جہنم

جہنم
مسجد کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، برقی قمقمے اور چھوٹی چھوٹی سرخ، سبز اور سفید روشنیاں مسجد کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کر رہی تھیں۔ مسجد کے داخلی دروازے پر بہت بڑابینر لگا ہوا تھا جس پر یہ الفاظ درج تھے، "ہم مولانا چراغ صاحب کے مسجد مسلماناں آمد پر تہہ دل سے مشکور ہیں۔"
مسجد کا صحن سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ لوگ وقت سے پہلے ہی اس عظیم اور شعلہ بیان مولانا صاحب کے انتظار میں آ بیٹھے تھے۔ جنہیں جگہ نہ مل سکی وہ کھڑے تھے۔ گرمی اور پسینے سے شرابور حاضرین محفل مولانا صاحب کے آنے سے پہلے آپس میں محو گفتگو تھے۔ اچانک ایک طرف سے آواز بلند ہوئی،"مولانا صاحب تشریف لے آئے ہیں"۔ مسجد کے داخلی دروازے سے لوگوں کا سیلاب اُمڈ آیا، مضبوط سیکیورٹی کے حصار اور نعروں کی گونج میں مولانا صاحب کا استقبال کیا گیا۔ مولانا صاحب مشک اورعنبر کے عطر میں ڈوبے، اعلیٰ لباس میں زیبِ تن کیے ، ہاتھ میں عصا لیےاور سر پر بیرون ملک سے کسی عقیدت مند کی تحفے میں دی ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ جانثاروں اور عقیدت مندوں میں گھرے مولانا صاحب حاضرین محفل کے نعروں کا جواب دیتے مسجد میں داخل ہوئے۔ لباس کی زرق برق بتا رہی تھی کہ وہ واقعی مولانا ہیں۔
حضور نے آتے ہی انتظامیہ کی سرزنش کی اور یہ سرزنش انتظامات میں غفلت کی وجہ سے نہ تھی بلکہ مولانا صاحب کے ساتھ مقررہ پیسوں میں کمی بیشی کی وجہ سے تھی۔ انتظامیہ نے منت سماجت کر کے اس مسئلے کو رفع دفع کیا۔ چبوترے سے اعلان کیا گیا کہ مولانا صاحب سفر سے تھوڑا تھک گئے ہیں۔ دس پندرہ منٹ آرام کے بعد سامعین کے دلوں کو اپنی نور پرور خطاب سے منور فرمائیں گے۔ مجمعے میں زیادہ تر افراد چالیس کے پیٹے سے تعلق رکھتے تھے، ان میں ایک معصوم سا بچہ بھی تھا۔ وہ یہ سب کچھ اپنی چھوٹی چھوٹی سہمی ہوئی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ پچھلے دو دن سے بھوکا تھا اور اس نے باریک اور میلے کچیلے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ اسے مذہب، شیعہ، سنی، دیوبندی اور انسانیت سے دور دور تک کوئی سروکار نہیں تھا وہ تو بیچارہ اس روح پرور محفل میں صرف پیٹ کی آگ بھجانے آیا تھا کیونکہ اس نے کسی سے سنا تھا کہ محفل کے اختتام پر لنگر کا وسیع انتظام ہو گا۔
اسے مذہب، شیعہ، سنی، دیوبندی اور انسانیت سے دور دور تک کوئی سروکار نہیں تھا وہ تو بیچارہ اس روح پرور محفل میں صرف پیٹ کی آگ بھجانے آیا تھا کیونکہ اس نے کسی سے سنا تھا کہ محفل کے اختتام پر لنگر کا وسیع انتظام ہو گا۔
مسجد کے ساتھ ملحقہ کمرے میں مولانا صاحب کی اعلیٰ کھانوں سے تواضع کی جا رہی تھی کیونکہ مولانا صاحب کو بھوک ستا رہی تھی۔ اچھی طرح سیر ہونے کے بعد مولانا صاحب داڑھی اور پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو پنڈال نعروں سے گونج اٹھا لوگوں کے چہروں پر خوشی دیدنی تھی۔ مولانا صاحب ایک ولولہ انگیز مقرر تھے اور مخالف فرقے کو آڑے ہاتھوں لینے میں اپنی مثال آپ تھے لیکن آج معمول سے ہٹ کے ان کے بیان کا موضوع ”جہنم کا عذاب تھا“۔
