تھارن ٹن کا لاہور

تھارن ٹن کا لاہور

لاہور ایک تاریخی شہر ہے، تاریخی شہر اس لحاظ سے کہ اس کی تاریخ کا سرا رامچندر جی کے بیٹے لوہ سے جا ملتا ہے اور اسی مضمون میں معلوم ہوتا ہے کہ یونانی تاریخوں میں الگ ناموں سے مگر اس شہر کے موجود ہونے کے آثار نظر آتے ہیں۔اس مضمون میں جسے ہم نے نقوش کے لاہور نمبر سے یہاں آپ کے مطالعے کے لیے انتخاب کیا ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ تھارن ٹن ، جس کا اصل نام ٹی ایچ تھارن ٹن تھا، ایک ایسا تاریخ داں ہے، جس کی اہمیت کو اس کے وقت اور بعد کے مورخین نے بھی لاہور شہر کے حوالے سے اہم اور مستند قرار دیا ہے۔نقوش کی فہرست میں اس کا نام گولڈنگ تھارن ٹن لکھا ہے اور مضمون میں جو صفحہ نمبر 976 پر موجود ہے، اس کا مکمل نام جے ایچ تھارن ٹن لکھا ہے۔ یہ دونوں نام غلط ہیں۔ تھارن ٹن کا اصل نام ٹی ایچ تھارن ٹن ہے، اس نے اٹھارہ سو ساٹھ میں جے لاک ووڈ کپلنگ (J. Lockwood Kipling) کے ہمراہ قدیم شہر لاہور کی تاریخ لکھی تھی، جس کو بعد میں کچھ اضافوں اور حواشی کے ساتھ کرنل ایچ آر گولڈنگ (Colonel H.R.Goulding) نے اٹھارہ سو چھیتر میں شائع کیا۔ تھارن ٹن اور کپلنگ کا کام ایک مخصوص طبقے کے لیے تھا اس لیے اس کام کی ذمہ داری، عوام کے لیے لکھی جانے والی تاریخ سے زیادہ بھاری تھی، کتاب کو بہت محنت سے تیار کیا گیا ہے اور محمد طفیل کی اس تلخیص میں وہ تمام اہم باتیں شامل کی گئی ہیں، جو کہ تھارن ٹن اور کپلنگ کی قدیم شہر لاہور کی مشترکہ طور پر لکھی ہوئی تاریخ کا نچوڑ کہی جاسکتی ہیں۔انہوں نے ٹھیک طور پر لکھا ہے کہ یہ کتاب بہت سی دوسری تواریخ سے زیادہ معتبر اور ان پر بھاری ہے ، وجہ اس کی یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسے سرکاری ریکارڈ کی خاطر لکھا گیا تھا۔ مضمون میں کچھ دلچسپ نکات ہیں، جن پر دھیان دینا ضروری ہے۔ لاہور قدیم وقتوں سے انتشار کا شکار شہر رہا ہے ۔ راجپوتوں کا بسایا ہوا یہ شہر ایک سے زائد جگہوں پر تھا۔ اس کی مٹی میں امن و آشتی سے محبت کا بڑا ثبوت داراشکوہ سے اس کی ہمدردی ہے، اس کی خوبصورتی کی مثال جہانگیر کی اس سے محبت ہے۔ ایک دلچسپ نکتہ اکبر کی بنائی ہوئی ان دو عمارتوں سے واضح ہوتا ہے، جن میں دھرم پور اور خیرپور کی عمارتوں میں، دھرم اور خیر کو ایک ہی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے اور ایک طرف ایک عمارت تین اقوام کے لیے تو دوسری صرف ہندو قوم کے لیے تعمیر کرائی گئی ہے، جس سے اس بات کے ثبوت ملتے ہیں کہ مغلوں کے زمانے میں بھی اس شہر میں ہندوئوں کی تعداد دوسری قوموں کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ رہی ہوگی۔افسوس ہے کہ آج اس شہر پر جو لوگ حملے کررہے ہیں وہ اس کی تاریخ سے ٹھیک طور پر واقف نہیں اور جو واقف ہیں، وہ اسے مسخ کرکے ، اس کی شناخت کو اس سے الگ کرنے کی کھینچ تان میں لگے ہوئے ہیں۔جبکہ لاہور جہاں ایک طرف امن، محبت، آرٹ اور تصوف کا گہوارہ رہا ہے تو وہیں اس میں حکومت وقت کی سازشوں کے خلاف ایک قسم کی بغاوت بھی پائی جاتی رہی ہے۔ نام تو خیر لوگوں کے بدل گئے، ہجرت اور تقسیم کی چاپ نے اس کے پانی کو بھی گدلا ضرور کیا ہوگا مگر اس کی رگوں میں آج بھی کہیں راجپوتانہ خون دوڑ رہا ہوگا جو ظلم و جبر اورحکومتوں کی بربریت کے خلاف ایک زبردست آواز بن کر کہیں کچھ گلیوں میں ضرور گونج رہا ہوگا۔
(تصنیف حیدر)

