جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

اردو نظمیں انگریزی میں
چالیس برس کے اپنے یورپ، کینیڈا اور امریکا کے قیام اور جامعات میں تقابلی ادب کی تعلیم و تد ریس کے دوران میں نے محسوس کیا کہ یہاں کے گورے اور کالے طلبہ کو اردو زبان سے یا اس کی تحریری شناخت سے واقف کروانا نا ممکن ہے۔ صرف ترجمہ شدہ حالت میں ہی اردو شاعری ان تک پہنچ سکتی ہے۔ غزل کے اشعار تو ترجمہ کی زمیں آ ہی نہیں سکتے البتہ نظم کا میدان کشادہ تھا۔ اس لیے میں نے اپنی چھہ سواردو نظموں میں سے دو سو کے قریب ایسی نظموں کا انتخاب کیا جنہیں موضوع، مضمون اور مروجہ زبان کی سطحوں پر یہاں کے طلبہ کے لیے قابل ِ قبول بنایا جا سکتا تھا ۔۔۔ چونکہ یہ نظمیں میری خود نوشت تھیں، اس لیے میں ترجمہ کاری کے عمل میں ان میں رد و بدل کر سکتا تھا۔ اور یہ کام میں نے بخوبی کیا۔ یہ نظمیں یہاں مختلف اخباروں کے ادبی ایڈیشنوں میں بھی شائع ہوئیں۔ ان کو میں نے اپنی پانچ انگریزی شعری مجموعوں میں مرتب کیا ، جو امریکا سے ہی اشاعت پذیر ہوئے۔ ستیہ پال آنند

یہ شیطاں کے بچے
یہ ’شیطانچے‘ ایک صندوق میں بند بیٹھے ہوئے ہیں
یہ صندوق ایسا طلسمات کا میوزیم ہے، ۔۔۔۔۔۔۔۔
...جو .اک شخص کندھے پہ اپنے اُٹھائے ہوئے چل رہاہے
(یہ ’اک شخص‘ میں بھی ہوں، تم بھی ہو، سب آدمی ہیں)
طلسمات کے اس پٹارے کے اندر
’سوِچ بورڈ‘ پر بیٹھے شیطانچے یہ
کسی بھی سوِچ کو لگائیں، اُتاریں
کوئی سا بٹن بھی بھی دبائیں، اٹھائیں
وہی جانتے ہیں کہ ان کا تسّلط ہے اس میوزیم پر
پٹارے سے صادر ہوئے۔۔۔۔ اور نیچے
لگاتار بے تار برقی سے پہنچے ہوئے سارے حکموں
کی تعمیل اس شخص پر لازمی ہے
جو کندھوں پہ اس کو اُٹھائے ہوئے چل رہا ہے
شیاطین کے سارے احکام میں ’’شر‘‘ کی تلقین ۔۔۔۔۔
... اوّل ہدایت ہے ۔۔۔۔ پہلا فریضہ!

یہ شیطانچے کب گھُسے تھے پٹارے کے اندر؟....خدا جانتا ہے!
(اگرجانتا ہے تو کیا اس کی اپنی
رضا اس میں شامل نہیں تھی، بتاؤ؟)
مگر نسل در نسل، لاچار، درماندہ یہ شخص۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے پٹارے میں بیٹھے ہوئے فتنہ گر غاصبوں کے
سبھی نجس و ناپاک احکام کو مانتا ہے!

تو اس شخص کی اب رہائی ہو کیسے؟
کرے کیا؟
کوئی وا گذاری؟
کوئی خوں بہا جو انہیں پیش کر کے
وہ پیچھا چھڑائے

۔۔۔۔۔۔۔۔اس طلسمی پٹارے کو دریا میں پھینکے
پھر اپنے کٹے دھڑ پہ خود اختیاری کی دستار رکھ دے!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Imps in a Box

Devil-begotten, Satan’s bastards

The imps that sit in this shuttered box

Hold sway over my body, thought and action.

The box – a rounded sphere, I carry all the time On my shoulders;

connected it is with my neck And the trunk below.

My head, the shuttered box, is imp’s haven

They sit in front of a switch board

Punching, pulling, clicking buttons

All at their own sweet will

No one tells them what to do.

Send urgent messages to the body below

To say this, to do this

Or not to say this and not to do this.

No reasons why these orders can’t be obeyed

The limbs are runners, couriers, servants

Ever ready to do their bidding.

How can I ever get rid of them?

Can I really do something? I ask myself.

The answer comes again from the magical box

No, you can’t do anything.

We are here to safeguard you.

We are your custodians

O the lower and base part of I.

True, what they say is true.

I can’t do anything to thwart their control.

They are all powerful . . . but

Suppose I take a sharp instrument

A machete—And cut my head off?

Then? Where would they be then?

Pat comes the answer from the top.

We wouldn’t let you, man. Try and see.

--

To Whom It May Concern

I am going to sever my head today, come what may!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

خدا ایک آنسو مِرا بارشوں میں بہا دے

نصیر احمد ناصر: خدا، میری آنکھوں کو نظمیں بنا دے
خدا، میری نظمیں کہیں دور دیسوں کو جاتے
پرندوں کی ڈاریں بنا دے

آدم کتبہ لکھتا ہے

بعض اوقات بڑی دلچسپ کہانی پیدا ہو جاتی ہے
اپنا کتبہ
اور کسی کی قبر کا کتبہ بن جاتا ہے

بے مصرف اور بے قیمت

لاشیں سب اٹھوا لی گئی ہیں
جتنے زخمی تھے اُن کو امداد فراہم کردی گئی ہے
جسموں کے بکھرے اعضا اب وہاں نہیں ہیں، جہاں پڑے تھے