موضوع کا اعلان ہوتے ہی لوگوں کے چہروں پر کسی قدر مایوسی کے آثار نظر آنے لگے۔ معصوم بچے نے ساتھ کھڑے ہوئے چھوٹے مولوی صاحب سے پوچھا،" مولوی صاحب یہ جہنم کیا ہوتا ہے۔"آگے سے مخصوص انداز میں جواب دیتے ہوئے ان کے ایک حواری نے ڈانٹا، "چپ ہو جاؤ گستاخ، اُدھر مولانا صاحب کی بات سنو"۔
،مولوی صاحب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جس جہنم کی ابھی بات کر رہے تھے کیا آپ مجھے وہاں بھجوا سکتے ہیں؟ اُس جہنم میں کھانا تو ملتا ہے نا؟
مولانا صاحب نے خطاب شروع کیا تو مجمعے پوری محویت سے انہیں سننے لگا۔ مولانا صاحب نے جہنم کی اپنے مخصوص انداز میں ایسی تصویر کشی کی کہ سنتے ہی مجمعے کو سانپ سونگھ گیا گیا۔ معصوم بچہ جو بھوک کے ہاتھوں تنگ تھا بے حال تھابیان کے ختم ہونے کا انتظار کررہا تھا۔ ہر طرف سے استغفراللہ،استغفراللہ،استغفراللہ کی صدائیں بلند ہو رہی تھیں،کئی ایک پر رقت طاری تھی۔ لوگوں کے چہرے پریشانی سے لٹکے ہوئے تھے۔ مولانا صاحب نے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے فرمایا،"میرے (فرقہ کے) عظیم سپاہیوں کیوں پریشان ہوتے ہو، یہ جہنم تو فلاں فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ہے۔ تم سب تو جنتی ہو"۔ یہ سننا تھا کہ ہر طرف سبحان اللہ، سبحان اللہ کا شور مچ گیا۔ مولوی صاحب کی شان میں نعرے لگنے لگے معصوم بچہ مجمعے کے یہ تیور دیکھ کر اور پریشان ہو گیا۔
بھوک کے ہاتھوں مجبور یہ ننھا سپاہی بے ہوش ہونے کے قریب تھا کہ اس نے نحیف آواز اور اپنی معصوم سی صورت کے ساتھ سوال کرنا چاہا۔ ابھی کچھ الفاظ اس کے نازک ہونٹوں سے ادا ہی ہوئے تھے کہ لوگوں کے شور اور نفرت بھری نگاہوں نے اس کی آواز دبا دی۔ مولانا صاحب کے آدھا کلو کے دل میں شفقت کی چھوٹی سی کرن چمکی تو مجمعے کو چپ کراتے ہوئے بچے کو بولنے کا حکم دیا،" کہو بیٹا کیا کہنا چاہتے ہو"۔
بچہ جھجھکتے اور ڈرتے ہوئے بولا،"مولوی صاحب میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ جس جہنم کی ابھی بات کر رہے تھے کیا آپ مجھے وہاں بھجوا سکتے ہیں؟ اُس جہنم میں کھانا تو ملتا ہے نا؟"

Related Articles

حرامزادی

عمار غضنفر: اپنی توند تو دیکھ۔ سارا حرام مال بھر رکھا ہے۔ تیری کمپنی کی بنائی سڑک ایک سال نہیں نکالتی۔ تو تُو زیادہ ٹائم کیسے نکال سکتا ہے۔

سائے کی کہانی

اس سے پہلے بھی تین بار وہ سایہ میرا دھیان بٹا چکا تھا،ایسا لگتا تھا جیسے کہ مجھے کوئی دیکھ رہا ہے، بڑی حیرت کی بات تھی کہ میں نہ تو کھڑکی کے قریب بیٹھا تھا اور نہ ہی اگلی چھت سے کسی کے مجھے دیکھ لینے کا امکان تھا۔

ایٹوموسو

محمد جمیل اختر: وہ آوازوں سے اتنا خوفزدہ تھا کہ کانوں میں ہر وقت روئی ڈالے رکھتا لوگ اس کی حالت پر افسوس کرتے اور اس کے ماضی کی خوشگوار باتوں کو یاد کر کے آہیں بھرتے۔