حرام سے حلال کا سفر

حرام سے حلال کا سفر
فلاں چیز/ فلاں کام کرنا شریعت کی روشنی میں شدید حرام ہے اور اس کی حرمت پر علماء کا اتفاق ہے۔ واللہ اعلم
 
(کچھ عرصہ بعد)
فلاں چیز/ فلاں کام کرنا شریعت کی روشنی میں شدید حرام ہے اور اس کی حرمت پر علماء کا اتفاق ہے۔ صرف چند جدیدیت زدہ نام نہاد علماء جو حقیقت میں علماء سُوء ہیں، اس کے قائل ہیں۔ اللہ ہم سب کو ان جدید فتنوں سے بچنے کی توفیق سے نوازے، آمین۔ واللہ اعلم
 
(مزید کچھ عرصہ بعد)
فلاں چیز/ فلاں کام کرنا شریعت کی روشنی میں حرام ہے اور جمہور علماء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔ صرف چند علماء نے اس کے جواز کا فتویٰ دے رکھا ہے لیکن ان کی رائے جمہور کے خلاف کوئی وقعت نہیں رکھتی۔ واللہ اعلم
 
(کچھ اور عرصہ بعد)
فلاں چیز/ فلاں کام کرنا ہمارے فہم کے مطابق شریعت کی روشنی میں مکروہ کے درجہ میں ہے۔ صرف اضطراری و مجبوری کی صورت میں اس کا کچھ جواز ہے لیکن بچنا بہتر ہے۔ اکثر علماء کی یہی رائے ہے۔ واللہ اعلم
 
(مزید کچھ اور عرصہ بعد)
فلاں چیز/ فلاں کام کرنا، اس میں علماء کے دو گروہ ہیں۔ اکثر جواز کا فتویٰ دیتے ہیں اور حرام کہنے والوں کا معاملہ احتیاط کی وجہ سے ہے۔ دین کی تبلیغ کی خاطر اس کے جواز پر کوئی اختلاف نہیں۔ واللہ اعلم
 
(آخر کار)
فلاں چیز / فلاں کام بالکل مباح اور حلال ہے، اکثر علماء کی شرعی نصوص پر غور و فکر کے بعد یہی رائے ہے۔ حرام کہنے والوں کو شریعت کے کچھ عمومی نصوص سے غلط فہمی ہوئی ہے۔ شریعت نے آسانی کا حکم دیا ہے، اس لیے ایسے کاموں کو تشدد کی راہ اپناتے ہوئے حرام نہیں کہنا چاہئے۔ واللہ اعلم
 
پس نوشت:یہ تحریر پڑھتے ہوئے چھاپہ خانے، لاؤڈ اسپیکر، منی آرڈر، تصویر، ٹیلی وژن اور بینکنگ جیسے مسائل اور ان پر بتدریج آنے والے "علمی و تحقیقی" فتاویٰ کو پیشِ نظر رکھیے۔ شکریہ

Related Articles

شاہد آفریدی کی بلے بازی کی فرضی روداد

کیچ ہو جاتا ہے اور آفریدی، ہزاروں لاکھوں لوگوں کے خدشات کے عین مطابق ہزارویں لاکھویں مرتبہ ایک ہی انداز میں آوٹ ہو کر چل پڑتے ہیں۔

قصہ نوجوانوں کی بے حیائی کا۔۔۔

بے حیائی بہت بڑھ گئی ہے، یہ جملہ میں پچھلے 20 سال سے روزانہ سنتا آ رہا ہوں؛

میرے محمد

میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کے لیے کسی اور مذہب یا کسی اور مسلک کے پیغمبر سے نفرت کرنے، ان کے خلاف نفرت آمیز سٹکر لگانے اور ان کو جہنمی سمجھنے کا محتاج نہیں ہوں