تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو

تم جو آتے ہو
تو ترتیب الٹ جاتی ہے
دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے
نرم پوروں سے کوئی ہولے سے
دل کی دیوار گرا دیتا ہے
ایک کھڑکی کہیں کھل جاتی ہے
آنکھ اک جلوہ صد رنگ سے بھر جاتی ہے
کوئی آواز بلاتی ہے ہمیں

تم جو آتے ہو
تو اس حبس، دکھن کے گھر سے
رنج آئندہ و رفتہ کی تھکاوٹ سے
نکل لیتے ہیں
تم سے ملتے ہیں
تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں

Image: Henn Kim

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abrar Ahmed

Abrar Ahmed

Abrar Ahmad has been writing poetry since 1980. He has published two books of poetry till now, one of poems, 'Akhri Din Sey Pehlay' (1997), and other of ghazals, 'Ghaflat Kay Brabar' (2007). His poetry frequently takes up themes of existential angst, meaninglessness of life, disillusionment and displacement.


Related Articles

راز

وجیہہ وارثی: عشق کے بعد میرا بھی یہی حال ہے
تالا لگاتا ہوں تو لوگ مڑ مڑ کے دیکھتے ہیں
تالا کھلا رکھتا ہوں تو لوگ دل میں جھانکتے ہیں

فرات میں پھینکی ہوئی پیاس

سدرہ سحر عمران: ہم حسینؓ کے نام کی پرچیا ں
ان آ نکھوں میں ڈال آ ئیں گے
جن کی ویرانی سے زمین اندھی ہوتی جا رہی ہے

ہندسوں کے شہر میں

رباب علی: کبھی سوچتی ہوں
میں کچھ پہلے کے دور میں جی رہی ہوتی
جب ہاتھوں میں لکیریں ہوتی تھیں،
کیلکولیٹر نہیں
مگر ۔۔۔۔ مگر میں تو یہاں ہوں
ہندسوں کے شہر میں
کیلکولیٹرز جیسے لوگوں کے درمیا