تم مجھے پڑھ سکتے ہو

تم مجھے پڑھ سکتے ہو
زبان
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں

پھر بھی تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza is a poet, writer and translator with five books to his credit. He works as a TV journalist in Karachi. His first novel will be published next year.


Related Articles

میں ایک آنسو اکٹھا کر رہا ہوں

سید کاشف رضا: میری آنکھوں میں ایک آبشار کی دھند پھیل گئی ہے
میں اسے ایک آنسو میں جمع کر لوں گا

ماڈل اور آرٹسٹ

وجیہہ وارثی: آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو

وہ خوشبو بدن تھی

سوئپنل تیواری: تبھی سے تعاقب میں ہوں تتلیوں کے
کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی