تحریک طالبان پاکستان سے روابط کے شبے میں ہیلی کالج پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم گرفتار

تحریک طالبان پاکستان سے روابط کے شبے میں ہیلی کالج پنجاب یونیورسٹی کا طالب علم گرفتار
محکمہ انسداد دہشت گردی نے کارروائی کرتے ہوئے پیلے کالج پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عتیق آفریدی کو گرفتار کر لیا ہے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی نے کارروائی کرتے ہوئے پیلے کالج پنجاب یونیورسٹی کے طالب علم عتیق آفریدی کو گرفتار کر لیا ہے۔ عتیق آفریدی پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے روابط کا الزام ہے۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق عتیق آفریدی خیبر ایجنسی سے تعلق رکھتا ہے اور اسے پنجاب یونیورسٹی کی حدود سے 11 مارچ کو چھاپہ مار کر گرفتار کیا گیا تھا۔

عتیق آفریدی کو جمعے کے روز مار پیٹ کے الزام کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں اس نے بیت اللہ محسود اور نیک محمد کو اپنا رہنما قرار دیا تھا اور ان کی موت کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا تھا۔ یونیورسٹی کے چیف سیکیورٹی آفیسر میجر ریٹائرڈ سلیم کے مطابق عتیق آفریدی کا تعلق پشتون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ سے ہے۔

اس سے قبل پنجاب یونویرسٹی سے متعدد پروفیسر اور طلبہ کو کالعدم تنظیموں سے روابط کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے۔
عتیق چوہدری کے علاوہ جناح ہسپتال لاہور کے سینئر رجسٹرار ڈاکٹر ریحان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ریحان پر حزب التحریر سے روابط کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس سے قبل پنجاب یونویرسٹی سے متعدد پروفیسر اور طلبہ کو کالعدم تنظیموں سے روابط کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پشتون ایجوکیشنل ڈویلپمنٹ موومنٹ کی جانب سے تاحال اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

طلبہ حلقوں کی جانب سے ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے گرفتار شدگان کے خلاف شفاف تحقیقات اور عدالتی کارروائی اک مطالبہ کای گیا ہے۔ طلبہ تنظیموں کے مطابق گرفتاری اور حراست کے بعد مقدمہ درج کرنے، تفتیش کرنے اور عدالت میں پیش کرنے سے متعلق ریاستی ادارے انصاف اور قانون کے تقاضے پورے نہیں کر رہے جو باعث تشویش ہے۔ پاکستانی تعلیمی اداروں میں شدت پسندی کی جڑیں گہیری ہیں اور اس کے تدارک کے لیے فوری اور موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

Related Articles

پنجاب یونیورسٹی؛ 30 طلبہ کے اخراج کا فیصلہ، 200 کے خلاف مقدمات درج

16 فروری کی شام پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 4 میں اونچی آواز میں موسیقی سننے پر ہونے والے تنازعے کے "ذمہ دار" 30کے قریب طلبہ کے نام یونیوسٹی سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

طلبہ اسلامیہ اور اردو زبان و ادب

تالیف حیدر: طلبہ جن درسگاہوں میں اپنی تعلیم کی ابتدا کر تے ہیں ان کا نظام تعلیم اتنا خراب اور یک رخی ہوتا ہے کہ روایتی و مذہبی معلومات کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں میں ان کا ہاتھ اتنا تنگ ہوتا ہے کہ یہ کسی قابل نہیں رہتے ۔

کراچی یونیورسٹی کے ڈین ٹارگٹ کلنگ میں ہلاک ،یونیورسٹی تین روز کے لئے بند

ڈاکٹر شکیل کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں کراچی کے ایک مدرسے سے فتویٰ بھی جاری کیا گیا تھا، جس کے بعد موبائل پر انھیں واجب القتل قرار دے کر ایس ایم ایس کے ذریعے اس پیغام کو عام کیا گیا۔