تصنیف حیدر کے نام ایک خط

تصنیف حیدر کے نام ایک خط
کیسے ہو دوست؟ مجھے معلوم ہے کہ دلی میں بیٹھے ہوئے تم موجودہ پاک بھارت کشیدگی پر اتنے ہی پریشان ہو گے جتنا کراچی میں بیٹھا ہوا میں ہوں۔ تمہاری شاعری اور نثر سے تمہاری جن ترجیحات کا علم ہوتا ہے ان میں عورت سرفہرست ہے اور میں بھی فطرت کے حسن و جمال کی جسمانی یا ذہنی قربت میں رہنا پسند کرتا ہوں۔ دفتر سے باقی بچا ہوا وقت اپنی لائبریری اور بستر کے کنارے میز پر رکھی کتابوں میں کٹتا ہے جہاں مختلف زمانوں، زبانوں اور ملکوں کے سیکڑوں ادیب طرح طرح کی سوغاتیں لیے ہر وقت موجود ہیں۔ ایک چھوٹی سی فیملی ہے جس میں ایک دل نواز بیوی کے ساتھ تین چھوٹے چھوٹے بچوں کو بڑا ہوتے دیکھنا بجائے خود ایک خوب صورت تجربہ ہے۔ ایسے میں سیاست کم از کم میرے لیے تو ایک ایسے مہمان کی حیثیت رکھتی ہے جو بن بلائے آن دھمکتا ہے اور جس کی نہ چاہتے ہوئے بھی سیوا کرنا پڑتی ہے۔

ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔
سیاسی کشیدگی کے ماحول میں سیاسی رائے ظاہر کرنا خطرناک کام ہے جس سے میں خود بھی بچنے کی بے پناہ کوشش کر رہا ہوں۔ اس کوشش میں مجھے دیگر ادیب دوستوں سے زیادہ قوت صرف کرنا پڑ رہی ہے کیونکہ ایک عامل صحافی بھی ہوں اور دفتر میں ارنب گوسوامی کا چینل میرے منہ کے آگے دھرا ہوتا ہے۔ مگر ہمیں متنازعہ ہونے کا خیال کیے بغیر اپنی رائے ظاہر کر دینی چاہیے، شرط یہ ہے کہ ہم نے یہ رائے ایسے طیش کے عالم میں نہ دی ہو جو ہندوستان یا پاکستان کے کسی نیوز چینل کو تازہ تازہ دیکھ کر پیدا ہو سکتا ہے۔

مجھے خوشی ہے کہ تم نے تازہ صورت حال کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے اور بے لاگ اظہار کیا ہے۔ ایک پاکستانی ہونے کے ناطے میں تمہارے موقف کے ہر حصے سے اتفاق تو نہیں کر سکتا لیکن اتنا ضرور سمجھتا ہوں کہ تم نے یہ رائے بہت اخلاص سے دی ہے۔

میں نے خود کو یہ جو پاکستانی لکھا ہے تو یہ اپنائی ہوئی کسی حقیقت سے زیادہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں میں نے خود کو پیدائش کے بعد سے موجود پایا ہے۔ ہمارے سیاسی نقطہ ء نظر کو طے کرنے میں ہمارا سٹینڈ پوائنٹ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے، یعنی یہ کہ ہم کسی سیاسی صورت حال کو کہاں پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی ادب کا مطالعہ ہمارے سٹینڈ پوائنٹ کو نیوٹرل بناتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا بین الاقوامی شہری بناتا ہے جسے ہر اس ملک، ہر اس شہر سے بھی محبت ہو جاتی ہے جس کے بارے میں اس کے کسی عزیز مصنف نے کچھ لکھا ہو۔ میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔ مجھے تو برلن اور پیرس کے گلی کوچے بھی اجنبی محسوس نہیں ہوئے۔ مجھے تو ایسا لگا جیسے میں وہاں پہلے بھی کئی کئی بار گھوم چکا ہوں۔ ہماری دنیا دن بدن سکڑ رہی ہے جسے گلوبل ولیج کہا جاتا ہے۔ کسی ایک ملک سے ایسی وفاداری کا تصور اب ختم ہونا چاہیے جو کسی دوسرے ملک سے نفرت کا درس دیتی ہو۔ حب وطن کے محدود تصور سے آگے نکل کر زمین نامی اس پورے گولے سے محبت کرنا ہو گی جو معلوم کائنات میں زندگی کا واحد منبع ہے۔ اور تم نے درست نشان دہی کی کہ ایٹمی ہتھیار اس زمین اور اس پر موجود زندگی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

میرے آباو اجداد موجودہ ہندوستان سے ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں میں شامل نہیں تھے، پھر بھی میں دلی، لکھنو، امرتسر کو کبھی غیر نہیں سمجھ سکا۔
دو ملکوں کے درمیان اگر کوئی تنازعہ ہے تو اس کا حل نکلنا چاہیے۔ یہ بات دو ایٹمی ملکوں کے تنازعے کے لیے جتنی ناگزیر ہے اتنی کسی اور دو ملکوں کے لیے نہیں ہو سکتی۔ پاکستان صحیح بنا یا غلط بنا، مگر تقسیم کے وقت یہ اصول طے کیا گیا تھا کہ مسلمان اکثریت کے علاقے پاکستان میں شامل ہوں گے۔ بھارت نے ہندو اکثریت اور مسلم حکمران والا حیدرآباد دکن بھی لے لیا اور مسلم اکثریت اور غیر مسلم حکمران والا کشمیر بھی۔ اگر میں ٹمبکٹو کے کسی شہری کو یہ بھی یہ مثال دوں تو وہ اسے بے اصولی قرار دے گا۔

میں ملکی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو ایک اہم اصول سمجھتا ہوں اور جدید بھارت کے بانی جواہر لال نہرو مجھے گاندھی جی سے بہتر سیکولر رہ نما لگتے ہیں، لیکن بھارت میں توسیع پسندانہ نیشنل ازم کی بنیادیں بھی انہی نہرو نے رکھی تھیں جس کے جنون میں آج بھارت کا ایک بڑا حصہ مبتلا نظر آتا ہے۔ یہ نیشنل ازم حب وطن کا وہی محدود تصور ہے جس کی میں نے اوپر نشان دہی کی۔ چین ہانگ کانگ، مکاو اور تائیوان پر حق رکھتا تھا مگر اس نے ان پر چڑھائی نہیں کی۔ بھارت نے حیدرآباد دکن، جوناگڑھ اور کشمیر کے ساتھ ساتھ پرتگالی گوا پر بھی زور زبردستی سے قبضہ کیا۔ یہ توسیع پسندی کی ایک الم ناک داستان ہے جو نوآزاد بھارت کے تاب ناک ترین سرکاری افسر وی پی مینن نے اپنی کتاب میں فخریہ تحریر کی ہے۔

پاکستان نے بھی قلات کی ریاست کا الحاق غیر شائستہ طریقے سے ممکن بنایا، اور آزادی کے فوری بعد صوبہ ء سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا) کی کانگریسی حکومت کو ہٹا کر ایک غیر جمہوری اقدام کیا۔ البتہ پاکستان نے کسی غیر مسلم علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔ آزادی کے وقت گوادر کا ساحل اومان کے پاس تھا۔ پاکستان چاہتا تو پولیس بھیج کر اس پر قبضہ کر سکتا تھا مگر اس کے لیے مذاکرات کیے گئے اور پھر اسے قیمتاً خریدا گیا۔

پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔
پاکستان اور بھارت حالیہ برسوں میں جس گہرے بحران کا شکار رہے ہیں اس کی جڑیں ان کی آزادی کے وقت کے رہ نماوں کی سوچ میِں پنہاں ہیں۔ پاکستانی رہ نماوں نے مذہب کی بنیاد پر جس اتحاد کی دعوت دی وہ ایک ریاست کو چلانے کے لیے ناکافی ثابت ہوا۔ دوسری جانب مذہبی حلقوں نے اسی مذہب کا مسالہ تیز کرنے پر اصرار کیا۔ یوں مذہبی انتہاپسندی کی الم ناک صورت پیدا ہوئی۔ طالبان کے خلاف جنگ میں پچاس ہزار شہریوں کی قربانی اور خصوصاً آرمی پبلک اسکول واقعے کے بعد پاکستانی آبادی کے ایک کثیر طبقے میں یہ احساس پیدا ہو گیا ہے کہ یہ مذہبی انتہاپسندی ہمارے لیے زہر قاتل ہے۔ دوسری جانب بھارت میں، ارون دھتی رائے اور دیگر قابل احترام مفکرین کی موجودگی کے باوجود، یہ احساس اس بڑے پیمانے پر نظر نہیں آتا کہ بھارتی نیشنل ازم بھارت کے اپنے اور خطے کے عوام کے لیے خطرناک ہے۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب تک بھارتی عوام کی اکثریت کو اپنے اس نیشنل ازم میں فائدہ ہی فائدہ نظر آ رہا ہے۔ ایسی ہی فائدہ جرمنوں کو ہٹلر کے نیشنل ازم کے ابتدائی برسوں میں نظر آتا تھا۔ ایسا ہی فائدہ پاکستانی عوام کو اسی اور نوے کی دہائیوں میں اپنے ان مجاہدین میں نظر آتا تھا جو دور و نزدیک کے ملکوں میں ایکسپورٹ کیے جا رہے تھے۔

پاکستان اور بھارت کے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان سب سے بڑا تنازعہ کشمیر ہے۔ ہندوستانی مسلمان قیام پاکستان کا بنیادی سبب تھے مگر تقسیم کے بعد صرف ان کا اسٹینڈ پوائنٹ بدل جانے سے کئی امور پر ان کا موقف پاکستانیوں سے مختلف ہو گیا۔ ایسے میں ہندوستانی مسلمانوں کی یہ خواہش سمجھ میں آتی ہے کہ کشمیر بھارت کے ساتھ ہی جڑا رہے تاکہ ایک تو ہندوستانی مسلمانوں کو تقویت ملے اور دوسرے یہ کہ کشمیر اگر الگ ہو گیا تو ہندوستانی مسلمانوں کو ایک دفعہ پاکستان بنانے کے بجائے دو دفعہ پاکستان بنانے کا طعنہ سہنا پڑے گا۔ مگر کوئی خطہ آپ کی تقویت کی خاطر اپنی امنگوں کو کیسے ترک کر دے؟ انگلستان کی بھی شدید خواہش ہے کہ اسکاٹ لینڈ سے اس کا اتحاد برقرار رہے مگر اسے برقرار رکھنے کے لیے وہ کوئی فوجی طریقہ اختیار کرنے کو تیار نہیں۔ کیا ہماری قیادتیں کبھی اتنی میچور ہو سکیں گی۔

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔
کسی خطہ ء زمین اور اس کے باسیوں کی اپنی ہی خواہشات اور امنگیں ہوتی ہیں جنہیں رکھنا یا نہ رکھنا دھرتی واسیوں ہی کا حق ہے۔ جنوبی افریقا کی گوری رژیم کہتی تھی کہ ہم نے کالوں کی فی کس آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ مگر پھر بھی سیاہ فام لوگ اپنی دھرتی پر حکومت کا اختیار خود چاہتے تھے۔ فلسطینی اگر آج جدوجہد ترک کر کے اسرائیل سے قلبی طور پر جڑ جائیں تو ان کی نسلیں خوش حال ہو سکتی ہیں۔ مگر وہ نہیں مانتے۔ ان معاملات پر فرانز فینن کی کتاب بہت اہم ہے۔

