"حال حوال" بلوچستان میں آن لائن صحافت کا نیا باب

کہتے ہیں کہ خواب دیکھا کریں کبھی نہ کبھی خواب حقیقت میں بدل ہی جاتے ہیں، اچھے دوست مل جاتے ہیں ،راستے بن جاتے ہیں، جو سپنے دیکھے تھے وہ پورے ہونے لگتے ہیں۔ اسی طرح ایک خواب ہم نے دیکھا تھا جسے حقیقت کا روپ دھارنے میں کافی وقت لگا۔ چند دوستوں کا خواب، بلوچستان کی سطح پر ایک آن لائن جریدے کے آغاز کرنے کا خواب۔۔۔ ایک آن لائن جریدے کی ضرورت کا احساس تو تب ہی ہو گیا تھا جب پاکستانی مین اسٹریم میڈیا میں بلوچستان کے مسائل دانستہ طور پر نظر انداز کیے جانے لگے۔ بلوچستان کی بدحالی کو لکھتے اور مٹاتے بہت وقت لگتا تھا لیکن اس بدحالی کی خبر میڈیا سے کہیں باہر دکھائی اور سنائی دیتی پر وہ میڈیا کی زیب و زینت بننے سے قاصر تھی۔ جس طرح کا رویہ وفاق کا بلوچستان کے ساتھ رہا ہے، وہی طرز عمل پاکستانی مین اسٹریم میڈیا نے اپنایا۔ حالاں کہ میڈیا اپنا مثبت کردار ادا کر سکتا تھا مگر نہ کر سکا۔ اس پر مستزاد یہ کہ بلوچستان کے لیے آواز بلند کرنے والے صحافتی اداروں کو دیوار سے لگایا گیا۔ جس میں روزنامہ آساپ پھرروزنامہ توار بعد میں اولین آن لائن انگریزی اخبار ’دی بلوچ حال‘ بھی ایسی پابندیوں کی زد میں آیا تو دوستوں نے سوچا کیوں نہ ایک نئے باب کا آغاز "حال حوال" کے عنوان سے کیا جائے۔
'حال حوال' بلوچستان کی ایک خاص اصطلاح ہے جو لگ بھگ بلوچستان کی تمام زبانوں میں یکساں مفہوم کے ساتھ رائج ہے۔ اس کا مفہوم وہی ہے جو اردو میں 'حال احوال' کا ہے۔ جب ہم نے اس نام کا انتخاب کرکے آزادی صحافت کے عالمی دن3مئی 2016کو ویب سائٹ لانچ کی تو بعض دوستوں کی جانب سے یہ اعتراض سامنے آیا کہ اسے "حال حوال" کے بجائے "حال احوال" لکھا جائے تو با معنی لگے گا۔ چوں کہ ویب سائٹ بلوچستان سے متعلق تھی تو بلوچی نام دیتے ہوئے ہمیں کوئی قباحت محسوس نہیں ہوئی اور ویب سائٹ کا نام 'حال حوال' ہی رکھ دیا گیا۔ اردو میں اگر اس کا مختصر مفہوم بیان کریں تو وہ یوں ہو گا؛حال یعنی خبر، حوال یعنی تفصیل یاتبصرہ۔

حال حوال کا آئیڈیا ہمارے دوست اور قلم کار جناب عابد میر کا تھا۔ عابد میر کئی کتابوں کے مصنف اور روزنامہ ایکسپریس سے بطور کالم نگار وابستہ رہے ہیں۔ سو، ادارت کی ذمہ داریاں بھی ان کے کندھوں پر ڈالی گئیں۔ راقم الحروف کے حصے میں خبروں حصہ آیا۔ باقی بچے دو دوست، تو ہیبتان دشتی کی ذمہ داری منیجنگ ایڈیٹر کی ہے اور ویب سائٹ کو بنانے اور سنوارنے کا کام ہمارے پیارے خالد میر نے انجام دیا۔ ویب سائٹ کی افتتاحی تقریب کوئٹہ پریس کلب میں رکھی گئی۔ یوں 3مئی2016 (آزادی صحافت کے عالمی دن) ویب سائٹ کو اس کی ٹیم نے خود اپنے ہاتھوں سے لانچ کیا اوریوں ایک خواب حقیقت میں بدل گیا۔

حال حوال کی افتتاحی تقریب

حال حوال کی افتتاحی تقریب

حال حوال کا محور و مرکز بلوچستان ہے۔ حال حوال پر 90فیصد خبریں، تبصرے اور تجزیے بلوچستان اور بلوچوں سے متعلق ہوتے ہیں۔ 3مئی کو چار دوستوں نے آن لائن جریدے کا آغاز کیا تھا، اب ایک ٹیم بن چکی ہے جس میں متعدد لکھار ی اور نامہ نگار شامل ہو چکے ہیں۔ شروع شروع میں خبروں تک رسائی، خبروں کی ایڈیٹنگ، بلوچستان کے نقطہ نظر کو دوسروں تک پہنچانے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں آسانیاں پیدا ہو گئیں۔ حال حوال کو اب نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان اور بیرونِ ملک دیکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اور اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ویب سائٹ کے حوالے سے آراء اور مضامین نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کے دیگر حصوں سے موصول ہوتے ہیں۔

