تمغہ

تمغہ

'نقاط' فیصل آباد سے شائع ہونے والا ایک موقر سہ ماہی ادبی جریدہ ہے۔ نقاط میں شائع ہونے والے افسانوں کا انتخاب قاسم یعقوب کے تعاون سے لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

نقاط میں شائع ہونے والے مزید افسانے پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

افسانہ نگار: علی اکبر ناطق

ڈی آئی جی سمیت پولیس کے تمام افسران موجود تھے۔ لمبے چوڑے سُر خ قالینوں اور کُرسیوں پر لوگوں کی بڑی تعدا د جمع تھی۔ اسٹیج کو پولیس کے شہد ا کی تصویروں اور پھولوں سے سجا دیا گیا تھا۔ درجن بھر پولیس کے شہدا کے رنگین پوسٹر ہال کی پچھلی دیوار پر بھی چسپاں تھے تاکہ اسٹیج پر بیٹھنے والوں کی نظر اُن پر بھی پڑ سکے۔ اناؤنسر نے مختصر تمہید کے بعد ڈی آئی جی شمس الحسن کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔ ڈی آئی جی اسپیکرپر آئے تو ہال میں مکمل خاموشی طاری ہو گئی۔

حضرات!
آپ سب جانتے ہیں، پنجاب پولیس نے کس طرح اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے جرائم پر قابو پایا ہے۔ ہم اپنے ان جوانوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو معاشرے کے ان بدمعاش اور ناسور افراد کا مقابلہ دلیری سے کرتے ہوئے اُن کو کیفر کردار تک پہنچاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ کی طرح آج ہمیں پھر اپنے ان دو جوانوں پر فخر ہے۔ جنہوں نے اپنی جانوں کو شدید خطرے میں ڈال کر انسانیت کے دشمنوں کا خاتمہ کیا ہے۔ ان میں ایک سب انسپیکڑ حمید سندھوصاحب ہیں جس کی کارکردگی پچھلے کئی سالوں سے پنجاب پولیس کو کامیابیوں سے ہمکنار کر رہی ہے اور دوسرے عابد بلال ہیں جس نے اس کے شانہ بشانہ کام کیا۔ میں ان دونوں کو اگلے اسٹیج پر ترقی دیتا ہوں۔ یہ کہہ کر ڈی آ ئی جی صاحب ایک طرف ہو گئے اور اناونسر نے دوبارہ اسپیکر پر آ کر اعلان شروع کیا، حمید سندھو صاحب اسٹیج پر آکر اپنا تمغہ وصول کریں۔ (حمید سندھو تالیوں کے شور میں پُر اعتماد قدموں کے ساتھ اسٹیج کی طرف بڑھتا ہے اور اپنا تمغہ وصول کرتا ہے۔ ڈی آئی جی صاحب اُس کے کاندھے پر بیجز بھی لگاتا ہے)
اب میرا نام پکارا جانا تھا جس کے تصور سے میرا جسم پسینے میں بھیگ گیا، ہاتھ پاؤں ٹھنڈے اور ٹانگوں میں لرزا طاری تھا۔ مجھے ڈر تھا، اُٹھتے ہوئے گر نہ پڑوں۔ میری ساری توجہ اپنے آپ کو قابو میں رکھنے پر تھی۔ ایک دفعہ خیال آیا، پیشاب کا بہانہ کر کے بھاگ جاؤں لیکن اب وقت بالکل نہیں تھا اور مجھے ہر حالت میں اسٹیج پر جا کر اپنا تمغہ وصول کرنا تھا۔ مگر تھوڑی دیر رُکیں، پہلے تمغے کا باعث بننے والے واقعے کا ذکر ہو جائے۔

