توہین رسالت کے قانون کی ان کہی داستان

توہین رسالت کے قانون کی ان کہی داستان

توہین رسالت و مذہب کے پاکستانی قوانین پر عرفات مظہر کا یہ مضمون انگریزی روزنامے ڈان میں شائع ہوا جسے ترجمہ کر کے لالٹین کے قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ مضمون توہین رسالت کے قوانین کا شکار ہونے والے ایک صاحب نے رضاکارانہ طور پر ترجمہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں موجود نقائص کی نشاندہی کرنے والی یہ آوازیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ہم عرفات مظہر کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس مضمون کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائی۔

اس سلسلے کا دوسرا مضمون پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

کچھ عرصہ قبل سابق گلوکار اور بڑے پیمانے پر سنے جانے والے مذہبی مبلغ جنید جمشید کی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر تیزی سے مشہور ہوئی۔ اس ویڈیو میں ان کی کچھ باتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی زوجہ عائشہ (رضی اللہ تعالیٰ عنہا) کی شان میں گستاخی کے مترادف لیا گیا۔

تا دم تحریر ان پر توہین رسالت کے قانون کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ قائم کیا جا چکا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق:
295-سی : حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی

یہ مذہبی رائے کہ'توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے' فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔
”جو شخص الفاظ کے ذریعے خواہ وہ زبان سے ادا کئے جائیں یا ضبطِ تحریر میں لائے گئے ہوں، یا دِکھائی دینے والی تمثیل کے ذریعے یا بلاواسطہ یا بالواسطہ تہمت یا طعن وتشنیع یا تحقیر کے ذریعے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقدس نام کی بے حرمتی کا مرتکب ہو، اسے موت یا عمرقید کی سزا دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہو گا۔"

یہ قانون جرم کا ارتکاب ثابت ہو جانے پر موت کی سزا تجویز کرتا ہے۔ عمر قید کی سزا 1991 میں مرکزی شرعی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد سے معطل ہے۔

جنید جمشید پہلے ہی اس واقعے پر عوام کے سامنے تائب ہو کر اپنے ایمان کی تجدید کر چکا ہے اور معافی کا طلب گار ہے لیکن جنید جمشید کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کا غالب مذہبی بیانیہ اس جرم کو ناقابل معافی سمجھتا ہے۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آپ گستاخی کے مرتکب قرار دیے جاتے ہیں تو آپ کو یقینی موت کا سامنا ہے۔

اس معاملے میں کسی چونکہ چناچہ کی گنجائش موجود نہیں۔ توہین مذہب و رسالت کے لیے لازمی سزائے موت پر تمام سنی مکاتب فکر کااجماع اس قانون اور اس کے نتیجے میں دی جانے والی سزا کا جواز ہے۔ اس علمی اجماع کی موجودگی میں مذہبی پیشواکسی اختلافی نقطہ نظر کے اظہار کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔

توہین رسالت کے لیے سزائے موت کی یہ عالمانہ اجماعی حمایت تواتر سے ہماری قومی منظر نامے کاحصہ بنتی رہی ہے۔ اس جرم میں موت کی سزا پر اجماع ا مت کا تذکرہ وفاقی شرعی عدالت کے 90 کی دہائی کے فیصلوں، پارلیمانی مباحث اور ذرائع ابلاغ میں اس تسلسل سے کیا جاتا رہا ہے کہ اب یہ پاکستان کے عوامی شعور میں جڑ پکڑ چکا ہے۔
پاکستان کی اکثریت کے نزدیک توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے، اس اکثریت کے نزدیک اس نقطہ نظر سے اختلاف کرنا بھی توہین کے زمرے میں آتا ہے جس کی تلافی ایسے فرد کو موت کی سزا دینے سے ہی ممکن ہے۔
جنید جمشید کی معافی نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ کیا ایک نادم، معافی کے طالب گستاخ کو، اس جرم میں معاف کیا جاسکتا ہے؟

