کر لیا' تاہم جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے دوبارہ کیلاشی مذہب اختیار کر لیا ہے۔ رینا کے قبول اسلام کے بعد دوبارہ کیلاشی مذہب اختیار کرنے کے بعد مقامی مسلم آبادی کی جانب سے جمعرات 16 جون 2016کو کیلاش برادری کے اس مکان پر پتھراو کیا گیا جہاں رینا کو رکھا گیا تھا۔ مسلم آبادی کی جانب سے رینا کو مرتد قرار دے کر قتل کرنے کے نعرے بھی لگائے گئے۔ مقامی مسلمانوں کی جانب سے پتھراو اور گھیراو سے بچاو کے لیے آنے والے کیلاش افراد میں سے 15 کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب مقامی مسلم آبادی کی جانب سے اس قسم کے تشدد کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ تصادم کے دوران اشپاٹا نیوز کی ٹیم اور مقامی صحافیوں پر حملہ بھی کیا گیا۔

چترال خیبرپختونخوا کے علاقے بمبوریت میں ایک نابالغ لڑکے کے قبول اسلام کا واقعہ تنازعے کی شکل اختیار کر گیا ہے جس کے باعث مقامی مسلمانوں اور کیلاش برادری کے مابین تصادم سے حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔
اس واقعے کو بعض ذرائع جبری تبدیلی مذہب کے ان واقعات کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں جو سندھ میں پیش آ رہے ہیں تاہم مقامی صحافیوں کے مطابق یہ جبری تبدیلی مذہب کا واقعہ نہیں بلکہ لڑکی کی جانب سے نادانستگی میں اٹھایا گیا قدم ہے جو مسلمانوں اور کیلاش برادری کے مابین تصادم کی شکل اختیار کر رہا ہے۔

رینا کے تبدیلی مذہب کی وجوہ اور تفصیلات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایک مقامی کیلاش کارکن کے مطابق مذہب تبدیل کرنے والی رینا بعض نفسیاتی مسائل کا شکار تھیں اور انہوں نے غلطی سے مذہب تبدیل کیا۔ رینا کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی دباو اور نفسیاتی الجھنوں کے باعث درست فیصلہ نہیں کر سکیں اور انہوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ تاہم مقامی مسلم آبادی ان دعووں کی تردید کرتی ہے۔ مقامی مسلمانوں کے مطابق رینا نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور پھر خالہ کے سمجھانے بجھانے پر دوبارہ کیلاش مذہب قبول کیا۔ مسلمانوں کے مطابق رینا کے اسلام قبول کرنے کے بعد اب دوبارہ کیلاش مذہب قبول کرنے کی گنجائش موجود نہیں۔

تصادم میں زخمی ہونے والا کیلاش نوجوان

تصادم میں زخمی ہونے والا کیلاش نوجوان

تنازعے کی خبر پھیلتے ہی حالات کو قابو میں کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی تھی۔ چترال کے ضلعی پولیس افسر آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ روز ایک کیلاشی لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے بعد میں ایک خاتون نے اس لڑکی دوبارہ کیلاشی مذہب اپنانے کے راضی کیا اور انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ ایک کیلاش کارکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ آس پاس کے علاقوں سے مسلمانوں کی ٹولیاں بمبوریت میں آ گئی ہیں جس کی وجہ سے مقامی کیلاش افراد کو خطرات کا سامنا ہے۔

آس پاس کے علاقوں سے مسلمانوں کی ٹولیاں بمبوریت میں آ گئی ہیں جس کی وجہ سے مقامی کیلاش افراد کو خطرات کا سامنا ہے۔
پولیس اور مقامی عمائدین کی جانب سے اس تنازعے کو حل کرنے کے لیے متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں۔ جمعرات صبح گیارہ بجے کسی بھی تنازعے سے بچنے کے لیے کیلاش قاضیوں اور علماء کے درمیان جرگہ ہوا تھا تاہم یہ بے نتیجہ ختم ہوا۔ دوسری ملاقات دوپہر دو بجے طے کی گئی تھی جس کے دوران ہی مسلم آبادی کی جانب سے اس گھر کا گھیراو کیا گیا اور اشتعال انگیز نعرے بلند کیے گئے۔ کیلاش آبادی نے بھی اپنے تحفظ کے لیے موقعے پر پہنچنا شروع کر دیا جس کے باعث صورت حال تصادم کی شکل اختیار کر گئی۔ مقامی صحافیوں کے مطابق اگرچہ رینا اپنے خاندان کے ساتھ اپنے مذہب پر رہنا چاہتی ہے تاہم اپنے خاندان کے تحفظ کے لیے مسلمان ہونے کو تیار ہے۔ رینا کے تحفظ کے لیے اسے چترال منتقل کیا جا چکا ہے اور فریقین کو چترال طلب کیا گیا ہے تاکہ ڈسٹرکٹ جج کی موجودگی میں اس مسئلے کو حل کیا جا سکے۔ تاہم رینا کے حق میں فیصلہ آنے کی صورت میں مسلم آبادی کی جانب سے تشدد اور توڑ پھوڑ کا امکان موجود ہے، جبکی کیلاش عمائدین کے مطابق رینا جو بھی فیصلہ کرے گی وہ کیلاش آبادی کو قبول ہوگا۔

کیلاش برادری یونانی النسل قرار دی جاتی ہے جس کے رسم و رواج مقامی مسلمانوں سے بالکل مختلف ہیں۔ کیلاش ثقافت اور آبادی حکومتی عدم توجہی کے باعث انحطاط پذیر ہے، اب اس علاقے میں محض چار ہزار کیلاش افراد موجود ہیں۔

Image: The Kalash Times & Ishpata News

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

فوج اورعدالتیں

یہ اکیسویں صدی ہے ، اور اگر نہ بھی ہوتی تب بھی،کوئی ذی شعور بندوق چلانے کی تربیت حاصل کرنے والے محافظ کے ہاتھ میں انصاف کا ترازو دینے کا نہیں سوچے گا، مگرعسکری ذہن کاکیا ہوسکتا ہے۔

بقیہ مسائل

گج سنگھ پور سے دس پندرہ کلو میٹرکی دوری پر کانٹوں کی وہ سرحد تھی جو زمین کو توبانٹتی تھی مگر دلوں کو نہیں ۔ اسی خاردار تار سے اٹی سرحد سے سو فٹ آگے زمین کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست زیرو لائن بیان کرنے والے پتھر تھے

معلومات تک رسائی کا قانون

1973 کے آئین کے آرٹیکل 19 میں ریاست شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتی ہے مگر یہ قانون صرف کاغذی حد تک رہا