میں بطور پولیس کمانڈو پچھلے تین سال سے اسی تھانے میں تھا۔ ہمیشہ سول وردی میں رہنے کی وجہ سے کم ہی لوگوں کو اس بات کا پتہ تھا کہ میں پولیس کا آدمی ہوں۔ شہر کے مشرق میں بیس کلو میٹر کے فاصلے پر دریا ہے اور یہ علاقہ ایسا ہے جہاں دریا جب اپنی جولانی پر آتا ہے تو دور تک پر پھیلا دیتا ہے جس کی وجہ سے ادھر اُدھر جنگلات سے بن چکے ہیں۔ یہ جنگلات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ باڈر قریب ہونے کی وجہ سے تمام علاقہ پاک رینجر کی حدود میں آ تا ہے اور وہ درخت کاٹنے کی اجازت نہیں دیتی۔ دریاکے آس پاس ہزاروں کی تعداد میں زمیندار ہیں اور سب نے غنڈے پال رکھے ہیں۔ یہ غنڈے پورے علاقے میں مجرمانہ کارروائیاں کرنے کے بعد ان زمینداروں کے پاس پناہ لیتے ہیں۔ کسی زمیندار کو اپنے مخالف سے نپٹنا ہوتو اپنے غنڈے کے ذریعے ہی دو دو ہاتھ کرتا ہے۔ گویا غنڈوں کو پناہ دینا علاقے کے زمینداروں کی بقا کا مسئلہ ہے۔ میں کم وبیش ان سب زمینداروں اور اُن کے متعلقہ غنڈوں سے واقف تھا لیکن مجھے اپنی مرضی سے کارروائی کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ویسے بھی میرا منصب محض ایک حوالدار کی حیثیت سے بڑوں کے کاموں میں دخل دینا یا تھانے کی پالیسی وضع کرنا نہیں تھا اور تھانے دار کو اُس کا مطلوبہ حصہ وقت پر پہنچ جاتا۔ چنانچہ پولیس اپنا اثر رسوخ عموماً شہری حدود میں برقرار رکھتی۔ گویا پولیس، زمینداروں اور غنڈوں کے درمیان یہ ایک خاموش معاہدہ تھا۔ البتہ گرجی مہر پچھلے دو سال سے اس معاہدے سے باہر ہو چکا تھا۔ وہ علاقے کے زمینداروں،غنڈوں،پولیس اور عوام، سب کے لیے خطرہ بن تھا۔ چنانچہ اُسے کوئی بھی پناہ دینے یا ہمدردی کے قابل نہ سمجھتا۔ میں نے اُسے پہلی دفعہ اڑھائی سال پہلے حاجی شمس خا ں کے ڈیرے پر دیکھا۔ اُس وقت وہ ایسا خطرناک نہیں تھا۔میں اپنے تھانیدار کے ساتھ وہاں کسی ملزم کے حوالے سے گیا تھا۔ کم وبیش ان علاقوں کے تمام تھانیداروں کا معمول ہے کہ وہ کسی قسم کی کارروائی کرنا چاہیں تو سیدھے اُن زمینداروں کے ہاں جاتے۔ اگر ملزم کو پولیس کے حوالے کرنا ناگزیر ہوتا تو وہ خود اُسے حوالے کر دیتے ورنہ ڈیرے پر ہی مک مکا کرا دیا جاتا۔ اُس دن سہ پہر کا وقت تھا اور موسم سخت روشنی کا تھا۔ حاجی شمس خاں وہاں موجود نہیں تھا۔ ڈیرے پر بہت سے لوگوں کے موجود ہونے کے باوجود مکمل سکوت طاری تھا۔ گرجی مہر ایک طرف سنجیدگی سے بیٹھا تھا۔ یہ ساڑھے پانچ فٹ قد میں بالکل کمزور سا شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی باریک سی مونچھیں، کاندھے اندر کو دھنسے ہوئے، چہرہ بے رونق لیکن گندمی اور بمشکل پچاس کلو وزن ہو گا۔ الغرض پہلی نظر دیکھنے سے کچھ بھی تا ثر نہیں بنتا تھا۔ حاجی شمس کا گاؤں جلال کوٹ کے نام سے معروف تھا جہاں اُس کی تین ہزار ایکڑ زمین تھی اور گرجی مہر کو اُسی کے ہاں پناہ بھی ملی ہوئی تھی۔ وہیں ساتھ والی چارپائی پر ایک پندرہ سولہ سال کا لڑکا پینٹ شرٹ پہنے، نہایت متفکر اندازمیں لیٹا آسمان کو گھور رہاتھا۔ مجھے خیال گزرا، لڑکا حاجی شمس خاں کا بھانجا یا بھتیجا ہے لیکن جیسا کہ پولیس والوں کی عادت ہے، تھانیدار نے اس پُر اسرار خموشی میں لڑکے کی موجودگی کی کُرید شروع کر دی اور بالآخر بات کھل گئی۔ لڑکا گرجی مہر کا واقف تھا اور لاہور سے لڑکی بھگا کر لایا تھا۔ لڑکے کی شکل انتہائی معصوم تھی۔ نرم رخساروں پرابھی سبزے کی آمد ہوئی تھی جسے دو چار دن پہلے ہی شیو کر کے صاف کیا گیا تھا کیونکہ سُرخ و سفید اور چکنے چہرے پر ہلکی ہلکی لویں دوبارہ نمودار ہو رہی تھیں جو اُس کے حسن کو مزید ابھار رہی تھیں۔ الغرض لڑکا خود بھی نرم و نازک، خوبصورت اور نسوانی حسن کے خدو خال رکھنے والا تھا۔ گرجی مہر سے خدا جانے اُس کا تعلق کیسے ہوا ؟ مجھے اس تمام صورت حال سے خوف سا آنے لگا اور میں لڑکے کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہو گیا لیکن میں نے خود کو قابو میں رکھا اور لڑکے سے توجہ ہٹا لی۔بہر حال دو گھنٹے بیٹھے رہنے کے باوجود حاجی شمس گھر سے باہر نہ آیا اور نوکر کے ہاتھ پیغام بھیج دیا کہ دو دن کے بعد آ جائیں تو معاملہ طے کر لیں گے یا مطلوبہ شخص کو تھانے حاضر کر دیا جائے گا۔ چنانچہ ہم واپس آ گئے لیکن دوسرے ہی دن ہمیں خبر ملی کہ گرجی مہر حاجی شمس کو قتل کر کے فرار ہو چکا ہے۔ واردات کی خبر ملتے ہی ہم پورے تھانے کی پولیس لے کر وہاں پہنچے۔ لاش اور موقع واردات کا ملاحظہ کیا تو معاملہ کھل کر سامنے آ گیا۔ ہوا یہ کہ حاجی شمس نے لڑکی پر قبضہ جما لیا تھا اور اُسے لڑکے کے حوالے کرنے سے ٹال مٹول سے کام لے رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُس نے گرجی مہر کی بھی نہ سنی اور لڑکی سے خود نکاح کرنے کا بندوبست کرنے لگا۔ اس صورت حال کے پیشِ نظر گرجی مہر نے لڑکے کو ساتھ لے کر حملہ کر دیا اور حاجی شمس سمیت تین بندوں کوقتل اور آٹھ لوگوں کو زخمی کرکے اور لڑکی کو لے کر فرار ہو گئے۔ لڑکا موٹر سائیکل چلانے کا ماہرتھا اس لیے کسی کے ہاتھ نہ آ سکے اورخدا جانے کہاں نکل گئے۔ اس واردات کے بعد اگرچہ پولیس نے اُن کو پکڑنے کی کئی مخلصانہ کارروائیاں کیں لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتے اور مزید کارروائیاں کرنے لگے اور کھل کھیلنے لگے۔ رفتہ رفتہ حوصلے اتنے بڑھے کہ بھرے مجمعوں میں اندھا دھند کارروائی کر جاتے۔ ان ڈکیتیوں میں کئی لوگوں کو قتل اور زخمی کیا۔ انہوں نے اپنا اپنا کام اس طرح سنبھالا کہ لڑکے نے موٹر سائیکل چلانے کا فریضہ ادا کرنا شروع کر دیا اور گرجی نے ڈکیتی اور قتل کرنے کا کام۔ اس طرح دو سال گزر گئے اور وہ قابو میں نہ آ سکے۔

