جرم ناتمام

جرم ناتمام
آج کل پاکستان میں جہاں بلدیاتی انتخابات کا شوروغوغا ہے وہیں دنیائے کرکٹ میں محمد عامر کو قومی ٹیم میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث جاری ہے۔ سابق کھلاڑی اور ماہرین طرح طرح کی آراء کا اظہار کر رہے ہیں کچھ کا خیال ہے کہ محمد عامر نے اپنے کیے کی سزا بھگت لی ہے تو اسے اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بنیاد پر قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق ہے جبکہ دوسری طرف کچھ سابق کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ محمد عامر نے ملک و قوم کو بدنام کیا ہے تو اسے ملک کی نمائندگی کا کوئی حق نہیں ہے۔ اسی طرح کسی کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں محمد عامر کی شمولیت سے ایماندار کھلاڑیوں سے زیادتی ہوگی، تو کوئی کہہ رہا ہے کہ محمد عامر اور اس کے ساتھ ملوث دوسرے کھلاڑیوں سلمان بٹ اور محمد آصف کو عبرت کا نشانہ بنانا چاہیے اور ان پر تا حیات کھیلوں میں حصہ لینے پر پابندی لگائی جانی چاہیئے۔ کچھ ماہرین اس سلسلے میں یہ منطق بھی دیتے ہیں کہ ہمارے ملک کرکٹ کا اتنا ٹیلنٹ موجود ہے تو ان سزا یافتہ کھلاڑیوں کو دوبارہ ٹیم میں شامل کرنے کا کیا جواز؟ اور بعض کا خیال ہے کہ اس سے قومی ٹیم کے دوسرے کھلاڑیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض لوگوں کے خیال میں محمد عامر کے علاوہ ملک میں اس قدر ٹیلنٹ موجود ہے اور ان نئے کھلاڑیوں کو کھلایا جانا زیادہ ضروری ہے۔

کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟
خیر ان سب باتوں کو چھوڑ کر پہلے تو میں اس بات پر پریشان کن حد تک ششدر و حیران ہوں کہ ہمارے ملک میں کرکٹ کے جس بے پناہ ٹیلنٹ کا غلغلہ ہے وہ کہاں ہے؟ یہ نہ کبھی ہمیں قومی ٹیم میں نظر آیا نہ ہی کہیں ڈومیسٹک سطح پر۔ ٹی وی پر دکھائے جانے والوں میچوں میں وہی پرانے عمر رسیدہ کھلاڑی ہی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں، ٹیلنٹ ہے تو رفعت اللہ مہمند کو 40 سال کی عمر میں کھلایا جاتا؟ حالیہ برسوں میں جتنے کھلاڑیوں کا مواقع ملے ان میں سے کون بین الاقوامی سطح پر اپنا نام بنا پایا؟ یا کون تکنیکی لحاظ سے اس قدر اچھا تھا کہ ہم اسے بلند پائے کا بلے باز کہہ سکیں؟ اگر ٹیلنٹ ہے تو آج تک انضمام الحق، محمد یوسف، وسیم اکرم، وقاریونس، عبدالرازق، شعیب اختر، سعید انور، عامرسہیل کے متبادل میسر نہیں آ سکے؟ کیوں آج تک ہمیں مستقل افتتاحی بلے باز نہیں مل سکے؟ کیوں ہماری ٹیم میں کسی بلے باز کی جگہ مستقل نہیں ہے۔ کیوں ٹیلنٹ کے نام پر عمر اکمل جیسا 'بلے باز' گزشتہ 7 سال سے قومی ٹیم کے ہمراہ ہے جس کی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں اوسط محض 35 اور 34 ہے اور ہم نے اسے 111 ایک روزہ میچ کھلا دئیے۔ کیوں ہم آل روانڈرکے نام پر سہیل تنویر کے نازو نعم اٹھا رہے ہیں جس کی بیٹنگ اوسط ناقابل ذکر اور اور باؤلنگ اوسط بھی 63 اور36 کے قریب ہے اور صاحب کا اکانومی ریٹ بھی کوئی خاص متاثر کن نہیں۔ جونیئرز اور نئے آنے والوں کا تو حال ہی کیا ہمارے سنیئر بلے باز محمد حفیظ 173 ایک روزہ میچز کھیل چکے ہیں اور ان کی بیٹنگ اوسط محض 32 ہے جبکہ 73 ٹیسٹ میچوں میں موصوف کی اوسط 40 ہے۔

