حزب التحریر پنجاب کا سربراہ پنجاب یونیورسٹی سے گرفتار

حزب التحریر پنجاب کا سربراہ پنجاب یونیورسٹی  سے گرفتار

campus-talks

عالم گیر سنی خلافت کے لیے کوشاں کالعدم تنظیم حزب التحریر کے صوبائی سربراہ کو پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے ہاسٹل نمبر 14 کی کینٹین سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ کالعدم تنظیم کے صوبائی سربراہ کو سوموار 20 اپریل 2015کو تنظیم کا جہادی مواد تقسیم کرتے ہوئے پنجاب پولیس نے گرفتار کیا ہے۔ مسلم ٹاون پولیس کے مطابق گرفتار شدہ فرد نے اپنی شناخت شہریار کے طور پر کرائی ہے اور اسے یونیورسٹی انتظامیہ کی اطلاع پر گرفتار کیا گیا ہے۔ "اس نے اپنا نام شہریار بتایا ہے اور یہ ایک نجی ادارے میں ملازم ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے ایک نامعلوم فرد کی جانب سے جہادی لٹریچر تقسیم کیے جانے کی اطلاع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا ہے۔" حزب التحریر کے گرفتار رکن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق اس کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور وہ مصطفی ٹاون وحدت روڈ لاہور میں ایک مکان میں کچھ عرصے سے مقیم تھا، وقوعے کے روز ملزم کوپنجاب یونیورسٹی کے طلبہ کو حکومت اور ریاست کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے جہاد میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی سے عالمی جہادی اور دہشت گرد تنظیموں کے اراکین کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل پنجاب یونیورسٹی میں اقامت پذیر القاعدہ ارکان کو بھی گرفتار کیا جاتا رہا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کے حلقوں نے اس صورت حال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس کے تدارک کا مطالبہ کیا ہے۔
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

نصاب سازی کی ایک اور مشق

ہائرایجوکیشن کمیشن کے زیر اہتمام وزیراعظم کی ہدایت پر نصاب سازی کے پہلے مرحلے کے طور پر موجودہ نصاب کی نظرثانی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔

زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈینگی ویکسین کی تیاری کے لئےتحقیق

تحقیق کے دوران حیاتیاتی مچھر مار عامل تیار کرنے پر بھی کام جاری ہے جس سے پانی کو زہر آلود کئے بغیر ڈینگی مچھر کے لاروا کو ختم کیا جا سکے گا۔

قائد اعظم یونیورسٹی ؛ امتحانات میں غلط سوالیہ پرچہ تقسیم ہونے پر پرچہ ملتوی

قائد اعظیم یونیورسٹی اسلام آباد کے تحت جاری بی-اے، بی –ایس –سی اور بی-کام امتحانات کے دوران سال سوم کے طلبہ میں سال چہارم کا پرچہ تقسیم ہونے کی وجہ سےیونیورسٹی سے منسلک 14 کالجز کے طلبہ کو پرچہ دیے بغیر گھر جانا پڑا۔