اُس دن میں پورے ایک مہینے کے بعد گھر جا رہا تھا۔ مَیں چار دن کی چھٹی لے کر سیدھا ریلوے اسٹیش کی طرف چل دیا۔ ان علاقوں میں لوکل ریل چلتی ہے، جو رائیونڈ سے بڑی لائن سے الگ ہو کر قصور، چونیاں، منڈی ہیرا سنگھ، بصیرپور، حویلی لکھا، پاکپتن اور عارف والا سے ہوتی ہوئی وہاڑی اور پھر دوسرے چھوٹے چھوٹے شہروں سے گزر کر دوبارہ بڑی لائن پر چڑھ جاتی ہے۔ میرا گھر راجہ جنگ میں تھا جو رائیونڈ سے قصور جانے والے لائن پر ہے۔ ریل سے جانے کا ایک فائدہ تھا کہ یہاں سے بیٹھتا اور سیدھا گھر کے سامنے اُتر جاتا۔ یہ دن کے دو بجے کا وقت تھا اور ریل بھی آنے میں ایک گھنٹہ باقی تھا مگر میں یہ ایک گھنٹہ تھانے میں رہنے کی بجائے اسٹیشن ہی میں گزارنا چاہتا تھا۔ ابھی میں ریل کی پٹڑی پر چڑھا ہی تھا کہ گولیوں کی تڑتڑاہٹ کا خوفناک شور برپا ہوا اور ایک ہی دم ہنگامہ سا پھیل گیا۔ شور سن کر میں ایک دم اچھلا اور ادھر اُدھر دیکھنے لگا۔ آواز حاجی صداقت کی آڑھت کی طرف سے آئی تھی جو شہر کے اُس واحد ریلوے پھاٹک کے ساتھ تھی جس کا وجود عین شہر کی مرکزی سڑک پر تھا۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اُس وقت بالکل نہتا ہونے کی وجہ سے عملی کارروائی کرنے سے پرہیز کرنا ہی میرے لیے بہتر تھا۔ جب میں آڑھت کے پاس آیا تو دو لاشیں خون میں لت پت پڑی میرا منہ چڑا رہی تھیں۔ اس ڈکیتی میں نامراد نے کھلے بازار میں گولیوں کا ایسے مینہ برسایا کہ راہگیر چوتڑوں کے بل گر گر پڑے۔ کس کا کلیجہ تھا جو پیچھا کرتا۔ بازار کے اگلے ہی موڑ پر لطیف کپڑے والے کے منہ میں کلاشنکوف کی نال ڈال کر پورا تین کلو سیسہ غریب کے پیٹ میں داخل کر دیا اور پیسوں کا غٖلہ بیگ میں اُلٹ لیا۔ لوٹ سے فارغ ہو کر جیسے ہی یہ موٹر سائیکل پر بیٹھا لڑکے نے موٹر سائیکل ایسے اُڑایا، جیسے آنکھوں کے آگے سے چھلاوہ نکل گیا ہو۔ پل کی پل میں دونوں شہر بھر کو تلپٹ کر کے یہ جا وہ جا، ہوا کی طرح اُڑ گئے۔ مَیں یہ سارا معاملہ ریل کی پٹڑی کے دائیں جانب کھڑا دیکھتا رہا۔ یہ چھوٹا سا شہر تھا۔ پولیس کو وہاں پہنچنے میں وقت نہیں لگا۔ پل میں افراتفری مچ گئی اور پورا شہر واقعے کی جگہوں پر سمٹ گیا۔

