جب وہ ڈھکوسلے کریں

جب وہ ڈھکوسلے کریں
جب ہم کچھ نہیں کرتے تو پھر ہم ڈھکوسلے کرتے ہیں۔ روزنامہ پاکستان ٹوڈے میں 4 جولائی 2015 کو ایک اہم خبر بحوالہ سماء نیوز پڑھیئے۔ انٹرنیٹ پہ دستیاب ہوگی۔ آپ کی کچھ سہولت ہم کئے دیتے ہیں۔ محولہ خبر میں وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ کی جانب سے ایک سمری پر دستخط کرنےاور کچھ لفظوں مثلاً صلوٰت، مسجد، اللہ، رسول کے انگریزی میں ترجمہ کرنے پہ پابندی لگا کے ملت کی روح کو ہائی انرجی ڈرنک دے دیا گیا۔ اس بابت رویتِ ہلال کے سرکاری افسر جناب مفتی منیب الرحمن نہایت مسرور ہیں، اور جامعہ بنوریہ کراچی کے جناب مفتی نعیم تو بہت شاداں اور فرحاں ہیں کہ کیا بات کردی وزیراعظم نے! البتہ وہ پریشان سے دِکھے اور بولے کہ اس اہم اور نہایت اشد ضروری ضابطہ بندی کی گو کہ بہت لمبے عرصے سے ضرورت تھی، پر اس پر پوری تندہی عملدرآمد کو یقینی بنایا جانا چاہیئے۔

اسی مردِ مومن کے عہد 1985 میں پی ٹی وی پہ پہلی بار اس وقت کے ایک معروف اینکر نے "خدا" کو چھوڑ کے "اللہ حافظ" کو بزور کہا۔ اور اس کے بعد پی ٹی وی کو اسی پہ جڑے رہنے کی ہدایات مل گئیں۔
خیال آیا کہ اس ترقی یافتہ زمانے میں پاکستان کے دارالخلافہ میں اسلام زندہ کرنا کتنا آسان کردیا گیا ہے۔ اکیسویں صدی عیسوی کے چڑھے سولہویں سال میں محض سمری پہ دستخط کیجئے۔ اللّہ اللّہ خیر سلا ! زندہ ہو گیا اسلام ۔ کیسا آسان ٹوٹکہ پایا، سمری پہ دستخط کرکے ہی مجتہد و مجاہد بن گے۔

تو جناب تقریبِ دستخطی سے یہ یقینی بنا دیا گیا ہے کہ کوئی نماز، مسجد، رسول اور اللّہ کی انگریزی میں ترجمہ کرنے کی شرارت اور شرانگیزی سے باز رہے مبادا 'کیریکٹر ڈھیلا' کی نرم تعزیر اور 'تکفیر' کی جیّد و کرخت ضرب کاری اور آتش فشانی کرنے میں کوئی شک باقی نا رہے گا۔

وزیر اعظم کی اس اولو العزمی سے یادداشتوں کے کچھ دریچے کھلے۔ کچھ عشرے پہلے جناب وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کے "روحانی ابا جانی" یعنی کہ مولانا جنرل ضیاالحق نے فارسی سے عربی کی طرف ہجرت کی تھی۔ اسی مردِ مومن کے عہد 1985 میں پی ٹی وی پہ پہلی بار اس وقت کے ایک معروف اینکر نے "خدا" کو چھوڑ کے "اللہ حافظ" کو بزور کہا۔ اور اس کے بعد پی ٹی وی کو اسی پہ جڑے رہنے کی ہدایات مل گئیں۔ اور حالات اس نہج کو پہنچے کہ "آج" والے اجمل کمال صاحب کو یہ ایک جگہ یہ لکھتے ہوئے پایا گیا:

"یہاں پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ شاید جلد ہی بیدی کی کہانی رحمٰن کے جوتے کا عنوان بدل کر عبدالرحمٰن کے جوتے رکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگے۔ خدا کو پہلے ہی سے دیس نکالا دیا جا چکا ہے (میرے گنہگار کانوں نے تو کفر ٹوٹا اللہ اللّہ کر کے جیسی باتیں بھی سنی ہیں؛ خدا حافظ کی جگہ اللّہ حافظ کہنے کے جنونی اصرار سے بیزار ہوکر بہت سے لوگوں نے پنجابی کا سبک فقرہ رب راکھا استعمال کرنا شروع کردیا ہے)۔"