تاہم ایسا پہلی بار نہیں کہ یہ سوال زیر غور آیا ہو۔

صدیوں پہلے حنفی فقہا جیسے، امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگرد ابو یوسف نے کتاب الخرج میں، امام تہاوی نے مختصر التہاوی میں، امام ابو بکر علی الدین کسانی نے بدائع الصنائع، تقی الدین السبکی نے السیف علی من سب الرسول میں اور دیگر حنفی ائمہ نے اس مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔

یہ تمام احباب اسی سوال تک پہنچے جس کا سامنا آج جنید جمشید کو ہے:
کیا توہیں رسالت ایک قابل معافی جرم ہے؟
تمام حنفی فقہاء کے نزدیک اس سوال کا جواب ایک غیر مشروط ہاں ہے (یعنی توہین مذہب اور توہین رسالت کا جرم قابل معافی ہے)۔

پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔
یہ مذہبی رائے کہ'توہین کے مرتکب ایسے افراد جو معافی کے طلبگار ہوں ان کی سزائے موت معاف کر دی جائے' فقہ حنفی کے بانی امام ابو حنیفہ پہلے ہی قائم کر چکے ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر میں امام ابو حنیفہ کی دلیل سے بڑھ کر استدلال ممکن نہیں، اور یہی مکتبہء فکر سپریم کورٹ، شرعی عدالتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل میں ہونے والی مذہبی و قانونی بحث میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ علاوہ ازیں امام ابو حنیفہ کے شاگرد اور پیروکار فقہاء کی ایک بڑی تعداد موجود رہی ہے جنہوں نے اپنے اپنے زمانے میں اپنی تصانیف میں جا بجا اسی موقف کا اعادہ کیا ہے۔ حنفی مکتبہ صدیوں سے فکر توہین رسالت کو غیر مشروط طور پر ایک قابل معافی جرم قرار دیتا آیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ حنفی اصول فقہ کے مطابق جس معاملے پر امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں کا اجماع ہو اس سے اختلاف ممکن نہیں۔ تقلید کا یہ اصول روایتی اسلامی فقہی فکر میں مرکزی حیثیت کا حامل ہے۔ 295 سی کے متن میں توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والے کے لیے معافی کی کوئی گنجائش مذکور نہیں۔ درحقیقت یہ مرکزی شرعی عدالت کی تشریح ہے جو اس قانون کے اطلاق کا ضابطہ کار طے کرتی ہے، اور اس معاملے میں عدالت معافی کو خارج از امکان قرار دیتی ہے۔

عجب ستم ظریفی ہے کہ عدالت عالیہ کے فیصلوں میں بھی انہی مذکورہ بالا فقہی ماخذات سے رجوع کیا گیا ہے (جو توہین کے جرم کو قابل معافی قرار دیتے ہیں) لیکن بوجوہ عدالت ایک مختلف بلکہ متضاد نتیجے پر پہنچی ہےکہ امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے مطابق توہین رسالت ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ ایسا کیوں کر ممکن ہوا؟ صدیوں سے مروج واضح مذہبی اصول کی اس قدر گمراہ کن تعبیر کس طرح ممکن ہوئی؟ ان سوالات کے جواب کی جستجو میں مجھ پر انکشاف ہوا کہ پندرہویں صدی کے حنفی عالم البزازی نے توہین رسالت کے قابل معافی ہونے سے متعلق امام ابو حنیفہ کے زمانے سے چلی آ رہی رائے غلط نقل کی تھی۔ اس ضمن میں یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ البزازی کوئی متبادل نقطہ نظر پیش نہیں کر رہے تھے، بلکہ حنفی موقف کو ہو بہو نقل کرنے کی کوشش میں سہواً غلط معانی نکال بیٹھے۔ مسلمہ حنفی نقطہء نظر سے ان کا اس قدر انحراف حیران کن امر ہے۔