میں چونکہ کافی دنوں بعد گھر جا رہا تھااور اس ڈر سے کہ چھٹی کینسل نہ ہو جائے، فوراً نظریں بچا کر وہاں سے کھسکا اور اسٹیشن پر آ گیا اور جب ریل آئی تو فوراً بھاگ کر چڑھ گیا۔ لیکن میرے گھر پہنچنے سے پہلے ہی واقعے کی اطلاع پہنچ گئی اور ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ آپ کی چھٹی کینسل ہے، فوراً واپس پہنچو۔ مجھے اس حکم پر تکلیف تو بہت ہوئی مگر حکم حاکم۔ دوسرے ہی دن شام چار بجے کی ریل سے واپس ڈیوٹی پر حاضر ہو گیا۔ پولیس اس نئی واردات سے ایسے حرکت میں آئی جیسے تلووں میں آگ لگی ہو۔ دوسری طرف گرجی مہر کے متعلق طرح طرح کی توہمات عوام میں مشہور ہونے لگیں۔ کسی کے مطابق وہ سب کچھ پولیس کی اشیر واد سے کر رہا تھا۔ کوئی اُسے انڈیا کی رینجر کا ایجنٹ قرار دینے لگا جو کارروائی کرنے کے بعد باڈر پار کر جاتا۔ اگرچہ ایسی کوئی بات نہیں تھی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اُس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا اور پولیس کے لیے ایک مستقل درد سر بن گیا۔ چنانچہ ایس ایس پی صاحب نے اعلان کروا دیے کہ مخبر کو دو لاکھ کا انعام ملے گا۔ ایگل فورس کے کئی دستے دو دو کی شکل میں ترتیب دے کر پورے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کر دی گئی۔ میری ڈیوٹی سب انسپیکڑ حمید سندھو کے ساتھ لگا دی گئی۔ حمید سندھوکو چھ سال پہلے ایلیٹ فورس میں بحیثیت کانسٹیبل شامل کیا گیا تھا۔ اس دوران اُس نے بیسیوں پولیس مقابلوں میں حصہ لیا اور درجنوں جرائم پیشہ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا۔ دو دفعہ خود بھی گولی کا نشانہ بنا لیکن موت سے بچ نکلا۔ چھ فٹ قد اور جسامت کی سختی نے اُس کے اندر طاقت کا ایک احساس پیدا کر دیا تھا جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس نے صرف چھ ہی سال میں سب انسپیکڑ کا عہدہ حاصل کر لیا۔ سندھو کا تعلق ساہیوال ڈویزن کی ایگل فورس سے تھا لیکن پچھلے دوسال سے اُس کی تعیناتی سرگودھا ڈویزن میں تھی۔ اب جب کہ گرجی مہر نے بصیر پور کے حالات اس قدر خراب کر دیے تو ایس ایس پی اوکاڑہ نے اُسے سرگودھا ضلع سے طلب کر لیا۔ سندھو کی اس روز افزوں ترقی پر نہ صرف مجھے بلکہ تمام سکواڈ کو پرلے درجے کا حسد اور کینہ تھا۔ لیکن ہم اپنی پچھلے دو سال کی ناکامی اور خجالت کو کہاں لے جاتے، جس نے ہمیں شدید طریقے سے نہ کہ عملی طور پر بلکہ ذہنی شکست سے بھی دو چار کیا۔ اس لیے ہم سندھو کی اس عزت افزائی پر سوائے کُڑھنے کے کچھ نہیں کر سکتے تھے اورخدا سے سچے دل سے دعا گو تھے کہ سندھو بھی کسی طرح ناکامی سے دوچار ہو۔ بہر حال ایس ایس پی چیمہ صاحب نے اُس کی تعیناتی بصیر پور میں فوری طور پر کر کے ضروری ہدایات جاری کر دیں اور میری ڈیوٹی اُس کے ساتھ لگا دی۔ عملی کاروائی کے لیے ہمیں جو علاقہ دیا گیا وہ بصیرپور سے لے کر سہاگ نہر، پھر وہاں سے دریا کو پار کر کے چک محمد پورہ سے ہوتے ہوئے باڈر تک چلا جاتا تھا۔ یہاں جنگلوں اور ویرانیوں کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ جہاں نہ آ سانی سے پولیس کی گاڑی جا سکتی ہے اور نہ دوسرے ذرائع ہی کام کرتے ہیں۔ اس لیے وہ پچھلے دو سال سے انہی علاقوں میں گھوم رہا تھا۔ میرا سابقہ ریکارڈ اس بات کا گواہ تھا کہ میں انتہائی متحمل مزاج اور سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کے ساتھ بہادر آدمی تھا۔ میرا خیال ہے، میرے بارے میں یہ بات اُس وقت بالکل صحیح ہے، جب میں اپنے سے کم درجے کے لوگوں کے ساتھ کام کر رہا ہوں جبکہ سندھو کے ساتھ کام کرنے سے میری حیثیت دب جانے کا پورا امکان تھا کیونکہ مَیں بہر حال اُس جیسا مضبوط اعصاب کا مالک نہیں تھا۔ ایس پی صاحب نے انفارمیشن آلات سے لے کر ہتھیاروں تک کا تمام ضروری سامان ایگل فورس کے دستوں کے حوالے کر کے گرجی کو پکڑنے کے لیے دو ماہ کا وقت مقرر کر دیا۔ بہر حال میں اور سندھو سول کپڑوں میں اپنے علاقے کی چھان بین اور غیر متوقع کارروائی کے لیے کام کرنے لگے۔

