جمہوری حکومت کا غیر جمہوری چہرہ

جمہوری حکومت کا غیر جمہوری چہرہ
پاکستان میں آج کل جمہوریت نامی چڑیا کا چرچا زور و شور سے جا ری ہے ایک دو فسادیوں کے علاوہ تمام جمہوریت کی علمبردار پارٹیاں جمہوریت کو بچانے کے لئے میدان سجائے بیٹھی ہیں اور اس کی ثناء خوانی میں رطب اللسان ہیں۔ دن رات ٹی وی ، اخبارات ، چائے خانوں اور بٹھکونں میں ڈھونڈورا پیٹا جا رہا ہے کہ کچھ نادان، دیوانے فسادیوں سے اس معصوم اور نئی نویلی دلہن کو شدید خطرہ ہے سو اس جمہوریت کو بچانے کے لئے ملک کے سب دانشور، سول سوسائٹی اور تمام سیاسی پارٹیوں کو متحد ہو کر ان جمہور دشمن افراد کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہوگااور جمہوریت کو تاریخ کے اس عظیم خطرے سے بچانے کے لئے تمام سیاسی پارٹیاں اپنے سیاسی مفادات سے بالا تر ہو کر جمہوریت کے علَم تلے جمع ہو رہی ہیں، حتٰی کہ وہ روائتی سیاسی حریف بھی جو کل تک نظر اٹھا کر ایک دوسرے کی شکل دیکھنا گورا نہیں کرتے تھے اور جنہیں سڑکوں پر گھسٹنے اور سرعام اُلٹا لٹکانے کی باتیں کی جاتی تھیں انہیں بھی صرف اس عظیم مقصد کی خاطر گھر بلا کر ہرن کے گوشت سے تواضع کی جا رہی ہے اور ان سے اس مقدس نظام کو بچانے کے لئے صلاح مشورے کئے جارہے ہیں۔ میں حیران ہو کہ یہ لوگ کونسی جمہوریت کی بات کر رہے ہیں ؟ کیا یہ پاکستان میں پائی جاتی ہے؟ کیا جمہوری نظام کے ثناخوان یہ بنیادی نقطہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر جمہوریت کو ماپنے پرکھنے کے پیمانے اصولی اور نظریاتی نہیں بلکہ ان کی روزمرہ معیشت اور شہری سہولیات کی فراہمی پر مبنی ہیں۔
کیا جمہوری نظام کے ثناخوان یہ بنیادی نقطہ بھول گئے ہیں کہ پاکستان میں عوامی سطح پر جمہوریت کو ماپنے پرکھنے کے پیمانے اصولی اور نظریاتی نہیں بلکہ ان کی روزمرہ معیشت اور شہری سہولیات کی فراہمی پر مبنی ہیں۔
ایک عام پاکستانی نے جوجمہوری حکومت اس ملک میں دیکھی ہے اس میں ملک کے دوسرے بڑے شہر میں پولیس رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر مخالف جماعت کے معصوم اور نہتے افراد پر گولیاں چلا کر 16 نعشیں گرا کر اورسینکڑوں افراد کو زخمی کر کے اس جمہوریت کا علم بلند کرتی ہے پھر اس جمہوریت میں یوں بھی ہوتا ہے کہ ملک کے کسی تھانے، عدالت میں ان مظلوموں کی آہ پکار نہیں سنی جاتی اور نہ کسی قسم کی ایف آئی آر کا اندراج کیا جاتا ہے۔ حکومت وقت اتنے بڑے سانحے پر بھی خواب خرگوش میں رہتی ہے اور اس پر اپنی لاعلمی کا اظہار کرکے اپنے جرم سے بری الذمہ قرار پاتی ہے۔
جس رائج الوقت جمہوری حکومت کو ایک عام شہری دیکھتا ہے اس میں اظہارِ رائے کی آزادی کا گلا ایسے گھونٹا جاتا ہے کہ اگر حکومت وقت کے خلاف کوئی سیاسی پارٹی یا افراد کسی بھی طرح کا احتجاج کر نے کا ارادہ بھی کرلے تو اس جرم کی پاداش میں ہزاروں افراد کو امن کے لئے خطرہ قرار دےکر گرفتار کر لیا جاتا ہے اور ملک بھر میں کنٹینر اور دیگر رکاوٹیں لگا کر عوام کو محصور کر دیاجاتا ہے۔
اس نام نہاد جمہوری حکومت میں پولیس سیاسی مخالفین کو ڈرانے، دھمکانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے علاوہ حکمران خاندان کو تحفظ کے نام پروٹوکول دینے جیسے کاموں پر مامور ہوتی ہے۔ NAB,PIA,اور WAPDAسمیت پندرہ اہم قومی اداروں کے سربراہان تعینات نہ کر کے اور کئی کئی وزارتیں اپنے پاس رکھ کر مہنگائی سے بے حال اور غربت کی ماری قوم کا پیسہ" بچایا" جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے جیسے موجودہ وزیراعظم فرضِ منصبی محض یہ ہے کہ وہ تمام اہم وزارتوں اور اعلٰی عہدوں پر اپنے خاندان اور برادری کے لوگوں کو فائز کرے ۔حکمران ملک کے روشن مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے کھربوں روپے کے اثاثے باہر رکھتے ہیں اور دوسرے ممالک کے لوگوں کو ملک میں سرمایہ کاری کرنے کا کہتے ہیں۔ اپنے اربوں ڈالر باہر کے بینکوں میں محفوظ کرکے دنیا بھر میں کشکول لیے پھرتے ہیں۔ اور اس جمہوریت میں ایک جمہوری ملک کا دارالحکومت فوج کے زیرِ انتظام ہوتا ہے اور ہر چھوٹی بڑی بحرانی کیفیت میں ذمہ دار اداروں کی بجائے فوج کو بلایا جاتا ہےاور اس جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہر دو ہفتے بعد سپہ سلاروں سے ملاقات بھی ضروری خیال کی جاتی ہے۔
اس منتخب حکومت کا حُسن تو دیکھیے کہ ملکی قانون پر اس قدر سختی سے "عمل "کیا جاتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے گھر پر مامور پولیس اہلکار گھر میں لگے درخت سے دو امرود توڑ کر کھا لیں یا پھر وزیر اعظم کے گھر کا پالتو مور کسی جنگلی بلے کا شکار بن جائے تو ان سنگین جرائم کی بناء پر کئی افسران اور پولیس اہلکار اپنی وردیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
اس جمہوری حکومت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ انصاف کی فراہمی کے لئے کوئی بھی ایم پی اے (بشرطیکہ اس کا تعلق حکومتی جماعت سے ہو) اپنے مسلح ساتھیوں سمیت دن دیہاڑے تھانے پر حملہ کر کے بے گناہ افراد کو چھڑا سکتا ہے۔ اگر کوئی وزیرقانون اپنے یا اپنے وزیر اعلٰی کے نام پر پیسے مانگے تو اس کو اس کا قانونی حق سمجھ کر درگزر کر دیا جاتا ہے۔ کھلے عام غیر جمہوری عناصر کو جمہوریت کا سبق پڑھانے کی غرض سے گلو بٹ، پومی بٹ اور بلو بٹ جیسے جمہوری رضاکار بھی جمہوریت کے فروغ کے لئے حکومت کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔
اس منتخب حکومت کا حُسن تو دیکھیے کہ ملکی قانون پر اس قدر سختی سے "عمل "کیا جاتا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے گھر پر مامور پولیس اہلکار گھر میں لگے درخت سے دو امرود توڑ کر کھا لیں یا پھر وزیر اعظم کے گھر کا پالتو مور کسی جنگلی بلے کا شکار بن جائے تو ان سنگین جرائم کی بناء پر کئی افسران اور پولیس اہلکار اپنی وردیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ انتخابی مہم کے دوران قوم سے کئے وعدوں کو جوشِ خطابت کہہ کر فراموش کر نا کس قدر آسان ہے ۔جب سب نظامِ مملکت اتنے بہترین جمہوری انداز میں چل رہا ہے تو میں بلا کسی خوف وخطر اور شش و پنج کے یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ جناب عمران خان اور طاہر القادری جو اس جمہوریت اور نظام سے بغاوت کر رہے ہیں اور اسے اکھاڑ پھینکنے کی باتیں کر رہے ہیں فسادی اور کسی حد تک حق بجانب ہیں۔ اگر جمہوری حکومت اپنے جمہوری مناصب کار کی ادائیگی میں ناکام ہو گی تو پھر ایسے غیر جمہوری طریقوں سے حکومت کی تبدیلی کو عوامی حمایت حاصل ہونا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ماضی میں ہم جمہوری حکومتوں کی عوامی تحریکوں اور فوجی بغاوتوں کے ہاتھوں برطرفی پر عوام کو ایسے غیر جمہوری اقدامات پر خاموش ہوتا دیکھ چکے ہیں کیوں کہ عوام کے لئے جمہوریت پارلیمان سے زیادہ روزمرہ زندگی گزارنے کی آسائشوں کی فراہمی کا نام ہے۔ انہیں حکومت کے آنے یا جانے سے زیادہ اپنے مسائل کے فوری حل کے طریقہ کار سے مطلب ہے۔

