تم مجھے پڑھ سکتے ہو

تم مجھے پڑھ سکتے ہو
زبان
غیر اعلانیہ
قید بامشقت کاٹ رہی ہے
کانوں نے
سنا ان سنا
آنکھوں نے
دیکھا ان دیکھا
کرنے کی عادت ڈال لی ہے
دل نے
ایک تیز چاقو
اپنے اندر دبا رکھا ہے
یہ دن
نظمیں لکھ لکھ کر
کسی کو نہ سنانے کے ہیں

پھر بھی تم
مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza

Syed Kashif Raza is a poet, writer and translator with five books to his credit. He works as a TV journalist in Karachi. His first novel will be published next year.


Related Articles

کچھ مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں

نصیر احمد ناصر:
موت کسی کے دل میں نہیں تھی
لیکن مارے گئے
جو بچ گئے
وہ کیمپوں میں
مرنے کے لیے زندہ چھوڑ دیے گئے ہیں
پتا نہیں انہیں کب، کہاں اور کیسے موت آئے گی

مرگ پیچ

نصیر احمد ناصر: مجھ کو اپنی موت کی دستک نے زندہ کر دیا ہے
دوڑتا پھرتا ہوں
سارے کام نپٹانے کی جلدی ہے

میں نے ایک گھر بنایا ہے

ابرار احمد: پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا