تلاش

تلاش
تلاش
میں جب پیدا ہوئی
تو میرا آدھا وجود
میری نال سمجھ کر
مٹی میں دبا دیا گیا اور میں
اپنے جنم سے لے کے آج تک
اپنے گم شدہ حصے کی تلاش کر رہی ہوں
شروع شروع میں مجھے لگا
کہ میرا آدھا وجود میری ماں کی کوکھ
یا باپ کی آنکھ میں دفن ہے
مگر میری ہزار ہا کرید کے باوجود
مجھے میرا وجود نہیں ملا
پھر مجھے لگا کہ میرا وجود
غلطی سے میرے محبوب کی روح میں
گوندھ دیا گیا ہے
مگر سالہا سال کی کھوج کے بعد
خبر ملی کہ جسے میں اپنا وجود
سمجھ رہی تھی وہ تو اس کی اپنی نال تھی
جو بہت تلاش کے بعد
اس نے خود میں چھپالی تھی
اب مجھے لگ رہا تھا
کہ میری نال میرے بچے کے وجود میں
ڈھل گئی ہے
مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہورہا ہے
اسے تو خود اپنی نال کی تلاش کی عادت پڑگئی ہے

سو مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی

Image: Frida Kahlo

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.

Read More...

روز کی دو کہانیوں کا تیسرا منظر

میری آنکھوں میں
فحش بیماری ہے
جس کا بڑے بوڑھے نام نہیں لیتے
میرا لفظ آسیب زده ہے
وہ مجھے ڈراتا رہتا ہے
میری انگلیوں پر
جن حاضر ہوتے ہیں
وہ میری جگہ آپ کو چھوتے ہیں
میری باتیں چڑیلوں کی طرح
میرے حلق میں چیختی رہتی ہیں
میری باتوں کے پاؤں الٹے ہیں

ظلم کے منہ کو خون لگا ہے

عذرا عباس: ظلم کے منہ کو خون لگا ہے
وہ پاگل کتوں کی طرح اپنی زنجیروں سے باہر ہے
یا باہر کیا گیا ہے

اسفل المخلوقات

ہماری عورتوں کا دودھ دوہنے کے بعد
ہمیں ہلوں میں جوت دیا گیا