Related Articles

مقامات مقدسہ کا انہدام اور مجرمانہ خاموشی

ہرسال حج کے لیے آنے والے یاتریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر " تقدس اور روحانیت میں ملبوس صحرائی شہر" اب فلک بوس عمارتوں ، شاپنگ مالز اور پرتعیش شاندار ہوٹلوں پر مشتمل ایک جدید شہر میں تبدیل ہوتا جارہا ہے ۔

فائدہ کس میں ہے؟

نظریاتی سیاست ہمارے ملک میں ناپید ہوچکی ہے، کسی زمانے میں جب کسی سیاسی جماعت کے بارے میں بات کی جاتی تھی تو ساتھ ہی یہ بھی ذکر ہوجاتا تھاکہ فلاں جماعت دائیں بازو کی ہے اور فلاں جماعت بائیں بازو کی ہے(عام طور دائیں بازو سے مراد قدامت پرست اور بائیں بازو سے مراد ترقی پسند لیا جاتا ہے)، مثلاً جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان مسلم لیگ اور جمعیت علمائے اسلام دائیں بازو کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی بائیں بازو کی جماعتیں کہلاتی ہیں، ان جماعتوں کے کارکنوں یا اُن کے حامیوں کے بارے میں کہا جاتا ہےکہ اُن کے خیالات یا اُن کی سوچ دائیں بازو یا بائیں بازوکی ہے (ان لوگوں کو رائٹسٹ اور لیفٹسٹ کہہ کر بھی پکارا جاتا ہے)۔

Death of Rationality

Fazal Muhammad Khan In the follow up of my articles “Why Balochistan’s Mama Qadeer is on Long March” published in