حرف

حرف

حرف
ایک حرف
ایک حرف بھی نہیں
تیرے ہاتھ کا لکھا میرے پاس
ایک حرف بھی نہیں
مجھے کیا خبر کہ تم
'س' کیسے سیتی ہو
'ر' کیسے رنگتی ہو
'م' کیسے موڑتی ہو
'د' کیسے دھرتی ہو
اور یہ یک شکل
لاکھوں مشینی ہجے
مجھے سخت بے معنی لگ رہے ہیں
ایک کلک کی مار یہ دھوکے
کتنے فانی لگ رہے ہیں۔۔۔۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے

عذرا عباس: وہ جو اپنی اپنی گلیوں کے نکڑ پر مارے گئے
وہ جو اپنے گھروں کی چوکھٹوں پر مارے گئے
مارنے والوں کے ہاتھ گوشت پوست کے کب تھے
کیا تھے؟

ماڈل اور آرٹسٹ

وجیہہ وارثی: آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو

ایک بے ارادہ نظم

نصیر احمد ناصر: بے ارادہ
پانیوں سے
آنکھ بھرتی جا رہی ہے