تخلص

تخلص
تہمت لگانا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے جسے ہم خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ ہم تہمت ایسے لگاتے ہیں جیسے راولپنڈی، اسلام آباد کے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر چائے میں دودھ کی تہمت لگائی جاتی ہے۔
تہمت لگانا ہمارا اخلاقی اور قومی فریضہ ہے جسے ہم خوش اسلوبی سے سر انجام دیتے ہیں۔ ہم تہمت ایسے لگاتے ہیں جیسے راولپنڈی، اسلام آباد کے ہوٹلوں اور ڈھابوں پر چائے میں دودھ کی تہمت لگائی جاتی ہے۔ ہمارے ایک عزیز دوست جو خود کو شاعر کہنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں کرتے ، اور ہمیں ان کا تعارف بطور شاعر کرانے میں بے انتہا شرمندگی ہوتی ہے، اپنا تخلص منتخب کرنے کے حوالے سے بہت پریشان تھے۔ بہت سے عظیم شعراء کرام سے مشاورت کی گئی۔ سب نے حسب توفیق تخلص عنایت فرمایا اور ساتھ میں تاکید کی کہ نہار منہ نسخہ ہائے وفا لے کر، میانی صاحب کے قبرستان کی عقبی دیوار کے پاس جو پانچویں قبر ہے، اس کے پاس روزانہ باآواز بلند فیض کے ہر شعر کے آگے اپنا تخلص جوڑتے جاﺅ۔ اس سے دو فائدے ہوں گے۔ اول تو یہ کہ تخلص موزوں ہوجائے گا اور دوسرا جو چھٹی قبر خالی پڑی ہے اس پر بہت جلد تمہارے نام کی تختی لگی ہو گی۔

موصوف ان دنوں گرم دودھ کے رسیا تھے۔ ہم نے ان سے استفسار کیا کہ حضرت شاعر حضرات تو چائے، سگریٹ اور کچھ شراب کو استعمال میں لاتے ہیں پر آپ کے گرم دودھ سے لگاﺅ کی وجہ ہمیں معلوم نہ ہو سکی۔ خدارا اس راز سے تو پردہ اٹھا دیجیئے۔ وہ بہت دیر سوچتے رہے اور پھر گویا ہوئے ۔ میا ں تم جانتے ہو تم شاعر کیوں نہیں بن پائے؟ ہم نے ہاتھ جوڑ کر کہا ”حضور ! ہم کہاں اس قابل کہ شاعر ی کریں، آپ خود ہی کچھ عرض کریں"۔ موصوف ارشاد فرمانے لگے ”میاں! تم بہت قابل آدمی ہو، مگر تمہیں گرم دودھ سے لگاﺅ نہیں ہے، ہم تو اس لیے پیتے ہیں کہ ہمارے پہ نزول ہی گرم دودھ پینے کے بعد ہوتا ہے۔ تم بھی اس نسخے کو آزما لو، یقین مانو بہت اوپر جاﺅ گے“۔ ہم نے بھی ان کے مشورے پر دھیان دیا اور دو دن روز رات کو موصوف کا تصور کرکے گرم دودھ پیتے رہے۔ شاعری تو ہمارے بس کی بات ہی نہ تھی پر پیٹ ایسا خراب ہوا کہ ہم واقعی اوپر جاتے جاتے بچے۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے
ایک رات موصوف انتہائی پریشانی کے عالم میں مزید پریشان ہونے کے لئے ہمارے پاس تشریف لائے ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم رات اپنے چند شاعر، ادیب اور فلسفی دوستوں کے ہمراہ عباسی ٹی سٹال پر ڈیرے جمایا کرتے تھے اور موجودہ حکومت کو سلطنت عباسیہ سمجھ کر اس کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور حکومت کی شان میں دو چار موٹی موٹی گالیاں بکنا اپنا فرض اولیں سمجھتے اور پھر کسی دوست کی نظم یا غزل پر سر دھنتے۔ ہمارے اس دوست نے آتے ہی اپنے اشعار کی بوچھاڑ کر کے ہم سب کو چھلنی کردیا۔ ان کے اشعار سن کر ہمارے تمام دوستوں کا ہاضمہ شدید خراب ہوا۔ خیر مسئلہ ان کے تخلص کا تھا اس لیے ہم نے ہمیشہ کی طرح انہیں مفت مشورہ عطیہ کیا کہ جناب! آج سے آپ کا تخلص”تہمتی" ہوا۔ یار دوست اپنا ہاضمہ مزید خراب نہیں کرنا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے ہماری رائے کو ہی مقدم جانا۔ ہمارے دوست اپنے اس اچھوتے تخلص پہ بہت نازاں ہوئے اور اگلے ہی دن اپنے اعزاز میں ایک مشاعرہ منعقد کرایا جس کی نظامت بھی ہمیں کرنا پڑ گئی اور سامعین بھی ہمیں ہی لانے پڑے۔ ہم نے انہیں مدعو کیا تو سچ قے کی طرح منہ سے نکل گیا کہ ”میں ایک نوجوان دوست اور شاعر کو مدعو کرنے لگا ہوں جو اپنا تخلص ’ تہمتی ‘ فرماتے ہیں اور حقیقتاً اردو زبا ن و ادب پر تہمت ہیں“۔ بس اس دن کے بعد سے انہوں نے ہمارے سے ناطہ بھی توڑ لیا ہے اور اب ہم ان کی تہمتوں کی زد میں ہیں۔
Abdul Basit

Abdul Basit

The author has done BS (Hons) in Economics from Government College University Lahore and remained as Co-Editor (The Gazette , GCU Lahore), He is currently working as a freelance content writer and translator.


Related Articles

انسان اور درخت

سنہری ڈائری میں تقدیر کے کیےایک اور ستم کو دفناتے وہ شاید بہت تھک چکا تھا اسی لیے فرار چاہتی نگاہوں کے ساتھ اپنے سامنے کھڑے درختوں کو تکنے لگا

مذاکرات مسئلے کا حل نہیں

اب حالات اور وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ حکومت ان مذاکرات کے خلاف اٹھنے والی آوازوں پر توجہ دے اور ان کے اعتراضات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے کہیں ایسا نہ ہو کہ محب وطن قوتیں حکومت کے خلاف نہ اٹھ کھڑ ی ہوں اور ملک پھر کسی بڑے سیاسی بحران کا شکار نہ ہو جائے ۔

کلیشے

چار سو مرے پھیلی
زندگی کلیشے ہے