تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر۔اداریہ

تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر۔اداریہ
طاقت اور اختیار کو اخلاقیات کے نفاذ کا ذریعہ سمجھنے کا مغالطہ تعلیمی اداروں میں ایسے ضوابط کی تشکیل کا باعث بن رہا ہے جو انتخاب، میل جول اور فیصلہ کرنے کی آزادی کو محدود کر رہے ہیں۔
طاقت اور اختیار کو اخلاقیات کے نفاذ کا ذریعہ سمجھنے کا مغالطہ تعلیمی اداروں میں ایسے ضوابط کی تشکیل کا باعث بن رہا ہے جو انتخاب، میل جول اور فیصلہ کرنے کی آزادی کو محدود کر رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے طلبہ کے لباس، میل جول اور طرزعمل کو مذہبی، سماجی اور اخلاقی رویات کے تناظر میں پابند کرنے کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے بزرگ نوجوانوں پر اور مرداہ برتری پر مبنی ہماری اقدار خواتین پر بھروسہ کرنے کو تاحال تیار نہیں۔ اخلاقیات کے نام پر ابوی اقدار کانفاذ نئی نسل (خصوصاً خواتین اور دیگر غیر مرد جنسی اصناف) کو فرسودہ صنفی سانچوں میں ڈھالنے کا بیزارکن عمل ہے جو جوانی، رنگارنگی، تخلیق اور خؤشی کے اظہار کو بغاوت، بے حیائی اور فحاشی قرار دیتا ہے۔ اس عمل کو بڑے پیمانے پر جاری ان شعوری اور غیرشعوری کوششوں کا بھی حصہ سمجھا جا سکتا ہے جن کے ذریعے مذہبی شناخت کی بنیاد پر سماجی، سیاسی اور فکری شعبوں کو یک رنگ اور یکساں کرنے کی کوشش پاکستان میں جاری ہے۔ بظاہر ہمارے تعلیمی ادارے اخلاقیات، لباس اور سماجی میل جول کو فرد کا ذاتی معاملہ تسلیم کرنے کی بجائے ذاتی معاملات کو اجتماعی اخلاقی سانچوں کے مطابق ڈھالنے کے خؤاہاں ہیں۔ اگرچہ نظم و ضبط کے قیام اور سازگار تدریسی ماحول کے لیے قواعدوضوابط کی تشکیل انتظامی فرائض میں شامل ہے تاہم ان قواعدوضوابط کا مقصد تمام افراد کو یکساں آزادی فراہم کرنا ہونا چاہیئے ناکہ آزادی کو سلب کرنا اور نجی معاملات میں مداخلت کرنا۔

درحقیقت اخلاقیات کے نفاذ کا یہ عمل روایات کو آزادی، تقلید کو تخلییق، اطاعت کو اختلاف اور معاشرے کو فرد پر اہمیت دینے کا عمل ہے جو ہمارے طلبہ کو مذہب، ثقافت اور نظریے سے بلند انسانی اقدار کی بجائے اپنے حلیے، شباہت اور میل جول کو مذہبی اور سماجی پیمانوں کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اخلاقیات کے نفاذ کا یہ دائرہ اپنی تمام تر تنگ نظری، فرسودگی اور جبر کے ساتھ صنفی امتیاز اور مردانہ برتری کی ابوی اقدار کی ترویج اور استحکام کا ایک استحصالی ذریعہ ہے۔ اخلاقیات کے نفاذ کے اس خودتفویض کردہ اختیار کے تحت ادارے اور انتظامی عہدیداران خود کو ہر اس فرد پر نظر رکھنے، اسے پابند کرنے یا سزا دینے کا ذمہ دار اور اہل سمجھتے ہیں جو صنفی تفریق پر مبنی اس اخلاقی نظم سے منحرف یا مختلف ہو۔ تعلیمی اداروں میں رائج اخلاقیات کا تمام تر دائرہ کار صنفی اختلاط کی نفی پر مبنی ہے اور اعلٰی انسانی اوصاف کی بجائے تنگ نظر، محدود اور شدت پسند رویے پروان چڑھا رہا ہے۔ لیکن ہم اس امر سے واقف ہیں کہ جن اخلاقی ہیمانوں کی بنیاد پر ہم تعلیمی اداروں کو چلانے کے خواہاں ہیں وہی سماجی اقدار غیرت کے نام پر قتل اور تشدد کو جواز فراہم کرتے ہیں؟

تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط درحقیقت اختلاف رائے اور تنوع کی بیخ کنی کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جن کے تحت ایک مخصوص حلیے، لباس اور طرزِعمل کے سوا تمام شباہتیں، جنسی شناختیں اور رویے قابل نفرت اور ممنوع قرار پاتے ہیں
ہمارے تعلیمی ادارے تمام جنسی شناختوں کے لیے قابل قبول اور محفوظ ماحول پیدا کرنے میں ناکام ہیں، اور طلبہ کو اپنی نجی زندگی کے فیصلوں کے لیے ذمہ دار اور خودمختار بنانے کی بجائے طلبہ و طالبات کے لباس، اختلاط اور سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط درحقیقت اختلاف رائے اور تنوع کی بیخ کنی کے لیے تشکیل دیے گئے ہیں جن کے تحت ایک مخصوص حلیے، لباس اور طرزِعمل کے سوا تمام شباہتیں، جنسی شناختیں اور رویے قابل نفرت اور ممنوع قرار پاتے ہیں۔ تعلیمی ادارے انہی پدرسری اقدار کو فروغ دے رہے ہیں جو مردوں کے سوا تمام صنفی شناختوں کو کم تر قرار دیتی ہیں۔

تعلیمی اداروں میں عموماً اخلاقیات اور کردار سازی کو صرف جنسی خواہشات، ترغیبات یا آزادانہ اظہار کی روک تھام تک محدود تصور کیا جاتا ہے۔ تعلیمی اداروں میں صنفی علیحدگی اور اخلاقی جبر کو ایک نمایاں اور فخریہ خصوصیت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تشویش ناک امر یہ ہے کہ اخلاقیات کے نفاذ کا یہ عمل ذمہ دار شہری پیدا کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ کی بڑی تعداد شہری ذمہ داریوں سے بے بہرہ ہے۔ انفرادی سطح پر آزادی اور ذمہ داری کے اخلاقی تصورات سے بے بہرہ یہ سندیافتہ ہجوم ریاست کی اس تعلیمی حکمت عملی کی پیداوار ہے جو مذہبی سطح پر ایک شدت پسند اور سیاسی طور پر غیر جمہوری نسل تیار کرنے کے لیے وضع کی گئی تھی۔ اس حکمت عملی کا مقصد طلبہ کو صحیح اور غلط کی پہچان کے لیے تنقیدی شعور حاسل کرنے کے قابل بنانے کی بجائے ریاست اور معاشرے کے لیے قابل قبول مذہبی، سماجی اور سیاسی نظریات کے تحت ایک ایسی نسل پروان چڑھانا تھا جو مقتدر حلقوں سے اختلاف کرنے اور سوال اٹھانے کی جرات اور صلاحیت سے محروم ہو۔

ہمارا معاشرتی نظم فرد کو اپنی اخلاقی زندگی اور فیصلوں کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے اسے اجتماعی یا اکثریتی معاشرتی اقدار کا پابند بنانے کا خواہاں ہے۔
بدقسمتی سے اس بندوبست میں کمزور طبقات خود کو مقتدر اصناف، طبقات، مسالک اور گروہوں کے اخلاقی جبر سے محفوظ رکھنے میں ناکام ہیں۔ اخلاقی اصولوں اور معاشرتی اقدار کے تحت ہر مرد کی ہر عورت پر اور ہر معمر کی کم سن پر اخلاقی اجارہ داری تفویض شدہ سمجھی جاتی ہے جس کے باعث گھر کے اندر اور باہر اخلاقیات کے نفاذ کا اختیار مردوں، مذہبی طبقات اور انتظامیہ کے ہاتھ آ چکا ہے جسے چیلنج کرنا مشکل تر ہو رہا ہے۔ ہمارا معاشرتی نظم فرد کو اپنی اخلاقی زندگی اور فیصلوں کا ذمہ دار قرار دینے کی بجائے اسے اجتماعی یا اکثریتی معاشرتی اقدار کا پابند بنانے کا خواہاں ہے۔ اپنی اخلاقی زندگی کے حوالے سے ذمہ داری کے ساتھ آزادی اور خودمختاری کی نفی کسی بھی فرد کی بطور انسان تحقیر کے مترادف ہے۔ بادی النظرمیں ہمارے تعلیمی ادارے ایک آزاد اور خود مختار انسان کی بجائے اپنے طلبہ کو مطیع، فرمانبردار اور محتاج فرد کے طور پر نشوونما پاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