ایک وقت تھا کہ پاکستان کا تیز گیند بازی میں نام تھا، اس ملک نے عالمی معیار کے کئی تیز گیند باز دنیائے کرکٹ کو دیئے مگر اب موجودہ ٹیم میں سوائے وہاب ریاض کے کوئی اس قابل نہیں کہ وہ تسلسل سے 135 کلومیڑ فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گیند بازی کر سکے۔ صورتحال اس قدر بدتر ہے کہ گزشتہ سال پاکستان کرکٹ بورڈ نے تیز گیند باز ڈھونڈنے کا پروگرام شروع کیا اور پورے ملک سے 15 بولر چنے مگر بد قسمتی سے ایک بھی گیند باز 135 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی نہیں کر سکتا تھا۔ اور ہم رو رہے ہیں کہ یہاں بہت ٹیلنٹ ہے اور محمد عامر اگر ٹیم میں آگیا تو اس ٹیلنٹ کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی۔ کوئی سمجھائے کہ محمد عامر تو 5 سال سے کرکٹ سے باہر ہے پھر ان ایماندار اور باصلاحیت کھلاڑیوں نے اس کی جگہ کیوں نہیں لی؟ اگر اتنا ٹیلنٹ ہے تو کیوں 5 سال بعد بھی ہم محمد عامر اور محمد آصف کا متبادل نہیں ڈھونڈ پائے؟

رہی بات محمد عامر کی قومی ٹیم میں شمولیت کی تو وہ اپنے جرم کی سزا کاٹ چکا ہے اور اپنی اہلیت اور کارکردگی کی بناء پر قومی ٹیم میں شمولیت کا پورا پورا حق رکھتا ہے۔ میں کردار کے ان "اعلٰیٰ و ارفع" نمونوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کسی کو ایک جرم کی دو سزائیں دینا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک جرم کی سزا 5 سال ہو اور آپ اسے عمر قید کی سزا سنا دیں؟ یہ کو نسی کردار کی بلندی ہے کہ اگر ایک آدمی سے کوئی جرم سرزد ہو جائے اور وہ اس کی سزا بھی کاٹ لے اور اپنے کیے پر نادم بھی ہو تو پھر بھی اسے عبرت کا نشان بنانے کے لیے معاشرے سے الگ تھلگ کر دیا جائے۔

عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔
عامر کی مخالفت کرنے والے ان ماہرین کا یہ کیسا دوہرا اخلاقی معیار ہے کہ ایک طرف وہ سزا کاٹ لینے کے باوجود عامر کو کرکٹ کھیلتا دیکھنا نہیں چاہتے اور دوسری طرف 1999 میں میچ فکسنگ میں جرمانے اور سزائیں پانے والوں کو لیجنڈ کہتے ہیں ان کے ساتھ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر کرکٹ پر کمنٹری اور تبصرے کرتے کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ ہرشل گبز جن پر میچ فکسنگ کی وجہ سے ایک سال کی پابندی لگی ہمارے سابقہ کرکڑ ان کے ساتھ قومی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر کرکٹ پر تبصرے اور خوش گپیاں کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ شرمندگی اور عار ہے تو محمد عامر کے کرکٹ کھیلنے سے کہ وہ اگر پھر سے کرکٹ کے میدانوں میں آگیا تو ان کی نیک نامی پر دھبہ لگ جائے گا۔