مسٹر ٹی ایچ تھارن ٹن (T.H.Thornton) نے اپنے مقالے کے تاریخی حصے میں شہر لاہور کی تاریخ بیان کی ہے۔ یہ مقالہ 1860 میں لکھا گیا۔ ابتدا میں انہوں نے اپنے ماخذ پر روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے بیان کیا ہے کہ اسلامی دور سے پہلے لاہور کے متعلق کوئی مبسوط جائزہ نہیں ملتا۔ البتہ ادھر ادھر بکھرے ہوئے اشارات ضرور پائے جاتے ہیں۔ مثلا راجپوتانہ اور کشمیر کے وقائع کے سلسلے میں لاہور کا ذکر بھی مل جاتا ہے۔ اسلامی زمانے میں شہر لاہور کی مسلسل تاریخ ہماری رہنمائی کرنے کے لیے موجود ہے۔ لیکن اس تاریخ کی نوعیت عمومی ہے۔ تاریخ فرشتہ نظام الدین احمد اور عبدالقادر کی تاریخوں میں یا تاریخ الفی یا اقبال نامہ جہانگیری میں اس شہر کے مخصوص حالات پر روشنی نہیں ڈالی گئی۔ عبدالحمید لاہوری کی تصنیف یا سفینتہ الاولیا یا دوسری کتابیں جو مسلمان بزرگوں کے مقبروں سے متعلق بہت سی دلچسپ معلومات کو نظر انداز کرتی ہیں اور غیر دلچسپ جزویات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ لاہور کے متعلق جو جو افسانے اور روایات عوام کی زبانوں پر ہیں وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے اتنی مبالغہ انگیز ہیں کہ نہ تو ان سے معلومات فراہم ہوتی ہیں اور نہ ان میں کوئی لطف ہی موجود ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی تاریخ سے بے پروا ہیں۔ ہندوئوں کی روایات لاہور کو شری رامچندر جی کے بیٹے لوہ سے منسلک کرتی ہیں۔ اس کے بعد ہندو راجائوں کے عہد میں لاہور کو جنگ اور شجاعت کی روایات میں اہم مقام حاصل رہا ہے۔ ان روایات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ لاہور کی بنیاد راجپوتوں نے ڈالی۔ لاہور راجپوت ریاستوں میں سے قدیم ترین ریاست کا دارالحکومت تھا۔ اور جب ساتویں صدی سے دسویں صدی عیسوی تک ہندوستان پر مسلمانوں کے حملے ہوئے تو لاہور ہندو طاقت کا گڑھ تھا۔

لاہور کا نام تاریخ میں مختلف طریقوں سے آیا ہے۔ موجودہ شہر لاہور کے علاوہ بھی لاہور نام کے شہر پرانے زمانے میں موجود تھے۔ ایک لاہور افغانستان میں بھی تھا۔ جہاں کسی زمانے میں راجپوتوں کی ایک نوآبادی تھی۔ دوسرا لاہور پشاور کے ضلع میں تھا۔ لوہار کے نام سے ایک شہر راجپوتانے کی ریاست میواڑ میں تھا۔ مسلمان مصنفین نے لاہور، لوہار، لہاور، لھاور، لوہانور، لہاوار کے نام سے لاہور کا ذکر کیا ہے۔ راجپوتانے کے وقائع میں لاہور کا نام لوہ کوٹ، لاوپور اور اس سے پہلے لوہاوار آیا ہے جو غالبا لاہور کا صحیح ترین نام بھی ہے۔ البیرونی نے بھی (جو محمود غزنوی کا معاصر اور مصاحب تھا اورہندوستان کے ادب میں مہارت رکھتا تھا) یہ نام استعمال کیا ہے۔ لوہاوار سے مطلب قلعہ لوہ ہے اور لوہ کوٹ سے بھی یہی مراد ہے۔

لاہور کی بنیاد کب پڑی۔ یہ کہنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن یہ یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کے اختتام سے پہلے لاہور ایک بڑی ریاست کا دارالحکومت تھا۔ اسی طرح یہ دعویٰ بھی کیا جاسکتا ہے کہ اگر پہلی صدی عیسوی میں لاہور موجود تھا۔ تو کم از کم اس کی کوئی خاص اہمیت نہ تھی۔

