جبری گمشدگیوں کے اشتہار

جبری گمشدگیوں کے اشتہار


جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
اخبار صرف اُن لوگوں کی
گمشدگی کے اشتہار چھاپتا ہے
جو ذہنی عدم توازن کا شکار ہوں
یا ان بوڑھوں کا جو دیکھ سن نہیں سکتے
کسی روز راستہ بھول بیٹھتے ہیں
ان کی خبر
یا ان کو گھر پہنچانے والے کو
انعام سے نوازے جانے کے اعلانات
بار بار دہرائے جاتے ہیں
جبری گمشدہ افراد اس میرٹ پر
پورا نہیں اترتے
یہ میرے وطن کے کڑیل جوان
ذہن کو استعمال کر کے
دیکھنا، سننا، سوچنا، سمجھنا
سوال کرنا سیکھتے ہیں
جواب کے رستے کو تلاشتے ہیں
کہ اسی کھوج کے جرم میں
اٹھائے جاتے ہیں

اخبار ان کا اشتہار
شائع کرنے سے قاصر ہے!


Related Articles

غلامی کی نماز

وقاص عالم: سیاست سے لے کر معاشرت تک تمام شعبہ ہائے زبدگی زوال پذیر ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود ہم محض "اللہ ہو" کے ورد اور "اللہ اکبر" کے نعروں پر اکتفا کیے ہوئے ہیں۔

پاکستان کے مداری

مصطفی کمال جاوید چودھری پاکستان کے اردو صحافتی حلقوں میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والا صحافی ہیں۔ فیس بک

نیند پری کی موت

علی محمد فرشی: ننھے نور بھرے ہاتھوں سے
کالی پالش کی ڈبیا گر پڑتی ہے
اور گلوب کی صورت گھومنے لگتی ہے