'اخلاقیات گردی'(Moral Policing) کا عمل صرف انتظامیہ کی جانب سے نہیں، اس امر کو سیاسی قیادت، معاشرے اور والدین کی مکمل حمایت میسر ہے۔ والدین کی جانب سے جنسی تعلیم اور مخلوط تعلیم پر اعتراضات نئے نہیں، سیاسی قیادت کی جانب سے سخت گیر منتظمین اور اخلاقی سزاوں کی حمایت ہمیشہ سے موجود رہی ہے اور مختلف مذہبی طلبہ تنظیمیں طلبہ و طالبات کی اخلاقی نگرانی کو ہمہ وقت مستعد رہتی ہیں۔ ریاست، مذہبی طبقات، والدین اور اساتذہ سمیت معاشرے کی اکثریت نوجوانوں کو نجی زندگی اور سماجی میل جول میں خودمختاری اور آزادی دینے کی روادار نہیں اور یہ اس خوف کا نتیجہ ہے جو فرد کی آزادی سے وابستہ کیا گیا ہے۔ یہ احساس ہر سطح پر پھیلایا گیا ہے کہ آزادی اور خودمختاری کا لازمی نتیجہ بے راہروی، اخلاقی گراوٹ، سماجی انتشار اور فحاشی کی صورت ہی نکلے گا۔

تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا گھٹن زدہ ماحول کسی بھی تخلقیی یا عملی سرگرمی کے امکانات محدود کر دیتا ہے کیوں کہ طلبہ کے لیے کہن زدہ افکاراور نظریات پر تنقید ممکن نہیں رہتی۔
تعلیمی اداروں میں اخلاقی جبر کے نتیجے میں پیدا ہونے والا گھٹن زدہ ماحول کسی بھی تخلقیی یا عملی سرگرمی کے امکانات محدود کر دیتا ہے کیوں کہ طلبہ کے لیے کہن زدہ افکاراور نظریات پر تنقید ممکن نہیں رہتی۔ تکلیف دہ امر یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کے اخلاقی ضوابط جنسی ہراسانی کی مختلف صورتوں، پیشہ ورانہ بددیانتی اور مالی و انتظامی بے قاعدگیوں کو کم کرنے کی بجائے طلبہ و طالبات کی ذاتی اور سماجی زندگی کو محدود کرنے کے لیے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے نفاذ کے لیے پیش کیا جانے والا مذہبی اور ثقافتی جواز اپنے نفس میں غلط اور متضاد استدلال پر استوار ہے۔ تعلیمی اداروں میں جاری کی جانے والی اخلاقی ہدایات اورضوابط انہی مغالطوں کی بازگشت ہیں جو مرد اور عورت کے ہر تعلق کو جنسی کشش کی پیداوار سمجھتے ہیں اور جنسی جرائم کا ذمہ دار عورت کے لباس یا ظاہری حلیے کو قرار دیتے ہیں۔ اخلاقی جبر کا تعلیمی نظام جس نصاب اور تعلیمی ماحول کا خواہاں ہے وہ ایک فرد کی آزادی، خودمختاری اور آزادانہ انتخاب کےبنیادی حق کی نفی کرتا ہے اور ایک جمہوری بندوبست میں کسی ادارے، فرد حتیٰ کہ ریاست کو بھی یہ اختیار نہیں دیا جا سکتا کہ وہ کسی آزاد یا خودمختار فرد کو کسی ایسے اخلاقی ضابطے کا پابند بنانے کی کوشش کرے جو اس کے بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں سے متصادم ہو۔ لیکن بدقسمتی تعلیمی اداروں میں طلبا و طالبات کے مابین میل جول، ان کے لباس اور سماجی سرگرمیوں سے متعلق جاری کیے جانے والے اخلاقی ضوابط نہ صرف انسانی حقوق اور انفرادی آزادیوں کے تصورات سے متصادم ہیں بلکہ تعلیم و تدریس کے اس بنیادی منہاج کے بھی منافی ہیں جس کے تحت ایک آزاد، خودمختار اور ذمہ دار شہری کی تشکیل کے لیے آزادانہ اور سازگار ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔

Related Articles

یہ شدت پسندی اور برداشت کے درمیان جنگ ہے

جماعت اسلامی کے دباو پر مذہب کے غلط استعمال اور شدت پسندی کے اثرات سے متعلق دہم جماعت کی پشتو کی کتاب سے موجودہ دور کے مسائل کا باب خارج کیا جا رہا ہے

پنجاب یونیورسٹی؛ 30 طلبہ کے اخراج کا فیصلہ، 200 کے خلاف مقدمات درج

16 فروری کی شام پنجاب یونیورسٹی ہاسٹل نمبر 4 میں اونچی آواز میں موسیقی سننے پر ہونے والے تنازعے کے "ذمہ دار" 30کے قریب طلبہ کے نام یونیوسٹی سے خارج کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

When Words Can Kill

“There is a calling that is yet above high office, fame, lucre and security. It is the call of conscience.” – Lasantha Wickrematunge