جنتی وصال

جنتی وصال

youth-yell-featured

لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔ مرحوم کی وفات سے جہاں اُن کے دو بچے یتیم ہوئے، وہیں مولانا سمیع الحق (المعروف مولانا سینڈویچ)، مولانا فضل الرحمان( عرف مولانا ڈیزل)، مولانا منور حسن (قتال فی سبیل اللہ والے)، گلبدین حکمت یاراور سراج الحق کے ساتھ ساتھ ہزاروں معلوم اور نامعلوم مجاہدین، اچھے اور بُرے طالبان اور درجنوں خُودکُش حملہ آور یتیم ہوگئے ہیں ( اگرچہ حقیقت میں ان کے سرپرست اب بھی وطن عزیز میں موجود ہیں)۔ خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں "جنرل صاحب" کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی۔
خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں "جنرل صاحب" کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی
حمید گل کی اس 'خبرناک' موت پر کچھ سیاست دانوں کو دلی صدمہ پہنچا اسی لیے تو جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے حمید گُل کے موت کو قومی سانحہ قرار دیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں جناب عمران خان صاحب تو دکھ میں یہاں تک کہہ گئے کہ "حمید گل سب سے عظیم محب وطن تھے"۔ لیکن افغانستان اور پاکستان کے 'نادان' پشتونوں کے پاس اس 'مرد مجاہد' کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ حمید گل کی قدر اور اہمیت سے بے خبر کچھ نوجوان قندھار، کوئٹہ، کابل اور پشاور میں سڑکوں پر نکل آئے اور جنرل صاحب کی موت کی خوشی میں ڈھول کی تاپ پر اتن ا ور دیگر رقص کرتے رہے۔
روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑنے والے جنرل حمید گل کا سفر آخرت بھی دیدنی تھا۔ قبر میں اترتے ہی منکر نکیرموصوف کو جنت کی طرف لے گئے جہاں کئی جواں سال حوریں اسی کی دہائی سے اپنے محبوب جرنیل کی منتظر تھیں۔ جنت کے دروازے پر کئی حوروں نے اُن پر پھول نچھاور کیے ۔ مرحبا مرحبا کہتے کئی غلمان ان کی خاطر داری کو لپکے اور اپنے نرم و ملائم ہونٹوں سے جنرل صاحب کی پیشانی مبارک اورجہادی گالوں پر بوسے ثبت کیے۔
اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں یہاں تو وہی سماں تھا جس کا نقشہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اپنے خطبات میں بیان کرتے رہے تھے۔ جنت میں شراب اور شہد کی نہروں کے آس پاس مسندوں پر مجاہدین جلوہ افروزتھے جن کے ارد گرد بھرپور جسموں والی حوریں ان کے لبوں سے شراب کے جام مس کرتی نظر آئیں۔ جنرل صاحب قدرے آگے بڑھےتو ایک شخص کو چندغلمان کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ اس شخص کا سانس پھولا ہوا تھا، سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، سینے سے بارودی جیکٹ بندھی تھی اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتا اِدھر اُدھر دوڑ رہا تھا۔ اس بھاگ دوڑ میں جناب کی پگڑی کا ایک سرا گلے میں جبکہ دوسرا زمیں پر کھنچا جارہا تھا۔ جنرل صاحب کے استفسار پر فرشتوں نے بتایا کہ یہ کابل میں خودکُش حملہ کرنے والا طالب ہے جس نے حال ہی میں کابل میں خود کُش حملہ کرکے کئی افغانوں کو 'جہنم واصل' کیا تھا۔ اس لیے جنت میں آتے ہی یہ موج مستی میں مگن ہو گیا ہے۔
اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی
جناب ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ جنت کے ایک کونے سے قہقوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ استفسار کرنے پر جنرل صاحب کو بتایا گیا کہ یہ اسامہ بن لادن ہیں جنہوں نے ایبٹ آباد کے قریب امریکیوں کے ہاتھوں زندگی کی قید سے آزادی حاصل کی تھی۔ جب سے آئے ہیں اپنی حوروں کے درمیان بیٹھے جام لنڈھاتے رہتے ہیں۔