حال حوال ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف حال حوال کی ٹیم اس ویب سائٹ کو رضاکارانہ طور پر چلا رہی ہے بلکہ نامہ نگاران اور مضمون نگار علاقائی خبریں اور تحریریں رضاکارانہ بنیادوں پر ارسال کرتے ہیں اور حال حوال کو فعال بنانے میں ان کا اہم کردار ہے۔

حال حوال کا میڈیم چوں کہ اردو ہے تو اس میں مواد کی اشاعت اردو میں ہی کی جاتی ہے۔ البتہ اگر کوئی ایسا مواد جو انگلش یا دیگر زبانوں میں ہو اور قارئین کی دلچسپی کا باعث ہو تو اس کا ردو ترجمہ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ حال حوال کی ویب سائٹ پر مختلف کیٹگریز بنی ہوئی ہیں۔ سیاسی حال میں سیاسی خبریں، سماجی حال میں سماجی خبریں، ادبی حال میں ادبی خبریں و مضامین، علمی حال میں علمی و تعلیمی خبریں، خصوصی حال میں اہم مضامین، منتخب حال میں دیگر اداروں میں بالخصوص بلوچستان سے متعلق چھپنے والے مضامین، تجزیے، بلاگ سیکشن میں نو آموز لکھاریوں کے مختصر تبصرے اور حال حوال میں انٹرویوز شائع کیے جاتے ہیں۔

اپنے قیام کے ابتدائی چھ ماہ کے دوران حال حوال بلوچستان کے سیاسی، سماجی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو چکا ہے، بالخصوص نئے نوجوان لکھاری اس جانب راغب ہوئے ہیں۔ حال حوال کے لیے مستقل لکھنے والوں کی تعداد اب 100سے زائد ہو چکی ہے۔ جن میں ڈاکٹر شاہ محمد مری، ذوالفقار علی زلفی، اسد بلوچ، برکت زیب سمالانی، کامریڈ فاروق بلوچ، فتح شاکر، عمران سمالانی، جلیلہ حیدر، محمد حان داؤد، منظور مینگل، قادر نصیب چھتروی، تہمینہ عباس، سلیمان ہاشم، برکت مری کا نمایاں ہیں۔ اسے عرصے میں مختلف موضوعات پر 20سے زائد اداریے شائع ہوئے۔ بلوچستان سے متعلق بامعنی اور باسلیقہ علمی مکالمے کا فروغ "حال حوال" کا بنیادی مطمع نظر ہے۔ ہم ایسے تمام خیالات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو بلوچستان کو ایک پرامن، روشن خیال اور خوش حال خطہ دیکھنے کے خواب پر مبنی ہوں۔

حال حوال میں اب تک شائع ہونے والی تحاریر کی تعداد 1600تک پہنچ چکی ہے، جب کہ اسے روزانہ کی بنیاد پر دیکھنے والوں کی تعداد 1500سے 2000 کے درمیان ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ حال حوال کے قارئین، لکھاریوں اور نمائندوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چھ مہینے پہلے جس ویب سائٹ کا آغاز کیا تھا، وہ اب بلوچستان کا نمائندہ پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ گو پاکستان اور بالخصوص بلوچستان میں حقیقی صحافت ایک خواب ہی لگتی ہے پھر بھی ہم اپنی سی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ بلوچستان کے مسائل کو سامنے لانے کی کوشش جاری رہے۔ بلوچستان کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم بلوچستان کے تمام حقیقی مسائل کو اب بھی اجاگر کرنہیں پا رہے اور نہ ہی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حال حوال بلوچستان کے صحافتی شعبے میں بلوچستان کا واحد نمائندہ پلیٹ فارم ہے لیکن اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

آپ بلوچ اور بلوچستان سے کسی پہلو سے دلچسپی رکھتے ہوں تو آپ بھی حال حوال کا حصہ بن سکتے ہیں کیوں کہ حال حوال آپ ہی کا ہے، تو آئیے حال حوال کرتے ہیں:
حال حوال کو وزٹ کریں:
www.haalhawal.com
ای میل:
haalhawal.com@gmail.com
فیس بک:
https://www.facebook.com/HaalHawal
Shabbir Rakhshani

Shabbir Rakhshani

Shabir Rakhshani has been working as a Journalist for last ten years. He is currently working as News Editor at haalhawal.com.


Related Articles

انسانی حقوق اور حریت فکر

ہر انسان انصاف ،امن ،محبت اور خوشحالی کا طلب گار ہے اور ہر فرد نا انصافی ،بدامنی ،نفرت اور غربت کو برا سمجھتا ہے۔

Punishing the Rapists - Editorial

Rape is perhaps the least reported crime in Pakistan. The recorded figures are just a thin fraction of the actual number of incidents.

Pity the Nation That Does Not Respond to the Misery of Fellow Countrymen

The headlines hungry media which has reported on Veena Malik’s piety, Meera’s silliness and things such as falling of a boy in a manhole as breaking news, has turned a blind eye to the cause of Baloch people.