جب میں ہارا تھا

جب میں ہارا تھا
جب میں ہارا تھا
میں بوتل میں بند کیڑا ہوں
پانی کے الٹے گلاس میں بلبلاتی مکڑی
اب آپ مجھے دیکھ سکتے ہیں
مگر آپ مجھے نہیں دیکھ سکتے
البتہ میں تمہیں
بارشوں کی موسیقی
اور بادلوں کی ہچکیوں میں
آج بھی دیکھ رہا ہوں
دو قدیم نو آموز رقاص
ٹوٹتے سروں میں ایک سے دوسرے میں
تحلیل ہوتے ہوئے

 

میری تمام ڈوریوں کے سرے
یہ میرے کیڑے بننے سے ہزاروں سال پہلے کی بات ہے
جب مجھے یقین تھا
تم خلائی مخلوق ہو
تمہارا ستارہ
تم ہی میں بند ہے
تمہیں ستارے سیارے اچھے لگتے ہیں
تب میں بھی ایک سیارہ تھا
لیکن اب بات بدل گئی ہے
تقدیر کے حاشیوں میں
باتیں بدلنے کی ریت ابھی تک زندہ ہے
اب میں کیڑا بن کر بوتل میں سرپٹ
مکڑی کی ندامت
بس تمہیں دیکھ سکتا ہوں
خدا کرے
خدا نہ کرے
تم اوجھل ہو جاؤ

Image: Joan Miro

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

بینائی

صرف سر نہیں تھے جو کٹے تھے۔۔۔۔۔۔۔
خواہشیں تھیں جو کچلی گئی تھیں

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ

اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی

سید کاشف رضا: اگر یہ زندگی تنہا نہیں ہوتی
تو اس کے فالتو ٹکڑے
منڈیروں پر پرندوں کے لیے پھینکے نہ جا سکتے