یہ پورا علاقہ چونکہ بیلے، جنگل، نہریں اور چراگاہوں پر مشتمل ہے، اس لیے یہاں گائیں اور بھینسوں کی اس قدر کثرت ہے۔ لہذا ہم نے بھینسوں کے بیوپاری کا بھیس بدل لیا اور نئی 125 ہنڈا موٹر سائیکل پر جگہ جگہ کھوج مارنی شروع کر دی اور گرجی کے متعلق ہر قسم کی سُن گن لینے لگے۔ لباس کے لحاظ سے ہم مکمل دیہاتی اور بیوپاری نظر آتے تھے۔ مَیلے صافے، لنگی اور کُرتے پہنے، شیویں بڑھی ہوئی، ہاتھوں میں ڈنگوریاں پکڑی اور پاؤں میں مقامی موچی کے ہاتھوں تیار چمڑے کے جوتے۔ یوں پورا ڈیڑھ مہینہ ہم نے اس کام میں صرف کیا۔ اس دوران آٹھ بھینسیں بھی خرید کر آگے بیچ دیں۔ اس کام میں ہمیں واقعی اتنا منافع بھی ہو گیا کہ ایک دفعہ سندھونے مجھ سے مذاق میں کہا،کیوں نہ نوکری چھوڑ کر یہی کام کر لیں۔ سچ یہ ہے کہ اس ڈیڑھ مہینے میں ہمارا منافع چار تنخواہوں کے برابر نکل آیا۔