یہاں پاکستان میں تو یہ عالم ہے کہ شاید جلد ہی بیدی کی کہانی رحمٰن کے جوتے کا عنوان بدل کر عبدالرحمٰن کے جوتے رکھنے کا مطالبہ کیا جانے لگے۔
یہ وہی روحانی ابا جانی ہیں جنہوں نے "قرارداد مقاصد" کو آئینِ پاکستان کے تعارفی صفحے سے مزید ترقی دے کر آئین کی عمارت کے اندر پلاٹ الاٹ کر دیا۔ اِنہیں ابا جان نے آئین میں 62 اور 63 کی شقیں داخل کرائیں۔ انہیں شقوں کی رُو سے عوامی نمائندوں کے لیے "صادق" اور "امین" کا درجہ پاس کرنا ضروری ٹھہرا تھا۔ اگرچہ جنرل صاحب نے خود اپنی عملی مثال سے بتا دیا تھا کہ " یہ ہوتی ہے صداقت اور یہ ہوتی ہے امانت" جب انہوں نے نوے روز کے بعد عام انتخابات کے وعدے کو ہر چند ماہ بعد بلکہ دن میں پانچ بار سے بھی زیادہ ترو تازہ کیا۔ بالکل اس دکاندار کی طرح جس نے لوگوں کو ادھار کا تقاضا کرنے سے روکنے کے لیے لکھا ہوتا ہے، "آج نقد، کل ادھار"، اور یہ کل کبھی نہیں آتی۔ ہیں آپ کیا سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے وعدہ خلافی کی؟ بھئی وعدہ توڑا کب تھا جو آپ کہیں کہ وہ صادق اور امین نا رہے، انہوں نے تو بس وعدہ آگے کو دھکیلا۔ بھلا اس سے کیا زد پڑتی ہے صداقت اور امانت کی 62 اور 63 پہ!

وزیر اعظم کے انہی ابا جان کی "صداقت اور امانت" گیارہ سالوں پہ محیط لمبی ٹیسٹ سیریز کی سالگرہ کا کیک کاٹنے سے عین ایک دن پہلے یعنی چار جولائی کو میاں صاحب نے ایک بار پھر مسجد، نماز اور اللہ کے انگریزی میں ترجمے کرنے کی ممانعت کرکے اسلام کو اپنے تئیں پھر سے بچا لیا اور نافذ بھی کر دیا۔ اور ایک دوسری سطح پہ دیکھیں تو سعادت مندی اور فرزندگی کی نئی لاٹیں مارتی مثال قائم کر دی، نیا نصاب مرتب کر دیا۔ ابا چھپائیں تو بیٹا لے آئیں، نئی بوتل میں وہی پرانا مشروبِ مشرق!

تو اب جناب آپ کو اردو اور انگریزی میں سوچتے، بولتے اور لکھتے، چھاپتے اور چھپواتے وقت اپنے آپ پہ پہرے بٹھانے ہوں گے کہ کہیں چُوک نہ ہو جائے۔ ورنہ قریب ہے کہ اپنا دین، مذہب اور ایمان ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔

اور ہاں جو حضرات و خواتین جو انگریزی زبان پر اپنے خیال و افکار لاد کر لے جانے کا کام کرتے ہیں وہ تو زیادہ ہی محتاط ہو جائیں۔ وہ تو پہلے ہی نشانے پر ہیں کہ یہ کیوں ابھی "خدا حافظ" اور "ہیلو، ہائے" پہ ہی ٹِکے ہوئے ہیں۔ انہیں کیونکر زیادہ محتاط رہنا ہوگا؟ بھئی انگریزی لکھتے بولتے کہیں اتنے سالوں کی مشق کے بعد کہیں منہ سے مسجد کی بجائے mosque نکل گیا، رسول کی جگہ prophet نکل گیا یا کہیں اللّہ کو God کہہ بیٹھے تو قانون شکنی کی ذمہ داری آپ کو جھیلنا پڑھ جائے گی۔

جی کیا؟ ہم بھی انگریزی پڑھاتے ہیں۔ صاحب شکریہ ہماری فکر کرنے کا۔ ہماری ذاتی طور پہ تو خیر ہی ہے کیونکہ ہم نے تو کب کی انگریزی میں لکھنا ترک کر دیا؛ پڑھتے بھی ہیں تو چھپ چھپا کے۔ قانون تو اب بنا ہے پر ہم نے تو انگریزی بولنا اور لکھنا اس دن ہی بند کر دیا تھا جب اس عہد کے بقراطِ پاکستان جناب اوریا مقبول جان نے کامران شاہد کے دنیا ٹی وی پر پروگرام جناب پرویز ہود بھائی کے ساتھ "مُتکّے" میں کہا تھا کہ انگریزی صرف اوریا مقبول جان کو ہی آتی ہے کیونکہ اس نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہوا ہے، پرویز ہودبھائی تو جاہل مطلق ہے۔ اور تو اور جناب انصار عباسی کی عاقل اور بالغ گواہی اس پہ مستزاد کہ اوریا مقبول کی انگریزی کے آگے سب خلاص۔