لاہور نام کا کوئی شہر یونانی مورخین کے علم میں نہ تھا اور نہ سکندر اعظم کے حملے کے سلسلے میں اس شہر کا کہیں نام آتا ہے۔ برنیز (Burnes) نے سانگلہ اور ایرین (Arrian) نے کتھوئی یا کیتھری کے نام کے دو شہروں کا تذکرہ کیا ہے جو راوی کے کنارے اسی جگہ آباد تھے جہاں اب لاہور واقع ہے تاہم اس میں شک نہیں کیا جاسکتا کہ سکندر اعظم نے راوی کو لاہور کے قریب سے پار کیا ہوگا۔ اور وہ وہیں سے گزرا ہو گا۔ جہاں اب لاہور جدید آباد ہے۔ قاہرہ کے رہنے والے یونانی الاصل جغرافیہ نویس تال می (Ptolemy) نے جو 1500 میں زندہ تھا۔ ایک شہر کا ذکر کیا ہے جو لابوکلہ (Labokla) کے نام سے مشہور تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شہر لاہور سے پچیس میل کے فاصلے پر آباد ہو گا۔ اس لحاظ سے اسے لاہور قدیم کہا جاسکتا ہے۔

تھارن ٹن نے اسلامی دورمیں لاہور کی تاریخ بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے۔ غزنویہ خاندان کا لاہور سے تعلق یوں ظاہر ہوتا ہے کہ مسعود ثانی نے 1098 سے 1114 تک لاہور کو اپنا پائے تخت بنایا۔ غوریوں اور خاندان غلاماں کے دور میں لاہور حکومت کے خلاف سازشوں کا مرکز تھا۔ 1241 میں چنگیز خاں کی افواج نے لاہور کو فتح کیا اور خوب تاخت و تاراج کیا۔ 1286 میں شہزادہ محمد جو سلطان غیاث الدین بلبن کا بیٹا تھا۔ منگولوں سے لڑتا ہوا مارا گیا۔ اور راوی کے کنارے امیر خسرو کو منگولوں نے گرفتار کرلیا۔ خلجی اور تغلق خاندان کے زمانے میں لاہور کی کوئی سیاسی اہمیت نہ تھی۔ البتہ گکھڑوں نے اس کو لوٹا اور مغل یہاں آباد ہوگئے۔ چنانچہ مغلوں کی آبادی اب تک مغلپورہ کے نام سے موجود ہے۔ 1293 میں تیمور نے لاہور کو فتح کیا۔ لیکن لوٹ مار نہ کی۔ غالبا یہ شہر متمول نہ تھا۔ اس کے بعد لاہور کبھی شاہان دہلی کے تسلط میں آجاتا تھا اور کبھی گکھڑوں کے ہاتھ میں چلا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اس پر لودھیوں کا قبضہ ہوا۔

اس کے بعد مغل دور حکومت شروع ہوتا ہے۔ 1524 میں بابر نے لاہور کو فتح کیا۔ اگلے سال بابر نے دوبارہ فوج کشی کی۔ ہمایوں، اکبر، جہانگیر اور اورنگ زیب کا دور لاہور کی تاریخ کا سنہری دور ہے۔ یہ شہر شاہان وقت کی اقامت گاہ رہا۔ یہاں باغ لگائے گئے اور مقبرے اور مسجدیں تعمیر ہوئیں۔ آبادی بڑھی اور ابوالفضل کے الفاظ میں 'یہ شہر تمام قوموں کی آماجگاہ بن گیا۔'آج بھی اس شہر میں مغل عمارات ادھر ادھر بکھری ہوئی ہیں۔ ہمایوں نے یہ شہر اپنے بھائی کامران کے حوالے کردیا۔ شیر شاہ سوری اور ہمایوں کی طویل جنگ کے دوران لاہور مغلوں کا قلعہ تھا۔جلا وطنی کے بعد ہمایوں جب ایران سے ہندوستان میں واپس آیا تو اس نے 1554 میں جشن منایا۔ ہمایوں کے مرنے پر یہ شہر اکبر کے بھائی مرزا حکیم کے قبضے میں آیا۔ جو 1563 میں لاہور کا گورنر تھا۔ 1584 سے 1598 تک لاہور اکبر کا دارالحکومت رہا۔ اکبر نے شہر سے باہر دو عمارات بنوائیں۔ ایک کا نام خیر پور تھا جو یہودیوں ، آتش پرستوں اور مسلمانوں کے واسطے تعمیر ہوئی۔ اور دوسری عمارت کا نام دھرم پورہ تھا۔ جو ہندوئوں کے لیے وقف تھی۔ ہفتے وار جلسے ہوتے تھے۔جس میں بیربل،فیضی، ابوالفضل اور دوسرے آزاد خیال علما و فضلا حصہ لیتے تھے۔ خیر پور کا ایک حصہ اب بھی امتداد زمانہ سے بچ رہا ہے۔ جودارا نگر کے قریب میاں میر والی سڑک کے بائیں جانب موجود ہے۔ جہانگیر کو یہ شہر بہت عزیز تھا۔ جب جہانگیر تخت نشیں ہوا تو شہزادہ خسرو نے اس سے بغاوت کی اور لاہور پر قابض ہوگیا۔ جہانگیر کے حکم سے خسرو کے خلاف فوج کشی کی گئی۔ شہر لاہور سے سات سو قیدی باہر لائے گئے اور ان کو قلعہ میں بند کیا گیا۔ جہانگیر کو یہ شہر اتنا عزیز تھا کہ اس نے آرزو کی کہ وہ مرنے کے بعد بھی یہیں دفن کیا جائے۔ چنانچہ شاہدرہ میں جہانگیر کا پر عظمت مقبرہ آج بھی موجود ہے اور نور جہاں بیگم کی بارہ دری جو اس کی آخری آرامگاہ ہے وہ بھی یہیں واقع ہے۔