بہر حال وقت سمٹتا گیا اور ہم غیر محسوس طریقے سے اُن کے نزدیک ہوتے گئے۔ ہمارے پاس جو نقشہ تھا اُس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ علاقہ امیرا تیجے کا سے آگے نہر کی جھال کو عبور کر کے دریا کے ساتھ ساتھ جنگلوں کا تھا جہاں نہ تو پو لیس کی گاڑی جا سکتی تھی اور نہ آدم نہ آدم زاد۔ یہ تمام جگہ پانچ کلو میٹر مربع میں مکمل غیر آباد اور بارڈر تک چلی گئی ہے۔ ہم نے تین چار جگہ یہاں اپنے مورچے بنا لیے اور مسلسل رات چھپتے رہے۔ چھوٹی گنیں، پسٹل اور خنجروں کے علاوہ لوہے کی نوکیلی اور بھاری سلاخیں بھی ہمارے پاس تھیں۔ ہمیں پتا چلا، گرجی کسی بھی جگہ دو راتیں مسلسل نہیں گزارتا۔ متواتر ٹھکانا تبدیل کرتا ہے لیکن مطلوبہ علاقے میں کسی بھی جگہ مہینے میں ایک آدھ رات ضرور ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ہم نے اسی خطے کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیا لیکن ہمارا اُس کا سامنا نہ ہو سکا۔ بات یہ تھی کہ وہ واردات کر نے کے بعد کم از کم دو تین مہینے روپوش ہو جاتا اور بالکل سامنے نہ آتا۔ لیکن ایک بات جو ہمارے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوئی، وہ یہ کہ اُسے ریڈیو پر بی بی سی کی خبریں سننے کا بہت شوق تھا اور لوگوں نے اُسے یہ کہتے سُنا، انشاء اللہ میرے قتل کی خبر بی بی سی پر چلے گی۔ لہذا ہم نے ایس ایس پی صاحب سے ریڈیو ریڈار سسٹم حاصل کر لیا اور ارد گرد کے پانچ کلو میٹر میں بی بی سی کی خبروں کے وقت ریڈیو کی لہریں کیچ کرنے لگے جس سے ہمیں اُس کی سمت اور فاصلے کا بھی پتا چلنے لگا۔ اس میں ہمارے ایک مخبر کا بہت زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم نے زبردستی مخبر بنا لیا کیونکہ پچھلے دو مہینے کی محنت کے بعد اس بات کا پکا یقین ہو گیا کہ یہ شخص گرجی کا مخبر ہے اور اُسے علاقے کی صورت حال کے بارے میں مطلع کرتا ہے۔ جب زمین صاف دیکھتا ہے تو نئی کاروائی کا سگنل دے دیتا ہے۔ اس سلسلے میں بصیر پور کا ایک پی سی او والا بھی ملوث تھا جہاں سے یہ شخص گرجی کو فون کرتا۔ ہم نے یہ سارا کام نہایت خفیہ رکھا حتیٰ کہ اپنے تھانے اور ایس ایس پی تک کو بھی بتانا مناسب نہ سمجھا۔ ہم نے ان دونوں کو اغوا کر لیا اور اگلی کارروائی شروع کر دی۔ اس معاملے میں اگرچہ میں ساتھ تھا لیکن مجھے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں کہ یہاں تک پہنچنے میں صرف اور صرف حمید سندھو کے دماغ کو دخل تھا لیکن اُس نے ہر قدم پر مجھے یہ باور کرایا کہ سب کچھ میری وجہ سے ٹھیک ہو رہا ہے اور میں اس کیس میں بہت اہم ثابت ہو رہا ہوں۔ میں تسلیم کرتا ہوں، یہ چیز اُس وقت میری ذات کو اور بھی پست کر رہی تھی اور میں لا شعوری طور پر اُس سے اتنا مرعوب ہو گیا کہ اُس کے کسی بھی حکم کی نافرمانی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ان دو مہینوں میں حمید سندھو نے میری ذات کو گویا ہپناٹائز کر دیا۔

یہ سردیوں کی ایک ٹھنڈی دوپہر تھی۔ دھند اتنی کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم نے موٹر سائیکل چک لکھا کے قبرستان ہی میں رکھ دی کہ اُس کی آواز قرب و جوار میں دور تک جاتی۔ سراج دین عرف سراجے نے ہمیں بتایا، گرجی صبح چار بجے شاہد کے ساتھ دُلے کی بھینی پر پہنچا ہے۔ وہ ساری رات سفر میں رہا ہے اس لیے ابھی تک سویا ہو ا ہے۔ اگر ہم پیدل نہر کے ساتھ ساتھ جائیں تو ہمیں مشکل سے وہاں پہنچنے میں بیس منٹ لگیں گے۔ چنانچہ ٹھیک دو بجے ہم گرجی کے سر پر پہنچ گئے۔ وہ عک کے پودوں کے درمیان ایک پُرانی کوٹھڑی میں تھا جسے کسی زمانے میں کھوئے کی بھٹھیاں چلانے والوں نے بنایا تھا لیکن چار پانچ سال پہلے جو سیلاب آیا اُس میں یہ جگہ دریا کی لپیٹ میں آنے سے بے آباد ہو گئی، تب سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی۔ بھٹھیاں تو بالکل ختم ہو گئیں لیکن یہ بے آباد کوٹھڑی پکی اینٹوں اور بلند جگہ پر ہونے کی وجہ سے بچ گئی تھی۔ اس کے ارد گرد کیکروں کے بے شمار درخت بھی تھے۔ کوٹھڑی کا دروازہ اندر سے بند ہونے کی وجہ سے ہم اُنہیں دیکھ تو نہ سکے البتہ اُن کے موٹر سائیکل کے ٹائروں کے نشان واضع دکھائی دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ سانس لینے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب ہمیں ہر طرح سے یقین ہو گیا کہ وہ دونوں موٹر سائیکل سمیت اندر ہیں تو ہم ایکشن کرنے کے لیے تیار ہو گئے۔ اب ہمارے سامنے دو ہی راستے تھے کہ باہر رُک کر اُن کا انتظار کیا جائے یا فوری حملہ کر دیا جائے۔ میری صلاح یہ تھی کہ پولیس کو اطلاع کر کے بلوا لیا جائے مگر سندھو نے اس بات کو سختی سے رد کر دیا اور فوری حملے کا پلان بنانے لگا۔ وہ موقعے کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ گرجی کا اس موسم سے فائدہ اُٹھا کر بھاگ نکلنے کا بہت اندیشہ تھا۔ دروازہ بہت حد تک بوسیدہ تھا اس لیے فیصلہ ہوا کہ زور کا دھکا دے کر اُسے گرا دیا جائے۔ سراجے کو ہم نے احتیاطاً ایک کیکر کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیا تاکہ وقت پر دھوکا نہ دے سکے اور چار قدم پیچھے ہٹ کر پوری طاقت سے اپنے آپ کو دروازے سے ٹکرا دیا۔ دروازہ ایک دھماکے سے اپنے تختوں سمیت اندر جا گرا۔ اس کے ساتھ ہی ہم نے فائر کھول دیے۔ گولیاں اتنی تیزی اور شدت سے چلائیں کہ گرجی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا البتہ دونوں کی چیخیں ایک دو منٹ ضرور بلند ہوئیں۔ بھرپور فائرنگ کے بعد ہم نے دس منٹ تک انتظار کیا۔ جب کوئی حیل حجت نہ ہوئی تو حمید سندھو ٹارچ جلا کر کمرے کا جائزہ لینے لگا۔ کمرے کا نقشہ ایک دم تلپٹ ہو چکا تھا۔ گرجی مہر چارپائی پر خون میں لت پت تھا جبکہ دوسری لاش دکھائی نہیں دی لیکن جیسے ہی دائیں طرف کے کونے میں لائٹ کی گئی تو ہمیں مٹی کی بنی ہوئی کُھرلی نظر آئی جو چھ فُٹ تک لمبی اور دو فٹ اونچی دیوار کے ساتھ بنی ہوئی تھی۔ وہاں شاہد خموشی سے زخمی حالت میں سُکڑا ہوا لیٹا تھا۔وہ اس قدر سہما اور ڈراتھا کہ مجھے اُس سے ایک دفعہ وحشت سی ہوئی۔ گولی اُس کے بائیں کاندھے پر لگی تھی جس سے خون رس رس کر کھرلی کی تہہ سے چپک رہا تھا۔ شاہد پر حمید کی نظر پڑی تو وہ ایک دم حیران رہا گیا۔ اس قدر خوبصورت لڑکا آج تک نظر سے نہیں گزرا تھا۔ اگرچہ وہ تکلیف سے کراہ رہا تھا اور چہرہ مسلسل سفید ہو رہا تھا لیکن اُس کی یہ حالت بھی اُس کی خوبصورتی میں کمی نہیں کر رہی تھی۔ سندھو کچھ لمحے اُسے دیکھتا رہا۔ پھر مَیں نے دیکھا، اچانک اُس کی آنکھوں میں ہوس تیرنے لگی۔ میں نے سندھوکی آنکھوں کی بدلتی کیفیت کو دیکھتے ہوئے فوراً کہا، سر اسے جلد یہاں سے اُٹھا کر ہاسپٹل پہنچانا چاہیے ورنہ لڑکا مر جائے گا لیکن اُس نے میری آواز کو گویا سُنا ہی نہیں اور مسلسل لڑکے کو جنسی بھیڑیے کی طرح گھورتا رہا۔ مجھے اس پورے منظر نامے سے ڈر لگنے لگا اور چاہتا تھا، کسی طرح سے لڑکے کو جلد یہاں سے نکال کر لے جاؤں۔ چند لمحوں کی شش و پنج کے بعد میں اُسے اُٹھانے کے لیے آگے بڑھا تو سندھو نے مجھے خوفناک طریقے سے دیکھا۔ مجھے محسوس ہوا، اگر میں نے ذرا بھی زحمت کی تو یہ مجھے فائر مار دے گا۔ بالکل اُسی لمحے اُس نے مجھے دھکا دے کر کوٹھڑی سے باہر کر دیا اور تھوڑی دیر بعد لڑکے کی کراہوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ مَیں وہاں سے کھسک کر سراجے کے پاس آگیا تاکہ آواز میرے کانوں میں نہ پڑے اور گومگو کی اس حالت میں رہا کہ واقعے کے انجام تک پہنچنے کی خبر کے ساتھ لڑکے کی بابت پولیس کو مطلع کر دوں لیکن اُس وقت بزدلی نے مجھ پر ایسا شدید غلبہ کیاکہ مَیں کچھ بھی نہ کر سکا اور خاموشی سے بیٹھ گیا لیکن کمرے سے لڑکے کی آواز مزید بلند ہوتی گئی جس میں قیامت کا کرب تھاگویا کانوں کے پردے پھاڑ کر دل میں ضربیں لگا رہی ہو۔ اس حالت میں مَیں دماغ میں طرح طرح کے منصوبے بنا کر رد کرنے لگا۔ حتیٰ کہ اس عمل کو بیس منٹ سے زیادہ ہو گئے۔ یہ حالت میرے لیے نحوست کو بڑھا دینے والی تھی اور کراہت پیدا کر دینے کے ساتھ ایک ایک لمحہ صدیوں پر بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ غصے اور کراہت نے مجھ پر ایسا اُکتا دینے والا جذبہ پیدا کیا، مجھے محسوس ہوا کہ میں ابھی مر جاؤں گا۔ جس سے بچنے کے لیے میں نے نہایت غیر اضطراری طور پر اپنی رائفل کی نال کیکر سے بندھے سراجے کی طرف کر کے فائر کھول دیا۔ اگرچہ وہ پل بھر میں ڈھیر ہو گیا لیکن میں نے بار بار اپنی میگزین گولیوں سے بھر کر اُس پر خالی کی۔ گویا میں اپنی فطری بُزدلی کا حساب چکا رہا تھا۔ اس عمل کے کچھ ہی دیر بعد جس میں مجھے لڑکے کی کراہیں سننی بند ہو گئیں، حمید سندھو باہر آیا تو میں بھاگ کر کوٹھڑی میں داخل ہو گیا۔ لڑکے کا جسم بالکل برہنہ اور قریباً زرد ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ ننگے جسم پر بے شمار نیل پڑ گئے۔ نبض کی رفتار تیزی سے سست ہو رہی تھی۔ مَیں نے جلدی سے اُس کا پاجامہ اوپر کر کے اُسے کاندھوں پر اُٹھا لیا لیکن اب سب کچھ فضول تھا۔ جسم سے خون اتنا بہہ چکا تھا کہ اُس کے بچنے کی امید صفر تھی۔ شاید اس بات کو حمید سندھو نے بھی محسوس کر لیاتھا اس لیے اب اُس نے مجھ سے مزاحمت کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
پولیس آئی تو ہر طرف سکون ہو چکا تھا۔ پولیس نے تینوں کی لاشیں وین میں رکھیں اور چل دی۔

میرے کان پولیس کے ترانوں سے گونجتے رہے اور میں آہستہ آہستہ قدم اُٹھاتا ہوا اسٹیج کی طرف بڑھتا گیا۔ حتیٰ کہ دو تین قدم چلنے کے بعد میری حالت میں اعتدال آ گیا۔ بالآخر مَیں نے بھی اپنا میڈل ترانوں اور نعروں کے شور میں وصول کر لیا۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Niqaat

Niqaat

Quarterly Niqaat is highly regarded in literary circles as a literary magazine. Qasim Yaqoom founded it in 2006 and it is being published regularly.


Related Articles

آخری سچ

رُکے ہوئےزمانوں کا ذکر ہے جب لوگ تجسس سے گریز کرتے تھے۔ آبادی سے دور جنگل کے خاتمے پر جوپہاڑ تھے ان میں سے کسی کی غار میں ایک گُرو اور اس کے فرمابردار شاگرد کا ٹھکانا تھا۔

دوحادثوں کے درمیان کی کہانی

کمرے کی ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جانے کے لیے چند سیکنڈ درکار ہوتے ہیں، مگر وہ ایسا برسوں سے نہیں کرپارہا تھا۔

ایٹوموسو

محمد جمیل اختر: وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