جنت کی بالائی منزل سے بھی حوروں کے ہنسنے اور گنگنانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جنرل حمید گل کو یہ منظر دیکھنے کا تجسس ہوا۔ جونہی جنرل صاحب نے ارادہ کیا فرشتے آپ کو اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں اٹھا کر اوپر کی منزل پر لے گئے۔ سبحان اللہ! یہاں افغان جہاد کی سرخیل ہستیاں جنرل نصیر اللہ بابر، کرنل امام، بیت اللہ محسود اور کرنل امام اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے اپنی اپنی حوروں کے ساتھ مگن نظر آئے۔ ان کے ارد گرد کچھ حوریں ناچ رہی تھیں کچھ شراب کی بڑی بڑی صراحیاں ہاتھوں میں لیے جام بھر بھر کے اپنے آقاوں اورعظیم جہادیوں کو پلارہی تھیں۔ کچھ حوریں کرنل امام اور بیت اللہ محسود کی گود میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی۔ مولانا کا بیان اس قدر پراثر تھا کہ سننے والےاس ماحول تک پہنچنے کےلیے خودکُش حملے سےبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔
کچھ آگے بڑھے تو جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمان شراب کے ایک حوض کے کنارے نشے میں لت پت اوندھے منہ پڑے نظر آئے۔ فرشتوں نے بڑےادب کےساتھ جنرل ضیا کو گود میں پکڑ کر اٹھایا ۔ حمید گل کو اپنے سامنے پا کر اُن کے چہرے پر مایوسی اور غصے کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ قاہرانہ انداز میں جنرل حمید گل سے مخاطب ہوئے،" مجھے پتہ تھا کہ تم آج آنے والے ہو"۔انہوں نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا،"میں نے جو ذمہ داریاں اپنے 'فوجی اور سول شاگردوں' کو سونپی تھیں اُن میں سے کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوسکا۔ جب میں زندہ تھا تو پوری دنیا بشمول امریکہ اور اسرائیل میرے ساتھ تھی اور ہم نے نہ صرف روس کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالی بلکہ افغانستان میں بھی اپنے پاوں گاڑ لیے تھے۔ ہم نے جہاد کی برآمد شروع کر ی تھی۔ لیکن تم اور میرے دوسرے شاگرد نکمے نکلے۔"
ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے
اسی اثنا میں امیر المومنین مُلا محمد عمر اپنی حوروں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے سلام دعا کیے بغیروہاں سے گزرے۔ جنرل صاحب نے پیچھے سے آواز دی مگر مُلا نے مڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اتنے میں جنرل ضیاالحق نے اپنے مصاحبین سے پوچھا،" کیا تمہیں معلوم ہے مُلا عمر نے تم سے سلام دعا کیوں نہیں کی؟ جنرل صاحب حیران رہ گئے اور سر انکار میں ہلا دیا۔ جس پر ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ کچھ پاکستانی جرنیل طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں۔ جنرل حمید گل نے جواب دینے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ جنرل صاحب نے مزید کہا ویسے بھی پاکستان میں میرے تمام جہادی شاگرد نالائق نکلے ہیں۔ نہ تو وہ افغانستان میں تزویراتی موجودگی برقرار رکھ سکے اور نہ ہی وہ پاکستان میں میرا جہادی کاروبار چلا سکے۔ اپنے مربی کی ناراضی اور مایوسی کو جان کر حمید گل صاحب کو نہایت افسوس ہوا۔ ادب سے اپنے آقا کے سامنے کھڑے رہے اور جب ضیا الحق نے اپنی بات ختم کی تو حمید گل اجازت مانگ کر کہنے لگے،"سر! شاید یہاں آنے کے بعد آپ کو ہمارے کارناموں کاعلم نہیں ہے"۔ پھر اُس نے جنرل ضیا کی موت کے بعد اپنے جہادی ساتھیوں کے اسلام آباد کی سر بلندی کےلیے اپنے اور اپنے شاگردوں کے کارناموں پر ایک لمبی چوڑی تقریر کی ۔ جنرل حمید گل نے کہا ہم نے تو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اپنے جہادی بھائیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جنرل صاحب آپ نے کہا 'کابل کو جلنا ہوگا' اور ہم نے یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے کابل فتح کرنے کے بعد وہاں شکرانے کی نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، یہ خواہش آپ کے سیاسی شاگرد وزیراعظم میاں نواز شریف نے اُس وقت پوری کی جب ڈاکٹر نجیب اللہ کو حکومت سے ہٹانے کے بعد مجاہدین کو کابل کی تخت پر بٹھایاگیا تھا۔ آپ کی جگہ نواز شریف نے کابل جاکر شکرانے کے دو رکعت نفل ادا کیے۔
افغانستان میں مجاہدین کی پہلی حکومت ہماری مرضی سے بنی اور جب مجاہدین نے ہیرا پھیری شروع کی تو ہم نے طالبان کے نام سے وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر نجیب کوکابل میں سرعام لٹکایا۔ آپ نے ماضی میں شعیہ سنی کی جس تقسیم کا بیج بویا تھا ہماری وجہ سے آج اس کی فصل جنوبی پنجاب سے لے کر کوئٹہ تک ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ہے۔
جنرل حمید گل کی کارگزاری سن کر جنرل ضیا الحق کی مینڈک جیسی انکھوں میں چمک آگئی اور حمید گل کو گلے لگا کر کہنے لگا،" مجھےتم پر فخر ہے،شاگرد ہو تو تم جیسا، آج میں اپنی حوروں کے درمیان سرخرو ہوکر بیٹھ سکوں گا۔ تم نے جو کیا وہ میری توقعات سے بڑھ کر ہے"۔ پھر اچانک ان کے چہرے پر غم اور مایوسی کے سائے لہرانے لگےوہ حمید گل سے کہنے لگے،" مگر اب تم وہاں نہیں ہو تو کہیں ہماری پچاس سالہ محنت ضائع نہ ہوجاے؟" اس پر حمید گل نے ایک معنی خیز قہقہہ لگاکر کہا،"جنرل صاحب ! رائیونڈ کی تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے ہوتے ہوئے آنے والی کئی نسلوں تک طالبان کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں کھولے گئے مدرسے جہاد کی نرسریاں ہیں۔ ہمارا بنایا ہوا نصاب اس قوم کو تاقیامت پسماندہ، جاہل اورشدت پسند بنائے رکھے گی۔ اور ان میں کبھی بھی امان اللہ خان، باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے قوم پرست رہنما پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ ان مدرسوں کے طالب علم ہمارے دست راست اور اثاثہ ہیں۔ اب چاہے ہم انہیں امریکہ کے لیے یا امریکہ کے خلاف استعمال کریں ،یا پھر ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کو ان کے ذریعے ڈراتے رہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
( دونوں کے زوردار قہقہوں شے جنت کی فضاگونج اٹھی۔ خوشی مناتے ہوئےانہوں نے جام ٹکرائے اور لبوں سے لگا لیے)۔
Abdul Hai

Abdul Hai

Abdul Hai Aryan is a Pakistani journalist, researcher and South Asia analyst. He is CCI scholar 2013-14. he tweets @avista.kan


Related Articles

عاشق نامراد کا استعفیٰ

عشق کے مروجہ دستور کے مطابق راقم تمہارے تمام آن لائن اور آف لائن ظلم و ستم خندہ پیشانی سے برداشت کرتا رہا ہے

شرمین عبید کا آسکر اور میاں انار سلطان

دیکھو نا ابھی پھر شرمین عبید چنائے کو انہوں نے دوسرا آسکر انعام دے دیا ہے حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ ایوارڈ وہ اس گانے لکھنے والے کو دیتے جس نے لکھا تھا کہ "مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔"

دو قومی نظریہ اور دو تنازعات

اگرجناح ایک سال بعد ہم سے جدا نہ ہوتے اور مزید کچھ برس زندہ رہتے تو کیا ہوتا؟ تو پھر پورا برصغیر 15اگست کو یو م آزادی مناتا اور غالب خیال ہے کہ یہ دونوں نو آزاد قومیں جشن آزادی اکٹھے منایا کرتیں ۔