ترکی میں فوجی بغاوت ناکام کیوں ہوئی؟

ترکی میں فوجی بغاوت ناکام کیوں ہوئی؟

ترکی میں حالیہ فوجی بغاوت ناکام ہو چکی ہے۔ ذیل میں فارن پالیسی پر چھپنے والے ایڈورڈ لٹواک کے مضمون اور بی بی سی پر شائع ہونے والے پال کربے کے مضمون کے منتخب حصوں کا ترجمہ دیا جا رہا ہے تاکہ اس بغاوت کی ناکامی کے اسباب کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔

فارن پالیسی
ایک کامیاب فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کا دوسرا اصول یہ ہے کہ ایسے تمام متحرک فوجی دستے خاص کر جنگجو طیاروں کے سکواڈز کو جو اس بغاوت کا حصہ نہیں، ان کی نقل و حرکت یا تو محدود کر دی جائے یا پھر وہ اس قدر دوردراز علاقوں میں تعینات ہوں کہ مداخلت نہ کر سکیں ( مثال کے طور پریہی وجہ ہے کہ سعودی فوجی دستے دارالحکومت سے اس قدر دوردراز علاقوں میں تعینات ہیں)۔ لیکن ترک فوجی بغاوت کے منصوبہ ساز (ریاست کے) وفادار ٹینکوں، ہیلی کاپٹروں اور جنگی طیاروں کو غیر فعال کرنے میں ناکام رہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں واقعات رونما ہوئے یہ فوجی سازوسامان اقتدار کے خواہش مند باغیوں کے کام آنے کی بجائے ان کے خلاف مزاحمت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ لیکن باغیوں کی جانب سے کچھ بھی کرنے سے پہلے حکومتی سربراہ کو گرفتار کرنے یا کم سے کم قتل کرنے کے پہلے اصول پر عمل نہ کرنے سے دوسرے اصول کی خلاف ورزی کی اہمیت ویسے ہی کم ہو جاتی ہے۔

ملکی صدر طیب اردگان پہلے آئی فون کے ذریعے اور بعدازاں استنبول ائرپورٹ پر ایک ٹی وی پریس کانفرنس کی صورت میں اپنے حامیوں کو فوجی بغاوت کے خلاف نکلنے کی تلقین کرنے میں کامیاب رہے۔
ملکی صدر طیب اردگان پہلے آئی فون کے ذریعے اور بعدازاں استنبول ائرپورٹ پر ایک ٹی وی پریس کانفرنس کی صورت میں اپنے حامیوں کو فوجی بغاوت کے خلاف نکلنے کی تلقین کرنے میں کامیاب رہے۔ ستم ظریفی یہ کہ وہ جدید سیکولر ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کی تصویر کے نیچے کھڑے ہو کر بات کر رہے تھے۔ سیاست میں شمولیت کے بعد سے طیب اردگان کا مقصد سیکولرازم کی بجائے اسلامی جمہوریت کی ترویج رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر سطح پر طلبہ کو اسلامی سکولوں میں داخلہ لینے پر مجبور کرنے کے لیے سیکولر ہائی سکولوں کی بندش، شراب پر پابندی اور جگہ جگہ مساجد کی تعمیر جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔ مساجد کی تعمیر کا یہ عمل سابق گرجا گھروں میں قائم عجائب گھروں اور یونیورسٹیوں میں بھی جاری ہے جہاں اس سے پہلے سر پر سکارف باندھنے کی بھی ممانعت تھی۔

فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کرنے والے عوامی جتھوں کے ٹی وی پر دکھائے گئے مناظر نہایت چشم کشا تھے: ان جتھوں میں سب کے سب مونچھوں والے مرد تھے (سیکولر ترک مونچھیں رکھنے سے سخت پرہیز کرتے ہیں) اور کہیں کوئی عورت دکھائی نہیں دی۔ علاوہ ازیں ان کے نعرے حب الوطنی پر مبنی نہیں تھے بلکہ اسلامی نوعیت کے تھے۔ مزاحمت کرنے والے "اللہ ایکبر" (اللہ اکبر کا ترک تلفظ) اور ایمان کی گواہی دینے کے لیے کلمہ شہادت دہرا رہے تھے۔

جب تک تعاون نہ کرنے والے فوجی سربراہان زیرِ حراست رہیں، بغاوت کے منصوبہ سازوں کو بہت سے سپاہیوں یا ہوابازوں کو بغاوت کا حصہ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی اور باغیوں کی ابتدائی کامیابیاں خودبخود مزید فوجیوں کو اپنی جانب راغب کر لیتی ہیں۔ لیکن ترکی کے اعلیٰ فوجی عہدیداران نہ تو اس بغاوت کی منصوبہ بندی میں شامل تھے اور نہ ہی اس کا حصہ بنے۔ اور ان میں سے محض چند ایک ہی (بشمول چیف آف سٹاف جنرل ہولوسی آکار) حراست میں لیے گئے۔درحقیقت مسلح افواج کے تمام اہم کماندار اس بغاوت سے علیحدہ رہے، یہی وجہ ہے کہ اردگان کے ہزاروں لاکھوں پیروکاروں کے سامنے یہ باغی (جن کی تعداد دوہزار سے بھی کم معلوم ہوتی ہے اور) جن میں چند لڑاکا ہواباز بھی شامل تھے تعداد میں ناکافی ثابت ہوئے۔

حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بڑی شدومد سے اس بغاوت کی مخالفت کی، لیکن ان جماعتوں کو اردگان کی احسان مندی پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے۔
حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے بڑی شدومد سے اس بغاوت کی مخالفت کی، لیکن ان جماعتوں کو اردگان کی احسان مندی پر زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے۔ آمرانہ طرزِ حکومت کی جانب سفر جاری رہنے اور اس کی رفتار میں اضافے کا قوی امکان ہے کیوں کہ زیادہ تر مسلمان ملکوں میں انتخابات کی اہمیت اور سوجھ بوجھ تو موجود ہے مگر جمہوریت کی نہیں۔

بی بی سی
جب باغیوں نے مختلف عمارتوں اور میڈیا دفاتر پر قبضے ک عمل شروع کیا تو اس وقت طیب اردگان سے متعلق کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہیں۔ باغیوں کو عوام اور فوج کی اکثریت کی حمایت درکار تھی۔ اگرچہ بظاہر وزیراعظم بن علی یلدرم فوجی بغاوت کے خلاف مزاحمت کی قیادت کرتے نظر آ رہے تھے لیکن زیادہ تر ترک یہ جانتے ہیں کہ درحقیقت طاقت کا سرچشمہ طیب اردگان ہیں اور وہ اس میں اضافے کے لیے کوشاں ہیں۔ فوجی بغاوت کی کامیابی کے لیے لازمی تھا کہ بغاوت کے منصوبہ ساز انہیں منظرنامے سے باہر رکھتے، مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے۔ "میں سالارِ اعظم ہوں" انہوں نے بعد میں کہا۔

پانسہ کب پلٹا؟
چار گھنٹوں تک اس حوال سے مستند اطلاعات موجود نہیں تھیں کہ صدر اردگان کہاں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ ترکی کے جنوب مغربی علاقے مرمارس کی تفریح گاہ ایگان میں چھٹیاں منا رہے تھے۔ حالات کا پانسہ تب پلٹا جب وہ استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر اترے اور ایک دھواں دار کانفرنس کی۔ جیسے ہی وہ استنبول ہوائی اڈے پر اترے یہ امر واضح ہو گیا کہ حکومت دوبارہ نظم و نسق سنبھال رہی ہے اور اسے اعلیٰ عسکری قیادت کی حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ انقرہ جہاں طیب اردگان کا محل اور حکومتی دفاتر ہیں تاحال باغیوں کے قبضے میں تھا، لیکن استنبول میں وہ ترک عوام سے براہ راست خطاب میں کامیاب رہے۔

کامیابی کے لیے اس بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت درکار تھی۔ اس کے لیے ضروری کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کئی ترک شہروں میںنکل کر اس بغاو ت میں شامل ہوت
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے "غداری اور بغاوت" قرار دیا۔ ایک سینئر صدارتی مشیر النور جیوک نے اس کے فوراً بعد بی بی سی کو بتایا کہ فوجی بغاوت کو ترک عوام کے عزم و ارادے نے شکست دی۔ "یہ بات بالکل واضح ہے کہ بغاوت کی گئی لیکن حالات جلد ہی حکومت کے حق میں ہو گئے اور اردگان نے لوگوں کو انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر نکلنے کو کہا اور لوگوں نے ایسا ہی کیا"۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترک عوام ہی تھے جنہوں نے انقرہ ہوائی اڈے اور ریاستی ٹی وی اور ریڈیو پر سے فوج کا قبضہ ختم کرایا۔

اطلاعات پر گرفت
درحقیقت ٹی آرٹی کے سٹوڈیوز پر قبضہ کرنے والے فوجی شہریوں کی جانب سے اسٹیشن خالی کرانے کی ایک کوشش ناکام بنانے میں کامیاب رہے تھے اور بغاوت کے کرتا دھرتا اپنا پیغام عوام تک پہنچا رہے تھے۔ باغیوں کی جانب سے پیغام نشر کیا گیا کہ ایک "امن کونسل" نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایک اور نشریاتی ادارے سی این این ترک میں بھی فوجی اہلکار داخل ہوئے اور اس کی نشریات اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تک رسائی معطل کر دی گئی۔ لیکن نشریاتی اداروں پر باغیوں کا قبضہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا، ان کی گرفت اردگان کی اتاترک ائرپورٹ آمد سے پہلے ہی کمزور پڑ چکی تھی۔ صدر اردگان نے سی این این ترک سے رابطہ کیا اور ترکوں کو سڑکوں پر نکلنے کی تلقین کرنے کے لیے ایک ویڈیو کال کی۔شاید صدر خوش قسمت رہے، ان کا کہنا تھا کہ اس ہوٹل پر جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے ان کے روانہ ہو جانے کے بعد بمباری کی گئی اور ان کے سیکرٹری جنرل کو گرفتار کر لیا گیا۔