شاہجہاں کے دور میں لاہور میں امن و امان رہا۔ اورنگ زیب کے بر سر حکومت آنے پر لاہور میں داراشکوہ کی ہمدردی کی ایک لہر پیدا ہوئی۔داراشکوہ لاہور میں رہتا تھا اور اہل لاہور میں بے حد مقبول تھا۔ داراشکوہ مشہور بزرگ میاں میر کا مرید تھا۔ اورنگ زیب نے داراشکوہ کی جائداد ضبط کرکے اس کی دولت سے بادشاہی مسجد بنائی۔ دور مغلیہ کے انحطاط اور سکھوں کے عروج، نادر شاہ واحمد شاہ ابدالی، شاہ زماں کے حملوں کے دوران میں لاہور پر جو کچھ بیتی مصنف نے اس کا حال مفصل بیان کیا ہے۔

تھارن ٹن کے مقالے کا دوسرا حصہ بیانیہ ہے۔مصنف نے سب سے پہلے لاہور کے رقبے پر نظر ڈالی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لاہور کا رقبہ اس سے بہت بڑا ہے۔جتنا آج شہر لاہور گھیرے ہوئے ہے۔ بعض مصنفین کا خیال ہے کہ لاہور کے مختلف حصے تاریخ کے مختلف ادوار میں اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ لیکن یہ وسیع رقبہ کسی ایک وقت میں پورے کا پورا آبادی سے معمور نہیں رہا ہے۔ تاہم یہ ظاہر ہے کہ لاہور کا رقبہ پہلے چھتیس قطعوں پر مشتمل تھا۔ان کو گرز بھی کہتے تھے۔جس میں سے جدید شہر لاہور میں صرف نو قطعے شامل ہیں۔گویا یہ شہر سکڑ گیا ہے۔ بعض مصنفین کا خیال ہے کہ شہر لاہور اپنے موجودہ رقبے سے کبھی نہیں بڑھا۔ چنانچہ کھدائی کی جائے تو مقبروں اور باغ کی دیواروں کے نشان پائے جاتے ہیں جو اس بات کی روشن دلیل ہیں کہ پرانا لاہور بھی اسی رقبے کے اندر آباد تھا۔ غالبا یہ شہر بہت گنجان تھا۔ امرتسر کی طرف جانے والی سڑک پر سیدھے ہاتھ کی جانب ایک ٹوٹی ہوئی مسجد ہے جو عید گاہ کہلاتی ہے۔ چنانچہ یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ مسجد پرانے لاہور کے درمیان کہیں واقع ہوگی۔ اگرچہ یہ موجودہ لاہور سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اکبر کے زمانے کے ایک مصنف نے لاہور کے ایک قطعہ کے متعلق بیان کیا ہے کہ وہ لاہور کا سب سے آباد حصہ ہے۔ لیکن یہ قطعہ اب ویران ہے اور موجودہ شہر سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ چنانچہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ شاہجہاں کے دور میں جب یہ شہر اپنے عروج پر تھا۔ اس کا رقبہ سولہ سترہ میل ہوگا۔ قدیم لاہور کا وہ حصہ جو شہر پناہ کے باہر واقع ہے کسی زمانے میں بڑا گنجان آباد تھا۔ جس میں لمبے لمبے بازار تھے۔ جو شہر پناہ کے دروازے تک پہنچے ہوئے تھے۔ شہر پناہ کے اندر اور باہر بسنے والی آبادی کے درمیان مقبرے ، باغات اور مسجدیں تھیں ۔ موتی محل کے آس پاس جو قدیم لاہور میں واقع ہے۔ اب بھی سونے چاندی کے سکے اور جواہرات تیز بارش کے بعد نکل آتے ہیں۔ لاہور کی عظمت کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ خصوصا اس لیے کہ بہت کم ایسے شہر ہونگے جو لوٹ مار، بد نظمی کا اس قدر شکار رہے ہوں۔ جتنا لاہور انگریزی عملدار ی سے پیش تر ایک سو بیس برس تک رہا۔ آٹھ مرتبہ احمد شاہ درانی کی فوجیں لوٹ مار کرتی ہوئی یہاں سے گزریں۔ مرہٹوں اور سکھوں نے اس کی تباہی میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی، کچی اینٹوں کی بنی ہوئی عمارات خاص طور پر زیر زمین ہوگئیں۔ اس لیے کہ موسم کا مقابلہ کرنا اس قسم کی عمارات کے لیے مشکل تھا۔ ہندوئوں سے لے کر پٹھانوں تک کے زمانے تک اس شہر میں قابل ذکر عمارات تعمیر نہیں ہوئیں۔ صرف مغل دور میں اس قسم کی اہم عمارات بنائی گئیں۔ یہ عمارتیں مغل فن تعمیر اور کاریگری کا نمونہ ہیں۔

