جبری گمشدگیوں کے اشتہار

جبری گمشدگیوں کے اشتہار


جبری گمشدگیوں کے اشتہار
کسی اخبار میں جگہ نہیں پاتے
نہ کسی خبر کے طور پر لگائے جاتے ہیں
اخبار صرف اُن لوگوں کی
گمشدگی کے اشتہار چھاپتا ہے
جو ذہنی عدم توازن کا شکار ہوں
یا ان بوڑھوں کا جو دیکھ سن نہیں سکتے
کسی روز راستہ بھول بیٹھتے ہیں
ان کی خبر
یا ان کو گھر پہنچانے والے کو
انعام سے نوازے جانے کے اعلانات
بار بار دہرائے جاتے ہیں
جبری گمشدہ افراد اس میرٹ پر
پورا نہیں اترتے
یہ میرے وطن کے کڑیل جوان
ذہن کو استعمال کر کے
دیکھنا، سننا، سوچنا، سمجھنا
سوال کرنا سیکھتے ہیں
جواب کے رستے کو تلاشتے ہیں
کہ اسی کھوج کے جرم میں
اٹھائے جاتے ہیں

اخبار ان کا اشتہار
شائع کرنے سے قاصر ہے!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

آسمان کی چھوٹی سی خواہش

انور سین رائے: کچھ نہیں بس اتنا چاہتا ہوں
کچھ دیر کے لیے سمٹ جاؤں
کچھ دیر کے لیے
پاؤں پسار کر آنکھیں موند لوں
اور اس سے پہلے دیکھوں
کیسا لگتا ہے سب کچھ
میرے بغیر

الفاظ سے آگے

جلیل عالی: میں ان پہاڑوں، چٹانوں، ہواؤں،
ندی نالوں،چشموں، گھٹائوں،
پرندوں، چرندوں،
گھنے جنگلوں ہی کا حصہ ہوں
قرنوں کا قصہ ہوں

جنت اور جہنم کے درمیان کی لکیر

ثروت زہرا: رتھ فاؤ
تمہیں تو ڈراونی شکلوں سے خوف نہیں آتا
مگر مجھے ان کے تحلیل شدہ،
جھڑتے ہوئے متعصب نظریوں کے فضا میں پھیلنے سے
خوف آ رہا ہے