اور جہاں تک کھلاڑیوں پر منفی اثرات کا تعلق ہے تو یہی کھلاڑی آئی پی ایل میں جانے کو ترستے پھرتے ہیں جہاں چنائے سپر کنگ اور راجھستان رائلز کے کئی کھلاڑی بشمول مالکان میچ فکسنگ سکینڈل میں ملوث پائۓ گئے۔ بنگلہ دیش جہاں پاکستان کی ہوری قومی ٹیم اپنے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ کو چھوڑ کر بی پی ایل کھیل رہی ہے اس میں ڈھاکہ گلیڈیڑ، چٹاگانگ کنگ اور بیرسال برنر کے کھلاڑی سپاٹ فکسنگ اور میچ فکسنگ میں ملوث رہے ہیں۔ اس طرح مارلن سموئیل پر 2007 میں میچ فکسنگ کی وجہ سے 2 سال کی پابندی لگائی گئی اور وہ اب ویسٹ انڈیز کی قومی ٹیم سمیت پوری دنیا کی لیگز میں کھیل رہا ہے اور کریبئین لیگ میں ہمارے سٹار کھلاڑی شاہدی آفریدی اور سہیل تنویر St Kitts and Nevis Patriots کی ٹیم اور ان کی کپتانی میں فخر سے کھیلتے ہیں۔ اسی طرح ورلڈ کپ 2003 میں منشیات کے استعمال پر شین وارن کو ایک سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا مگر پھر بھی ہمارے کھلاڑی فخر سے بتاتے ہیں کہ جناب محترم سے ہم ملے اور ان سے گینگ بازی کے گر سیکھے۔ میرے خیال سے اگر اوپر بیان کردہ حقائق سے ہمارے ملک کے کھلاڑیوں کو فرق نہیں پڑتا تو ایک محمد عامر کے ٹیم میں موجود ہونے سے بھی ان کے اعلیٰ کردار پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔
جہاں تک ملک کی بدنامی کی بات ہے تو ہاں محمد عامر کو سخت سے سخت سزا دینی چاہیے کیونکہ وہ 'پہلا شخص' ہے جس نے اس نیک نام ملک کو بدنام کیا۔ ورنہ شاہد آفریدی نے 21 کیمروں کے سامنےکرکٹ کی گیند کھانے کا شاندار کرتب دکھا کر ملک کا بہت نام روشن کیا تھا، وقار یونس، وسیم اکرم، مشتاق احمد، سعید انور اور دیگر پر میچ فکسنگ پر جرمانے ہوئے تھے اور وہ ان میں سے وقار اور مشتاق احمد قومی ٹیم کے کوچ ہیں اور وسیم اکرم پاکستان سپر لیگ کے سفیر۔ یہ بھی ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا گیا۔ محمد آصف کو منشیات کیس میں دبئی بدر کیا گیا وہ پھر بھی ہماری ٹیم کا حصہ رہا۔ پا کستان کا نام تو 1993 کے دورہ ویسٹ انڈیز میں بھی بہت روشن ہوا تھا جب، وسیم، وقار، عاقب اور مشتاق نے منشیات رکھنے کے جرم میں ایک رات جیل کاٹی اور اس وجہ سے ٹیسٹ میچ ایک دن بعد میں شروع کرانا پڑا۔ ہمارے محترم ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کے لیے ملک کو بدنام کرنے کا حقیقی اور واحد مجرم صرف محمد عامر ہی ہے، کیوں کہ وہ اپنے شرمناک ماضی کا سامنا نہیں کر سکتے اسی لیے اسے عبرت کا نشان بنا کر کرکٹ کے میدانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دور کر دیا جانا چاہیے۔۔۔ محمد عامر کی واپسی کے مخالفین کے اپنے مفادات محض کرکٹ بورڈ اور اس کے ہر فیصلے کی مخالفت سے وابستہ ہیں۔ ان حضرات کے ٹی وی پروگرام پاکستانی ٹیم کے جیتنے سے نہیں ہارنے سے چلتے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ کرکٹ کی بہتری کی بجائے مزید انحطاط کے خواہاں ہیں۔

Related Articles

FIFA Fever: World Cup 2014 Preview

FIFA world cup 2014: A Preview of the Current Situation & Upcoming Matches

میں جنگ کے خلاف ہوں لیکن۔۔۔۔

تصنیف حیدر: جب بھی کہیں کوئی موت ہوتی ہے، ہمیں اس کا دکھ منانا چاہیے، دکھ اس معاملے میں کہ آج ایک پھول پک کر، سڑ کر، پچک کر زمین پر گرپڑا ہے۔

پل بھر کے لیے کوئی ہمیں پیار کر لے، جھوٹا ہی سہی

حمیرا اشرف: جو پیار نہیں کرپاتا، یا جسے کوئی لائق پیار نہیں سمجھ پاتا وہ ایک اور ہی فارمولے پر چل نکلتا ہے۔ ہاں اب سب کو روکنا ہے