تو اب جناب آپ کو اردو اور انگریزی میں سوچتے، بولتے اور لکھتے، چھاپتے اور چھپواتے وقت اپنے آپ پہ پہرے بٹھانے ہوں گے کہ کہیں چُوک نہ ہو جائے۔ ورنہ قریب ہے کہ اپنا دین، مذہب اور ایمان ہاتھ سے گنوا بیٹھیں۔
سو ہم نے تو اسی دن ہی اپنی ناک، ٹانگ، گردن اور بازوؤں کو بچانے کے لئے انگریزی لکھنا پڑھنا چھوڑ دیا تھا کہ ہم بھی پرویز ہود بھائی کی طرح جاہل ہی ہیں کہ ہمیں ملالہ یوسفزئی کی کتاب میں وہ چیزیں نہیں مل پائی تھیں جو ان ہر دو صاحبانِ کشف کو مل گئی تھیں۔ حتیٰ کہ ہم نے تو اپنے طالب علموں کو انگریزی بھی اردو اور عربی میں پڑھانا شروع کردی تھی۔ اب کی بار جو "نئے قانون" کی سمری پہ جنرل ضیاء الحق کے روحانی فرزند جناب وزیرِ اعظم اسلامی جمہوریہ نے دستخط کیے ہیں تو انگریزی نا لکھنے، نا پڑھنے اور نا ہی پڑھانے کی ضرورت کئی چند ہوگئی ہے۔ تو پھر کریں گے تو کیا؟ وہی کریں گے جب کچھ نہ کرنا ہو۔ بھئی ڈھکوسلے کریں گے۔

ہم تو مضمون کو تہہ لگانے لگانے تھے پر کچھ دنوں پہلے کی ایک اور خبر ذہن میں آگئی۔ دن بدل گئے پر دماغ اور حالات نہیں۔ اسی لڑی سے ایک اور معرکہ آرائی کا تحفہ قبول کیجئے۔ یہ دسمبر 2015 کا وسط ہے۔ پشاور اسکول کے بچوں کی برسی کا دن ہے۔ قومی اسمبلی محفل آرا ہے۔ دوسرے کسی بھی ملک میں مجلس قانون ساز عام طور پر قانون سازی کا خشک کام کرتی ہیں، عاملہ اور اس کے اداروں کی بابت باز پرسی کرتی ہیں، ان کا احتساب کرتی ہیں۔ لیکن یہاں صاحبانِ کمال کی مزید لاجواب سرگرمیاں سنیں۔ یہاں شہدائے دسمبر کے متعلق کسی ادارے کی بازپرسی کرنے میں وقت ضائع نہیں کیا گیا۔ بلکہ ان معصوم اور ننھے شہیدوں کی روح کے کو ایصال ثواب فراہم کرنے کے لئے قرآن خوانی اور دعا کا تحفہ نذر کیا گیا۔ حتٰی کہ اسی بے عملی کے صدقے کئی اور پڑھنے کے لئے گئے بچے اور نوجوان نا چاہی شہادتوں سے سرفراز ہوچکے ہیں۔ ابھی چارسدہ کے جوانوں کی قبروں کی مٹی خشک تو نہیں ہوئی۔

اسمبلیوں میں موجود نمائندوں سے شاید ہمیں قرآن خوانیوں سے زیادہ وہ کچھ چاہئے جو ان اسمبلیوں کا اصل کام ہے، ورنہ قرآن خوانیاں اور نعتیں تو ہم خود بھی پڑھ لیتے ہیں۔ ان کا کام اسمبلیوں کی کاروائیوں میں نعت اور درس حدیث کو شامل کروانا یا انگریزی میں مقدس اصطلاحات کے تراجم پر پابندیاں لگوانا اتنا زیادہ ہر گز نہیں جتنا اُس اللہ اور اُس کے رسول (ص) کے ماننے والوں کے روح و جسم کا ناتہ برقرار رکھنے کے سلسلے میں احتساب و عمل کا ہے۔ ورنہ کہنے والے تو مجبوراً کہیں گے کہ: جب وہ کچھ نہیں کرتے تو پھر محض ڈھکوسلے ہی کرتے ہیں۔ ان کہنے والوں کو اپنے عمل سے خاموش کرائیں نا کہ اپنے سے غیر وابستہ و غیر متعلقہ روحانی کارگزاریوں سے۔
Yasser Chattha

Yasser Chattha

The author teaches English at Model College for Boys Islamabad. In the past he was affiliated with Council for Social Sciences Pakistan. His translation of English poetry has recently been published as a book.


Related Articles

بلوچ عورت کی تحریک

ایک روایتی معاشرہ بھی عجیب ہوتا ہے ؛اپنے رواجوں روایتوں میں سب اچھائیاں تلاش کرتا رہتا ہے۔

انسانی جان حرمت رسول سے زیادہ مقدس ہے-اداریہ

اداریہ: اسلام اور پیغمبر اسلام کی حرمت، تقدس اور اہمیت کسی بھی طرح ایک انسان کی زندگی سے زیادہ مقدس نہیں۔ مذہب، مقدس شخصیات اور مذہبی کتب کا احترام اپنی جگہ لیکن اس بناء پر انسانی آزادیوں اور حقوق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

وہ جن کا نام کسی فہرست میں نہیں

کہنے کو تو یکم مئی مزدوروں کا دن ہے اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ پورے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے۔