امام ابن عابدین جنوبی ایشیاء کے معتبر ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ حنفی مکتبہ فکر کی یہ غلط تعبیر جب ان کی نظر سے گزری تو وہ اس پر ایک پجوش تنقید تحریر کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اپنی تنقید میں امام ابن عابدین نے ناصرف البزازی کی دو اہم کتابوں، 'الصاریم المسلول علی شاتم الرسول' [ابن تیمیہ] اور' الشفا' [قاضی عیاض] کی غلط تفہیم نشاندہی کی بلکہ توہین رسالت کے نا قابل معافی ہونے کے خیال کو 'مضحکہ خیز' قرار دے کر بیک جنبش قلم مسترد کر دیا۔

امام عابدین کی تصنیف رد المحتار علی الدر المختار کے ترجمہ شدہ خلاصے کا اقتباس

امام عابدین کی تصنیف رد المحتار علی الدر المختار کے ترجمہ شدہ خلاصے کا اقتباس


امام ابن عابدین کی تصنیف رد المختار  علی الدر المختار کا ایک عربی اقتباس

امام ابن عابدین کی تصنیف رد المختار علی الدر المختار کا ایک عربی اقتباس

امام ابن عابدین اسلامی فقہی روایت کی اہم ترین شخصیت اور پاکستان بھر کے دیوبندی مدارس میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والے عالم ہیں۔ آپ کی پیش بین نگاہ اور دانائی نے اس زمانے میں ہی یہ خطرہ بھانپ لیا تھا کہ اگر ان اختلافی آراء کو مسترد نہ کیا گیا تو یہ غیر ضروری افراتفری اور تباہی کا باعث بنیں گی۔ آپ نے علماء کو اپنی تحقیق کے دوران بنیادی ماخذات کا حوالہ دیتے ہوئے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔

توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کا ماخذ کیا ہے؟

جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔
بظاہر امام ابن عابدین کی یہ تلقین توہین رسالت کے پاکستانی قوانین کے معمارایڈووکیٹ اسماعیل قریشی تک نہیں پہنچی۔ توہین رسالت کے لیے ناقابل تنسیخ اور ناقابل معافی سزائے موت کے حق میں مقدمہ قائم کرتے ہوئے جن نمایاں حنفی علماء کی تصانیف کا حوالہ دیتے ہیں شومئی قسمت امام عابدین کا نام بھی ان میں شامل ہے۔ اسماعیل قریشی نے امام ابن عابدین کے موقف کو اسی طرح بالکل متضاد رنگ دے کر پیش کیا جیسے ان سے قبل البزازی نے امام ابو حنیفہ کی رائے کے ساتھ کیا تھا، گویا تاریخ نے خود کو ایک بار پھر دہرایا۔ گویا پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے قوانین میں دانستہ طور پر حنفی مکتہ فکر کے بانی امام ابوحنیفہ کے موقف کو مسخ کر کے شامل کیا گیا بلکہ توہین مذہب و رسالت کے معاملے میں مسلم اور غیر مسلم کی تفریق کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔

حنفی فقہاء کے ہاں توہین مذہب و رسالت کے معاملات میں مسلم اور غیر مسلم افراد کے لیے جداگانہ قوانین موجود ہیں لیکن پاکستانی قانون میں اس تفریق کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے توہین مذہب و رسالت کے پاکستانی قوانین میں تاریخی اور فقہی حوالہ جات کی دانستہ غلط نقل کے باعث کئی معصوم لوگ اپنی جان گنوا چکے ہیں۔ یہاں یہ ذہن میں رکھنا بھی ضروری ہے کہ امام ابو حنیفہ کی جانب سے توہین مذہب کی سزا اور اس پر معافی طلب کرنے پر سزا کی معافی کا معاملہ مسلم افراد کے لیے مخصوص ہے، توہین رسالت و مذہب کے قوانین کا اطلاق غیر مسلموں پر ان اصولوں کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا جو مسلمانوں کے لیے وضع کیے گئے ہیں، لیکن ظلم یہ ہے کہ پاکستانی قانون میں اس تفریق کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔

فتاویٰ شامی میں ایک مقام پر امام ابن عابدین، البزازی کے 'توہین رسالت کے لیے ناقابل معافی سزائے موت تجویز کرنے اور اس سے اختلاف کرنے والے کو بھی گستاخی کا مرتکب قرا دینے' کے دعوے کا تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں۔ امام ابن عابدین کی نقد چھ صفحات پر محیط ہے۔

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے متنازعہ دعوے کے فوراً بعد بلاتحقیق وہی باتیں امام ابن عابدین سے منسوب کر دیں جنہیں وہ شدومد سے رد کرتے آئے ہیں۔

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً ؎ البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا


ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً  البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا

ایڈووکیٹ اسماعیل قریشی نے سہواً البزازی کا نقطہ نظر امام ابن عابدین سے منسوب کر دیا

جب مجھے اس بارے میں علم ہوا تو میں نے قریشی صاحب سے رابطہ کیا اور ان کے دعوے سے متصادم بنیادی ماخذات انہیں دکھا ئے۔ قریشی صاحب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جس تحقیق کی بنیاد پر توہین رسالت کے پاکستانی قانون کی مروجہ تشریحات کی گئی ہیں، اس میں خامیاں موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس قانون کو اس کی موجودہ شکل میں ترتیب دینے کے تاریخی عمل کو غلطی پر غلطی کرنے کا ایک بدقسمت سلسلہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس قانون کی زد میں آنے والوں کے لیے اس مباحثے کی گونج محض 'بد قسمت' نہیں بلکہ بھیانک نتائج کی حامل ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ سرکردہ مذہبی قیادت میں سے کوئی بھی معتبر عالم دین اس تنازعے کو سلجھانے کے لیے پیش قدمی کو تیار نہیں؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ حقائق کی پردہ پوشی کُھلے مکالمے سے زیادہ سودمند راستہ معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ عمومی بحث سیکیولر نقطہ نظر کے ساتھ براہ راست تصادم جیسے بدترین نتیجے پر منتج ہو سکتی ہے۔

اس تمام افراتفری اور نیم حکیمی میں آسیہ بی بی اور جنید جمشید جیسے لوگوں کے لیے ابھی بھی امید کی کرن باقی ہے۔

جنید جمشید اور آسیہ بی بی جیسے افراد کو معافی دلانے کے لیے قانون کے متن میں تبدیلی قطعی ضروری نہیں، صرف اس کی عدالتی تشریح پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ اس امر کے لیے ایک گمراہ کن تحقیق کی بنیاد پر وفاقی شرعی عدالت کے دیے گئے غلط فیصلے کی تصیح ہی کافی ہے۔

حنفی مکتبہ فکر کے مطابق توہین رسالت کے قانون میں معافی کی گنجائش ہے اور امام ابن عابدین نے بھی اسی امر کی نشاندہی کی ہے۔

Related Articles

انسانی فلاح و بہبود میں کیوں ٹانگ اڑائیں؟

آپ مانیں یا نہ مانیں، آپ اور میں بوورژوازی بن گئے ہیں اور ہم نے غریب پرولتاریہ کو اپنی نظروں سے پرے بستیوں یہ گھیٹوز میں دھکیل دیا ہے۔

ایک اچھوت تحریر

وہ ہمیں گھر کرائے پر نہیں دیتے، بعض اوقات تو مجھے کچھ بیچنے سے بھی انکار کردیتے ہیں۔ وہ مجھے اپنی آبادیوں سے دھکیل دینا چاہتے ہیں کیوں کہ میرے عقیدے اور میری کتابوں میں "ملاوٹ "کر دی گئی ہے۔

پاکستان میں الحاد کے فروغ کی وجوہ

علی رضا: میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ یہ لوگ شاید کسی فلسفیانہ پس منظر سے تعلق رکھتے ہوں گے یا ایلیٹ کلاس سے جن کا مذہب سے ےتعلق بہت ہی ثانوی سا ہوتا ہے۔ لیکن میری توقعات کے برعکس اکثر ملحدین بہت ہی مذہبی گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