حرف

حرف

حرف
ایک حرف
ایک حرف بھی نہیں
تیرے ہاتھ کا لکھا میرے پاس
ایک حرف بھی نہیں
مجھے کیا خبر کہ تم
'س' کیسے سیتی ہو
'ر' کیسے رنگتی ہو
'م' کیسے موڑتی ہو
'د' کیسے دھرتی ہو
اور یہ یک شکل
لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دعوت

مجھے آسمان کی جانب مختصر رستہ مِل گیا ہے
جس رستے پہ صرف میں چلا ہوں۔
لیکن آج تمُ بھی میرے ساتھ چلو گی،
تم میرے بازو کی سوار بنو گی

خشک نمی

عاصم بخشی: تیرے آنے میں ابھی وقت ہے اے راحتِ جاں
سینۂ خشک پہ لازم ہے کہ ایماں رکھے
تو جب آئے گی،
گھٹا چھائے گی،
بارش ہو گی

سنگترے کے بنجر پیڑ کا گیت

گارسیا لورکا کی نظم ‘Song of a barren orange tree’ کا ترجمہ