تم نہیں دیکھتے

تم نہیں دیکھتے

دلوں سے دہلیزوں اور
خوابوں سے تعبیروں تک کا سفر
طے کرتی ہیں آنکھیں
یا قسمت
یا پھر طے ہو جاتا ہے یہ سفر
محض اتفاق سے
اور ہر سفر کی اپنی منزل ہوتی ہے اور صعوبت
اور آدمی کے پاس ہوتی ہیں
صرف آنکھیں

آنکھیں دیکھتی ہیں
دور کے راستوں کو
اور رگوں کو بھر دیتی ہیں
موسموں اور منظروں کی آگ سے
اتار دیتی ہیں تھکن اور دیکھتی رہتی ہیں
رات دن ، چمکتے جگنوؤں کی طرح
تھوڑا زاد سفر باندھ دیتی ہیں
یاد داشت کی گٹھری میں --------
ہنستی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
کھلتے ہوے پھول ، بارش میں بھیگتے ہوے درخت اور آدمی
دریاؤں کے کنارے ، آبادیوں میں اترنے والی شام ،مسکراتی ہوئی دھوپ
اور مکتب سے نکلتے بچوں کی اجلی وردیاں ---------
روتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
ایڑی میں چبھ جانے والی کیل ، اڑتے ہوے بادل ،معدوم ہوتے ہوے ماہ و سال
ابدیت کے جنگل میں بھٹکتی ہوئی چاندنی
اور ہاتھوں سے گرتی ہوئی مٹی

آنکھیں نکل جاتی ہیں قدموں سے آگے
اور مکمل کر دیتی ہیں سفر
بھر جاتی ہیں اور دیکھتی رہتی ہیں
گزری ہوئی بستیاں ،اور ان میں ایستادہ گھر
اور دہلیز پر کھلا ہوا پھول
اور آغاز کی سر خوشی اور ملال کے سائے

آنکھیں دیکھتی رہتی ہیں
لیکن تم نہیں دیکھتے
پڑے رہتے ہو عقب کے اندھیروں میں، لمبی تان کر
اور نہیں جانتے
آنکھیں کیا کچھ دیکھ سکتی ہیں !!
Image: Duy Huynh

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Abrar Ahmed

Abrar Ahmed

Abrar Ahmad has been writing poetry since 1980. He has published two books of poetry till now, one of poems, 'Akhri Din Sey Pehlay' (1997), and other of ghazals, 'Ghaflat Kay Brabar' (2007). His poetry frequently takes up themes of existential angst, meaninglessness of life, disillusionment and displacement.


Related Articles

حمل بھری ماؤں کی خاطر رو دے

نور الہدیٰ شاہ: سرکار نے رونے پر پابندی لگا دی ہے
اور حکم نامہ جاری کر دیا ہے کہ رونے والے بچوں کو دریا بُرد کر دیا جائے

Political Fantasy of Lahore's Suburbs – A Poem

Political Fantasy of Lahore's Suburbs He was sitting outside his shop On Aadil Chowk Like an Aadil would Actually in

آپ کا نام پکارا گیا ہے

ستیہ پال آنند: دھند ہے چاروں طرف پھیلی ہوئی
میں بھی اس دھند کا کمبل اوڑھے
سر کو نیوڑھائے ہوئے بیٹھا ہوں