جغرافیے کی تاریخ پڑھیں تو کسی سرحدی لکیر کو تقدس حاصل نہیں اور نہ ہونا چاہیے۔ لکیروں کے بجائے انسانی جان کی تکریم و تقدیس زیادہ اہم ہونی چاہیے۔ مگر بھارت جس کے اتنے بہت سارے رقبے میں سے برطانیہ نے ایک انچ بھی بطور نمونہ اپنے پاس رکھنے کی لالچ نہیں کی، تقسیم کے بعد وہی بھارت اس رقبے کا ایک انچ بھی چھوڑنے کو تیار نہیں۔ بھارتی ریاست کی بنیاد جس نیشنل ازم پر رکھی گئی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔ دنیا دوسری جنگ عظیم میں ایسے نیشنل ازم کو بھگت چکی ہے۔ بھارتی میڈیا میں پاکستان کے حوالے سے جو رعونت نظر آتی ہے وہ اسی نیشنل ازم کا کرشمہ ہے۔ یہ رعونت کوئی خوددار قوم برداشت نہیں کر سکتی، چاہے وہ کم زور ہی کیوں نہ ہو۔ خود پاکستان بھی افغانستان کے حوالے سے ایسی ہی رعونت کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یوں سیاسی مسائل میں نفسیاتی مسائل بھی در آتے ہیں جس سے سیاسی مسائل حل کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔
شائننگ انڈیا کے تصور کی پیدا کردہ دھند میں پاکستان ایک کم زور ملک دکھائی دیتا ہوگا لیکن یہ بیس کروڑ لوگوں کا ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک ہے جسے فوجی شکست نہیں دی جا سکتی۔ اور اگر بہ فرض محال ہماری سرحدیں بے وقعت کر دی گئیں تو ہر روز کہیں ممبئی تو کہیں پٹھان کوٹ ہو رہا ہو گا۔

یہ خط اپنے خیالات سے تمہیں قائل کرنے کے لیے نہیں، صرف ایک اور نقطہ ء نظر دکھانے کی کوشش ہے جو ایک مختلف اسٹینڈ پوائنٹ پر کھڑے ہونے کا نتیجہ ہے۔ اور یہ نقطہ ء نظر ایک ایسے شخص کا ہے جو پاکستانی ہونے کے باوجود خود کو بین الاقوامی شہری سمجھتا ہے، جو جغرافیائی حدود والی حب وطن کے بجائے اپنے دھرتی واسیوں سے کمٹمنٹ پر یقین رکھتا ہے اور جو ریاستی نظم و نسق کے لیے سیکولرازم کو نمایاں اصول سمجھتا ہے۔ امید یہی ہے کہ جنگ کے یہ بادل چھٹ جائیں گے۔ تیزی سے سکڑتی ہوئی دنیا نے ہمیں سوشل میڈیا کے طفیل ایک دوسرے کے قریب کیا ہے۔ ہم نے اپنے ملک سمیت دنیا بھر میں نئے دوست تلاش کیے ہیں جن سے اب ہم ہر روز بات کر سکتے ہیں۔ خواہش یہی ہے کہ ہماری آراء سے ہماری دوستیاں متاثر نہ ہوں۔ سیاسی صورت حال آنی جانی ہے۔ انشاء اللہ کل کا دن آج سے مختلف اور بہتر ہو گا۔

طالب دعا
سید کاشف رضا
یکم اکتوبر، دو ہزار سولہ، کراچی
Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza is a poet, writer and translator with five books to his credit. He works as a TV journalist in Karachi. His first novel will be published next year.


Related Articles

کرایہ دارانہ زندگی

میں جس زندگی کو فخر سے کبھی کبھی گردن اکڑائے اور کمر تانے ہوئے گالی بکتا ہوں، کمبخت نے مجھے بڑے گھر جھنکوائے ہیں۔

فوجی مداخلت اور نااہل سیاسی قیادت

تحریک انصاف اور طاہرالقادری کی جدوجہد اگرجمہوریت کے استحکام کی جدوجہد ہوتی تو وزیر اعظم کے استعفٰی اور اپنے جمہوری مطالبات کی منظوری کے لیے آرمی چیف کو ضامن یا ثالث بنانےسے انکارکرسکتے تھے۔

۔'ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا'۔۔۔ ڈیرہ جیل پر حملہ اور ہماری بے بسی

ارادہ تو یہ تھا کہ ممنون و مشکورنو منتخب صدر کے حوالے سے کچھ معلومات قارئین تک پہنچائی جاتیں۔ اور