تیری بیلیں تیرے پھول

تیری بیلیں تیرے پھول
تیری بیلیں تیرے پھول
اک چرواہے نے کاٹے ہیں تیری بیلیں تیرے پھول
تُو نے بڑھ کر چوم لی اس کے قدموں کی دھول
لمبے دنوں کی پگڈنڈی پر چرواہے کی جھول
پور پور میں اس کے چبھی ہے بانک پنے کی سُول
سُول قبیلے والے اُس کے کیکر اور ببُول

دُھول گگن کا رہنے والا، گلے میں غم کا ہار
دھوپ کے سائے میں بُنتا ہے دن کے روشن تار
شام تھکے تو آ جاتا ہے پورب دیس کے پار

روغنی چاند کی فصلوں پر چرواہے کی آنکھیں
اور آنکھوں کی زرد شفق میں یاقوتوں کے ڈورے
کون پچھانے چرواہے کی سانس میں چلتی آگ
آگ کی لپکیں رات سمے میں صندل تن کے بھاگ
اُس پر قاتل چرواہے کی بانسریا کے راگ
جاگ نصیبوں ماری سُندری، میٹھی رُت میں جاگ
سورج تیرے شیشہ بدن پر بیٹھا بن کے ناگ

Image: M. F. Hussain

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

زمین بانجھ پن کے درخت کیوں نہیں اگاتی

پچھلے برس
آدھے آ دھے گز کے سایوں نے
سرخ پا نی سے بلبلے بنائے تھے
تو آسمان کی آٹھویں لکیر سے عقاب نکلا
اور ۔۔۔پورا جنگل خالی ہو گیا

تنہائی ایک ملاقات سے شروع ہوتی ہے

نصیر احمد ناصر: تنہائی کے اعداد و شمار میں فرق نہیں پڑتا
یہ گنتی میں ستاروں کی طرح بے حساب
رقبے میں آسمان جیسی بے کنار
اور حجم میں کائنات سے بڑی ہے
تنہائی کا ٹھور ٹھکانہ بتانا مشکل ہے !

گناہ گار شاعر کی بے گناہ نظمیں

حفیظ تبسم: کل میری دو نظمیں بازار گئیں
(جو جڑواں بہنیں تھیں)
مگر واپس نہیں لوٹیں