جنگِ ستمبر اورغلام جیلانی اصغر کے مشاہدات

جنگِ ستمبر اورغلام جیلانی اصغر کے مشاہدات
ستمبر 1965ء کی جنگ، جو ہندوستان کی طرف سے بغیر کسی اعلامیے کے شروع کی گئی، صرف ایک ہی محاذ پر پاکستان پر مسلّط نہ کی گئی بلکہ یکے بعد دیگرے کئی محاذوں پر گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ یہ مشکل اور اچانک فیصلہ کن مرحلہ درپیش تھا جسے فوجی قیادت نبھارہی تھی۔ سترہ روز جاری رہنے والی اس جنگ نے بہت سے سوالات دونوں ملکوں کے عوام کے لیے چھوڑے۔ چونکہ پاکستان کے لیے یہ دفاعی حکمتِ عملی کا امتحان تھا ہماری فوج نے پوری قوت سے اپنے دفاعی مقاصد کو عملی جامہ پہنایا۔ اُردو شاعری کے جنگِ ستمبر کے پسِ منظر میں ابھرنے والی نظموں کا مطالعہ کریں تو نظر آتا ہے کہ یہ صرف فوج تک محدود نہ تھا بلکہ اس دفاعی ردّعمل کا جواب ہمارے شعراء کے ہاں بھی موجود ہے۔ وہ باقاعدہ محاذوں کی تفصیلات سے باخبر تھے اور ان سے وابستہ جوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے میں جذباتی پیرائے کی معراج پر ہیں۔

اُردو شاعری کے جنگِ ستمبر کے پسِ منظر میں ابھرنے والی نظموں کا مطالعہ کریں تو نظر آتا ہے کہ یہ صرف فوج تک محدود نہ تھا بلکہ اس دفاعی ردّعمل کا جواب ہمارے شعراء کے ہاں بھی موجود ہے
چونکہ اس جنگ نے کشمیر کے مسئلے سے جنم لیا تھا اس لیے یہ سوال بھی دنیا بھر کے دانشوروں کا بنیادی سوال بنتا جا رہا تھا کہ یہ جنگ کیوں ہو رہی ہے اور کشمیر کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق کیوں نہیں ہو رہا، ورنہ یہ جنگ طول پکڑتے پکڑتے تیسری دنیا سے نکل کر عالمی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
لارڈ برٹرینڈرسل نے لکھا تھا:

"یہ بڑا ضروری ہے کہ اس جنگ سے نزاع کا کوئی مستقل حل نکلے۔ نہ یہ کہ مزید سترہ سال تک یہ ناسور رِستا ہی رہے۔ اگر ایساحل نہیں نکلتا تو پھر لازمی طور پر ایشیا میں کوئی بڑی جنگ ہو گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ استصواب کرادیا جائے کہ کشمیری ہندوستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا آزاد رہنا چاہتے ہیں، جس کی ضمانت اقوام متحدہ دے۔ بہرحال یہ حق کشمیریوں کو ملنا چاہیے۔"

(برٹر ینڈ رسل، لارڈ: مشمولہ مضمون، بھارت کی جارحیت، نقش "جنگ نمبر"،مدیر: شاہد احمد دہلوی، ص 270)

یہاں یہ سوال پہلے جنم لیتا ہے کہ کیا پاکستان پر بھارت کی یہ کھلے عام جارحیت کسی منصوبہ بندی کے بغیر اور بلا اشتعال تھی؟ کیا پاکستان اس سے بالکل بے خبر تھا؟ پاکستان بھارت کا مشترکہ بارڈر طویل ترین سرحد پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے رن آف کچھ کا معرکہ درپیش ہوا۔ یہ مرکز کے علاقوں سے دور افتادہ علاقہ تھا۔ ہفت روزہ ہلال راولپنڈی کے ایک شمارے میں لیفٹیننٹ کرنل غلام جیلانی اصغر نے چند شواہد بتائے ہیں:

"مارچ/ اپریل 1965ء میں بھارت کی طرف سے رن آف کچھ میں جارحانہ کارروائی کے بعد اس کے عزائم واضح ہو چکے تھے۔ لیکن مئی 1965ء سے اوائل ستمبر 65ء تک پھیلے ہوئے مندرجہ ذیل واقعات پاکستان کو بھارت کے ارادوں سے باخبر رکھنے کے لیے کافی تھے۔