کیا بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت حاصل تھی؟
کامیابی کے لیے اس بغاوت کو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت درکار تھی۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ فوجیوں کی ایک بڑی تعداد کئی ترک شہروں میں نکل کر اس بغاوت میں شامل ہوتی۔ ٹینک سڑکوں پر نکل آئے اوراستنبول میں باسفورس کے پل پر قبضہ کر لیا گیا۔ لیکن چیف آف سٹاف جنرل ہولوسی آکار اس بغاوت کا حصہ نہیں تھے اور نہ ہی استنبول میں فوج کے سربراہ جنہوں نے باغیوں کے ہاتھوں جنرل آکار کی گرفتاری کے بعد ان کی جگہ لی۔

بحریہ کے سربراہ اور خصوصی افواج کے کماندار نے بھی بغاوت کی مخالفت کی اور ایف سولہ طیاروں نے باغیوں کے ٹینکوں پر حملہ بھی کیا۔
بحریہ کے سربراہ اور خصوصی افواج کے کماندار نے بھی بغاوت کی مخالفت کی اور ایف سولہ طیاروں نے باغیوں کے ٹینکوں پر حملہ بھی کیا۔ برطانیہ میں قائم تھنک ٹینک کیتھم ہاوس کے فادی ہاکورا نے اس بغاوت کو بچگانہ قرار دیا جو بڑے پیمانے پر فوجی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا، "بغاوت کی یہ کوشش اپنے آغاز سے قبل ہی ناکام ہو گئی تھی۔"

اس بغاوت کو سیاسی یا عوامی حمایت بھی حاصل نہیں ہو سکی۔ حزب مخالف کی سیکولر جماعت سی ایچ پی نے کہا کہ ترکی کئی فوجی انقلاب دیکھ چکا ہے اور اب ان "مشکلات کو دہرانا" نہیں چاہتا۔ قوم پرست جماعت ایم ایچ پی بھی حکومت کی حمایت میں میدان میں اتر آئی۔

باغی کون تھے؟
یہ فوج کا ہی ایک دھڑا تھا، فوجی ذرائع کے مطابق یہ فرسٹ آرمی کا ایک چھوٹا سا گروہ تھا جس کا صدر دفتر استنبول میں ہے۔ فادی ہاکورا کا کہنا ہے کہ "یہ دھڑا فوج کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا۔" ہاکورا کا ماننا ہے کہ فوجی بغاوتیں اب ترکی میں ماضی کی طرح وسیع تر (عوامی و عسکری) حمایت کی حامل نہیں رہیں ۔

رجب طیب اردگان عرصہ دراز سے ممکنہ فوجی بغاوتوں کا خدشہ ظاہر کرتے آئے ہیں اور حالیہ برسوں میں ان کی حکومت فوج اور پولیس میں سے ایسے افراد کی چھانٹی کرتی رہی ہے جن کے بارے میں اسے شبہ تھے کہ وہ اسلام پسند اے کے پارٹی کے خلاف ہیں۔

کیا اس سب کی منصوبہ بندی امریکہ میں کی گئی؟
صدر اردگان کئی برس سے اپنے سابق اتحادی فتح اللہ گولن پر اپنے خلاف سازشوں کا الزام عائد کرتے آئے ہیں۔ صدر اردگان اور فتح اللہ گولن کی رفاقت کے خاتمے کے بعد سے فتح اللہ گولن امریکہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ بغاوت کے بعد طیب اردگان کو اپنے "ایک متوازی ریاست" (جو ان کے مخالف کی جانب ایک واضح اشارہ تھا) پر الزام عائد کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگا۔ فتح اللہ گولن کی تحریک نے اس بغاوت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ فتح اللہ گولن کے حامیوں کا کہنا تھا کہ انہیں بغاوت کی یہ کوشش "عجیب اور دلچسپ" معلوم ہوئی تاہم انہوں نے تحریک کے خلاف مزید حملوں کے خوف سے اسے مسترد کیا۔ تاہم ترک خبررساں ادارے انادولو کے مطابق حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے "متوازی ریاست" سے روابط کے الزام میں پانچ جرنیلوں اور انتیس کرنیلوں کو یہ کہہ کر برطرف کر دیا۔

Related Articles

Evaluating the National Action Plan

It is very timely to analyze the existing National Action Plan (NAP) meant to eradicate extremism and terrorism from the

یعنی مفتی کے سینے میں دل نہیں کیا

ویسے مفتی صاحب صالح ارادوں کے ساتھ اگر موصوفہ کو نکاح کی پیشکش کرنے گئے تھے تو اس میں برا ہی کیا ہے؟ اور اگر مفتی صاحب 'سوشلائزیشن' کے ذریعے محترمہ کو دین اسلام کا پیغام دینے گئے تھے توکون سا کبیرہ گناہ سر زد ہو گیا؟

طبقاتی جدوجہد کیا ہے؟

فاروق بلوچ: انقلاب کے بعد بھی طبقاتی کشمکش جاری رہے گی اور طبقات کا خاتمہ بتدریج خاتمہ ہو گا۔ طبقات کی بتدریج ٹوٹ پھوٹ سے ریاست بھی بتدریج تحلیل ہو گی۔