تھارن ٹن نے صناعوں اور کاریگروں کی بے حد تعریف کی ہے۔ ان کی کاریگری کے نمونوں کو بے حد سراہا ہے کہ انہوں نے رقبہ کی حد بندی میں کمال دکھایا ہے۔ ترشے ہوئے پتھر کے پائے اور ان میں تزئین و آرائش کا استعمال۔ ستونوں کے اندر نکیلی کمانیں۔ کمانوں کی شکموں پر مخصوص و دلچسپ تزئین، سنگ مرمر پر عقیق و فیروزہ اور دوسرے قیمتی پتھروں کے ٹکڑے جمانے کا کام مورچہ بند منڈیریں، طشتری نما گنبد، اندرونی گنبدوں میں بیل بوٹوں اور کتبوں کے شاہکار۔ سنگ مرمر کی کھودی ہوئی جالیوں کی بہار،پتھروں پر منبت کاری، نگارخانوں میں نقش و نگار، محلات کے اندر سقفی حصوں پر رنگین شیشوں کا حیرت انگیز کام اس دور کی سنگی تعمیر کاری کی ناقابل فراموش یادگاریں ہیں۔

مصنف نے مغل عمارات کے علاوہ اس دور میں جو صنعت و حرفت میں ترقیاں ہوئیں اس کا بھی حال لکھا ہے کہ لاہور کس طرح مشرق کی اہم ترین منڈی بن گیا۔ پھر اس کے بعد سکھوں کی حکومت میں لاہور کی عمارات کس طرح تباہ ہوئیں۔ ان حالات کے علاوہ آخر میں مغل اور سکھ فن تعمیر پر بھی اظہار خیال کیا ہے اور لاہور میں مغل اور سکھ عمارتوں کے جو نمونے پائے جاتے ہیں ان سے فن تعمیر کے متعلق اہم نتائج بھی اخذ کیے گئے ہیں۔ تھارن ٹن کی یہ کتاب Lahoreاس دور کی اہم ترین کتاب ہے جو لاہور کی قدیم تاریخ پر ایک انمٹ کارنامہ ہے بلکہ یہ مختصر تاریخ لاہور کے دوسرے مورخین کی ضخیم تاریخی کتابوں پر بھی بھاری ہے۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نیلی فلموں کی تاریخ اور سیاسی معیشت

وی سی آر کی آمد کے بعد پورن فلمز کا سائز نہ صرف چھوٹا ہو گیا بلکہ ان کی ایک ملک سے دوسرے ملک ترسیل اور بھی آسان ہو گئی۔

دفاعِ پاکستان اور مذہبی اقلیتیں

پاکستان کی تاریخ کے اولین دنوں سے اب تک مذہبی اقلیتیں ہماری قومی زندگی کا ایک اہم حصہ رہی ہیں۔ تعلیم، علوم و فنون اور سماجی خدمات سے لے کر دفاعِ وطن تک کے فریضے میں غیرمسلم پاکستانی اپنی عددی کم تری کے باوجود کارکردگی

پہلا معرکہ

تین روز تک ان قبائلی لشکریوں نے بارہ مولہ میں تباہی، جنسی درندگی اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