پاکستان بھارت کا مشترکہ بارڈر طویل ترین سرحد پر مشتمل ہے۔ سب سے پہلے رن آف کچھ کا معرکہ درپیش ہوا۔ یہ مرکز کے علاقوں سے دور افتادہ علاقہ تھا۔
1۔ بھارتی وزیر اعظم کی یہ دھمکی کہ وہ اپنی مرضی کا میدانِ جنگ (محاذ) منتخب کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
2۔ مجاہدین کا مقبوضہ کشمیر میں لانچ کیا جانا (آپریشن جبرالٹر)۔
3۔اکھنور پر قبضہ کر کے بھارت کی پانچ ڈویژن فوج کو، کہ جو مقبوضہ کشمیر میں موجود تھی، محصور کرنے اور اس کی مواصلاتی لائن کاٹ ڈالنے کا قصہ (آپریشن گرینڈ اسلام)۔
4۔ 4 ستمبر 1965ء کو بھارتی وزیر اعظم کا پارلیمنٹ میں یہ بیان کہ "پاکستان کے مسلح دستے بین الاقوامی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔"‘
۵۔ 6؍ ستمبر 1965ء کو پاکستانی جنرل ہیڈ کوارٹرز (ایم او ڈائریکٹوریٹ) کی طرف سے تمام بین الاقوامی سرحدوں پر بڑی ہولڈنگ فارمیشنوں کو یہ سگنل دینا کہ وہ فی الفور ضروری "دفاعی اقدامات" کر لیں۔
اگر مندرجہ بالا صورتِ حال میں بھی کسی کو یہ اصرار ہو کہ بھارت نے 6ستمبر کو پاکستان پر "بے خبری" میں حملہ کر دیا تو وہ انہی صفحات پر اپنے خیالات کا اظہار فرمائے۔ "

(غلام جیلانی اصغر: مشمولہ مقالہ، ۶؍ ستمبر ناگہانی حملہ، ہفت روزہ ہلال، راولپنڈی، شمارہ 8 تا 12، جلد 31، ص 161)

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان بھارت کے جارحانہ عزائم کی خبر، مشکوک حالت میں ہی سہی ضرور رکھتا تھا۔ رن کچھ کا معرکہ بہت سنگین صورت اختیار کر سکتا تھا۔ بھارت کا ارادہ تھا کہ رن کے علاقے سے گزرتے ہوئے سندھ کے بڑے شہر حیدرآباد پر قبضہ کر کے پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ اس کے جواب میں پاکستان شمالی علاقے خالی کر کے مغربی محاذ پر اپنی توجہ مرکوز کرے گا جس پر سیالکوٹ، لاہور کے محاذ کھولنے آسان ہو جائیں گے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے مغربی پاکستان بھارت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ مگر یہ منصوبہ بندی کامیاب نہ ہو سکی۔
Qasim Yaqoob

Qasim Yaqoob

Qasim Yaqoob is known as a critic and Poet, he is a part of aikrozan.com. He presented his research thesis on "Urdu Shairi Pe Jango'n K Asarat" and has contributed extensively to the theory of literary criticism.


Related Articles

عورتیں جنسی جرائم رپورٹ کیوں نہیں کرتیں؟

ملیحہ سرور: بہت سی خواتین راستے میں، بازار میں، دفتر میں، کالج اور یونیورسٹی میں ہونے والی جنسی ہراسانی کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور ہیں کہ اگر وہ ایسے واقعات رپورٹ کریں گی تو انہیں پہلے سے بھی زیادہ شدید نگرانی اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

India Upholds the Redline

Beyond the optimistic reassurances of ‘vision documents’ and ‘joint statements’, and multiple photo-ops for the wide eyed imagination of world peace, what have talks with Pakistan ever achieved?

صحافت کا ننگا ناچ اور اخلاقیات کا کھمبا

کسی شیر صحافی کی شکار کرکے لائی ہوئی خبر کو گدِھوں کی طرح نوچنے اور بھنبھوڑنے والے اینکرز،تجزیہ کاروں اور مراعات یافتہ صحافیوں سے معذرت کے ساتھ !