جبری گمشدگیوں کے اشتہار

جبری گمشدگیوں کے اشتہار


جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
اخبار صرف اُن لوگوں کی
گمشدگی کے اشتہار چھاپتا ہے
جو ذہنی عدم توازن کا شکار ہوں
یا ان بوڑھوں کا جو دیکھ سن نہیں سکتے
کسی روز راستہ بھول بیٹھتے ہیں
ان کی خبر
یا ان کو گھر پہنچانے والے کو
انعام سے نوازے جانے کے اعلانات
بار بار دہرائے جاتے ہیں
جبری گمشدہ افراد اس میرٹ پر
پورا نہیں اترتے
یہ میرے وطن کے کڑیل جوان
ذہن کو استعمال کر کے
دیکھنا، سننا، سوچنا، سمجھنا
سوال کرنا سیکھتے ہیں
جواب کے رستے کو تلاشتے ہیں
کہ اسی کھوج کے جرم میں
اٹھائے جاتے ہیں

اخبار ان کا اشتہار
شائع کرنے سے قاصر ہے!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

خدا ہم سے ملنا چاہتا تھا

جس دن خودکشی کرنے والوں کا دن منایا گیا
ہم نے دنیا بھر کی گھڑیوں سے
دو، دو منٹ نکال دیے

Escape

Forbidden was the proliferation
Slow and agonizing will be detoxification
Stop beach-combing to find
when it was the last you smiled
Greet the waiting astral diplomats
to accompany you on your voyage

ایک خالی کمرے میں معرکہ

جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں