حرف

حرف

حرف
ایک حرف
ایک حرف بھی نہیں
تیرے ہاتھ کا لکھا میرے پاس
ایک حرف بھی نہیں
مجھے کیا خبر کہ تم
'س' کیسے سیتی ہو
'ر' کیسے رنگتی ہو
'م' کیسے موڑتی ہو
'د' کیسے دھرتی ہو
اور یہ یک شکل
لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

بازیابی

رضوان علی: زندہ لاشوں کی طرح
بازیابی پر
ان کے اپنے خواب بھی انھیں نہیں پہچان پاتے

ڈی این اے کی خود سے لڑائی

ثروت زہرا: علیشا سب سے پہلے
جننے والی کوکھ نے تم کو جدائی دی
عقائد نے ترے سوتک سے پاتک تک کے بارے میں
صفائی دی

خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی