حسرت میں ملفوف ایام

حسرت میں ملفوف ایام

تارکول سڑک پہ تھکاوٹ
دھوئیں کے مرغولوں میں سے گزرتی
یونیفارم میں ملبوس چہروں پہ
مسکراہٹ اچھالتی
لفظوں اور شاعری کی گرہیں کھولتی
جامعہ کے مین گیٹ سے گزرتی ہے

بوجھ تلے دبا ناتواں وجود
کھڑے کھڑے جمع شدہ توانائی کھو کر
جب سیڑھیاں چڑھتا ھے
تقسیم علم کا معاوضہ اسے تھام لیتا ھے
ترازو میں تھکاوٹ کا پلڑا
بھاری ھو کر زمین چھو لیتا ھے
کتابوں کےحرف تتلیوں کا روپ دھار کر
تھکن بانٹتے ہیں۔

وہ کبھی پوری نیند نہیں سو پاتی
فاصلوں کو سمیٹتے پاوں
چلنے سے انکار بھی کر دیں
تو بھی
وہ چلتی رہتی ہے
صبح سے رات تک کا سفر نظمیں چھین لیتا ہے

وہ ایک جملہ لکھتی ہے
بچوں کی فی ووچر نظم پہ آ گرتے ہیں
وہ دوسرا لکھتی ہے
ونٹر یونیفارم نوٹیفیکیشن سامنے آتا ہے
الماری میں گرم کپڑے نہ پاکر
نظم کا سر کچلتی
وہ روتے روتے
کیلینڈر پہ دن گنتی ہے

ابھی تنخواہ ملنے میں
پورے پچیس دن باقی ہیں
نظم ابارشن کے مرحلے سے گزرتی ہے
وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے

Image: Irfan Gul

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

اب کوئی آواز آتی نہیں

وجاہت مسعود: جوانی کے کچھ بعد
کان بہت تیز ہو جاتے ہیں
بس ناک اور کان کے بیچ
جھولتا ہوا پل
منہدم ہو جاتا ہے
اور کوئی آواز نہیں آتی

شہ رگ کی بالکونی سے

ثاقب ندیم: خدا جو شہ رگ سے زیادہ نزدیک ہے
اس کو اپنا دکھ سنانے کے لئے
مُردوں کو جنجھوڑنے والا بہت خوش ہے

حطؔاب کہو، اب کیا بیچو گے؟

نصیر احمد ناصر: حطاب کہو !
بے کاری کے دن کیسے کاٹو گے؟
کن پیڑوں پر وار کرو گے؟