جبر کی دنیا

جبر کی دنیا
جبر کی دنیا
زندگی کا ہیولہ سرچ ٹاور پر گھومتے سورج کی طرح
سیاہ پٹی سے ڈھکی آنکھوں کے سامنے
رات جیسے دن میں کئی بار گزرتا ہے
دن کو کرۂ ارض پر بچھی سرد ٹائلیں تلووں سے گننے میں صرف ہوتا ہے
کرۂ ارض جس کا شمالی قطب اس کے جنوبی قطب سے نو قدم دور ہے
رزق کا دروازہ مجھے کل تک زندہ رکھنے کے لیے دن میں تین بار کھولا جاتا ہے
میں من و سلویٰ کی چھلکتی پلیٹ ہتھکڑی لگے ہاتھ سے سنبھالنے میں مہارت حاصل کر چکا ہوں
مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ شہادت کی انگلی گلے پر پھیری جائے تو پسینہ پیشانی سے پھوٹتا ہے
پیشاب کی بوتل جس نل کے نیچے خالی کی جاتی ہے اس سے پینے کا پانی بھرنا مشکل ہوتا
اگر گالیوں اور کراہوں کے بیچ کی خاموشی پر مجھے موت کا گمان نہ ہوتا
انگلیوں کی پوریں دیوار پر کھدے وہ سب نام یاد کر چکی ہیں
جنھوں نے جبر کی دنیا مجھ سے پہلے دریافت کی
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Salman Haider

Salman Haider

The author is working as Urdu Editor at Tanqeed. He is a visiting Scholar at University of Texas at Auston and a Blog Writer at Dawn Urdu. He has a profound interest in theater, drama and culture.


Related Articles

کوئی ہونا چاہیے

حسین عابد: اور آن پہنچیں جب ہم
تاریک سرنگ کے آخر پر
وقت کے ایک نئے قطعے پر
چندھیائے ہوئے، ہکا بکا
کوئی ہونا چاہیے جو پکار اٹھے
"یہ روشنی ہے"

میں خود سے مایوس ہوں

صدف فاطمہ: تم وہ ہر حسین منظر تھے
جس سے کائنات میں دیدہ ور سیراب ہیں

جنازے کا کرب

روک دو سب گھڑیال، کاٹ دو ان ٹیلیفونوں کو
چُپ کرا دو سب کتوں کو منہ میں ڈالے تر نوالوں کو
گُھونٹ ڈالو گلے سب پیانوؤں کے، اور گُھٹے گُھٹے سے ڈھول کی تھاپوں میں
لے آؤ باہر میت کو، اور آنے دو گِریہ داروں کو