حرامزادی

حرامزادی


اس نے تو کام لمبا ہی نہیں کھینچ دیا۔ کس حکیم سے دوائی لے رہا ہے آج کل؟ رشید نے مرغ کی بھنی ٹانگ دانتوں سے بھنبھوڑے ہوئے بائیں آنکھ میچی۔
معلوم نہیں یار۔ دوسری باری لگا رہا ہے۔ پتہ نہیں کیا کرنا چاہتا ہے آج۔
فرخ نے دانت نکالتے ہوئے جواب دیا۔
بہت پکی ہے یار۔ آٹھ باریاں بھگتا چکی ہے سالی اور چیں تک نہیں کی۔
صحیح کہتا ہے یار۔ ایسے تو اتنا نام نہیں ہے مارکیٹ میں۔ ورنہ تو اس فیلڈ میں ایک سے بڑھ کر ایک پیس پڑا ہے۔
پتہ نہیں کیا کھا کر پلتی ہیں یہ۔۔۔۔۔
پریکٹس میری جان پریکٹس۔ پریکٹس سے سٹیمنا بنتا ہے۔
تو ہمارا کیوں نہیں بنتا۔ ساری جوانی بیت گئی پریکٹس کرتے۔ ہمارا سٹیمنا تو بڑھنے کی بجائے کم ہوتا جا رہا ہے۔
اپنی توند تو دیکھ۔ سارا حرام مال بھر رکھا ہے۔ تیری کمپنی کی بنائی سڑک ایک سال نہیں نکالتی۔ تو تُو زیادہ ٹائم کیسے نکال سکتا ہے۔
ابے میرا منہ مت کھلوا۔ ہر سال حج کر لینے سے بندہ پاک صاف نہیں ہو جاتا۔ سب جانتا ہوں تیری کرتوتیں۔
چل چھوڑ یار۔ میں تو مذاق کر رہق تھا۔ تُو تو غصہ ہی کر گیا۔ دیکھ کیسی سکیم تھی میری۔
ایسی شیطانی سکیم تیرے ہی شیطانی دماغ میں آ سکتی ہے۔
آج پھر سٹیمنا چیک ہو گیا نا سالی کا۔ وہ بھی ساری عمر یاد رکھے گی۔
سچ کہوں تو مجھے رحم بھی آیا اس پر۔ ساری رات بھوکا پیاسا رکھا ہے ہم نے اسے اور خود باہر آ کر کھاتے پیتے رہے ہیں۔ اگر کچھ ہو جاتا اسے تو گلے پڑ جاتی۔
کچھ ہوا کیا؟ کچھ بھی نہیں ہوتا جانی۔ بڑی ڈھیٹ ہوتی ہیں سالیاں۔ ان کا تو روز کا دھندہ ہے۔ ایک ایک رات میں کتنے بھگتا دیتی ہیں۔ بڑی شہرت تھی اس کی کہ بڑے بڑے مردوں کو پچھاڑ دیتی ہے۔ آج آئی ہے ناں قابو۔
ان تینوں کو دیکھو۔ اپنی باریاں لگا کر کیسے مرے پڑے ہیں۔
اتنے میں اختر ازاربند ہاتھ میں تھامے، ڈھلکتی لوار سنبھالتا کمرے میں داخل ہوا۔اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔
کیا ہوا بے۔ ابھی دل نہیں بھرا کیا؟
بکواس نہ کر یار۔ اندر چل کر اسے دیکھو۔ مجھے لگتا ہے مر گئی۔
مر گئی۔ مذاق نہ کر یار۔
میری شکل سے لگتا ہے کہ میں مذاق کر رہا ہوں؟ میں نے اتنا ہلایا جلایا ہے۔ نہ آنکھیں کھولتی ہے نہ جسم میں حرکت ہے۔
ابے یہ کیا کر دیا تو نے۔ کون سی دوائی کھا لی تھی؟
میں نے کیا کیا ہے۔ میرا پلان تھا ساری رات بھوکا رکھ کر۔۔۔
دیکھ لے یار۔ پولیس کیس نہ بن جائے۔ میں عزت دار آدمی ہوں۔
تو ہماری تو جیسے تھانوں میں تصویریں لگی ہیں ناں۔
یار یہ کوئی لڑنے کا موقع ہے؟ آو اندر چل کر دیکھتے ہیں۔
کمرے میں عجیب سی بو میں لپٹا ایک برہنہ جسم بیڈ پر بے حس و حرکت پڑا تھا۔
یار ٹانگیں تو بند کر دیتا اس کی۔ وہیں اکڑی رہ گئی ہیں۔
اتنا ہوش تھا مجھے؟ میری تو اپنی جان نکل گئی۔
سانس تو لگتا ہے چل رہی ہے۔
ہاں سینہ تو ہل رہا ہے۔ نبض چیک کرتا ہوں۔
نبض تو لگتا ہے جیسے ڈوب رہی ہے۔
پانی ٹپکاو اس کے منہ میں۔
خرم بھاگتا ہوا کمرے سے باہر گیا اور پانی کی بوتل۔ہاتھ میں لیے نمودار ہوا۔ اس کے پپڑی زدہ ہونٹوں پر جیسے ہی پانی کے قطرے گرے اس کے ہونٹوں نے حرکت کی اور وہ اپنی خشک زبان نکال کر پانی سے تر کرنے کی کوشش کرنے لگی۔
ارشد خوشی سے چلایا۔
دیکھا میں نہ کہتا تھا۔ اتنی آسانی سے نہیں مرے گی یہ حرام زادی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

پیالہ پاؤں

تصنیف حیدر: جاسوس خود اس قصے کو پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا، مگر اس نے بیوی کو یہ کہہ کر خاموش کردیا کہ ہمیں تو اس کام کو کرکے بقیہ سات ہزار روپے لینے ہیں، ہمارا اس بوڑھے کی رنگین دلچسپیوں سے کیا لینا دینا۔

آبادی اور وسائل میں عدم توازن

اسے ریاستی ناکامی یا بدقسمتی کہیے کہ 1947ء سے لیکراب تک کی کسی بھی حکومت نے آبادی میں اضافہ کو قابو کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ اس مسئلے کو مذہبی جنونیوں ،روایتی سیاست دانوں اور رہنماؤں کے سپرد کر دیا

ذمہ دار کون؟

ہمیں بھی شاید اب ایسے آئینے کی ضرورت ہے جو ہمیں دکھا سکے کہ بسمہ اور بسمہ جیسی کئی معصوم بچیوں کی موت کا ذمہ دار کون ہے!